Muwatta Imam Malik #1297
[1297] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ سُئِلاَ عَنْ رَجُلٍ کَاتَبَ عَلَی نَفْسِہِ وَعَلَی بَنِیہِ، ثُمَّ مَاتَ، ہَلْ یَسْعَی بَنُو الْمُکَاتَبِ فِی کِتَابَۃِ أَبِیہِمْ، أَمْ ہُمْ عَبِیدٌ؟ فَقَالاَ : بَلْ یَسْعَوْنَ فِی کِتَابَۃِ أَبِیہِمْ، وَلاَ یُوْضَعُ عَنْہُمْ لِمَوْتِ أَبِیہِمْ شَیْئٌ۔
اردو ترجمہ · Urdu
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہما سے اس شخص ( غلام ) کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے آپ پر اور اپنے بیٹوں پر مکاتبت ، کر لی پھر وہ مر گیا تو کیا اس مکاتب غلام کے لڑکوں سے اپنے باپ کے عقد کتابت میں محنت کروائی جائے گی ، یا وہ ( مکمل ) غلام ( شمار ) ہوں گے ؟ تو دونوں نے فرمایا کہ ( باپ کی موت سے عقد کتابت ختم نہیں ہوا اور نہ وہ لڑکے غلام بنے ہیں ) بلکہ ان سے اپنے باپ کی مکاتبت میں محنت کرائی جائے گی اور ان کے باپ کی موت کی بنا پر ( باپ کو مردہ شمار کر کے ) ان سے ( بدل کتابت میں بھی ) کچھ کمی نہ کی جائے گی ۔