Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 31 · Chapter 385

مکاتب غلام کے متعلق مسائل کی کتاب

مکاتب کے متعلق فیصلے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1293

Muwatta Imam Malik #1293

Sahih

[1293] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ کِتَابَتِہِ شَیْئٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ مکاتب ‘‘ غلام ہی رہے گا جب تک کہ اس پر اپنے بدل کتابت میں سے کچھ بھی باقی ہو ۔

1294

Muwatta Imam Malik #1294

Zaeef

[1294] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ، کَانَا یَقُولاَنِ : الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ کِتَابَتِہِ َیْئٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہما دونوں فرمایا کرتے تھے کہ ’’ مکاتب ‘‘ غلام ہی رہے گا جب تک کہ اس کے ذمے اس کے زر کتابت میں سے کچھ بھی باقی ہو …

1295

Muwatta Imam Malik #1295

Sahih

[1295] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِ : أَنَّ مُکَاتَباً کَانَ لاِبْنِ الْمُتَوَکِّلِ ہَلَکَ بِمَکَّۃَ، وَتَرَکَ عَلَیْہِ بَقِیَّۃً مِنْ کِتَابَتِہِ وَدُیُوناً لِلنَّاسِ، وَتَرَکَ ابْنَتَہُ، فَأَشْکَلَ عَلَی عَامِلِ مَکَّۃَ الْقَضَائُ فِیہِ، فَکَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ یَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ الْمَلِکِ : أَنِ ابْدَأْ بِدُیُونِ النَّاسِ، ثُمَّ اقْضِ مَا بَقِیَ مِنْ کِتَابَتِہِ، ثُمَّ اقْسِمْ مَا بَقِیَ مِنْ مَالِہِ بَیْنَ ابْنَتِہِ وَمَوْلاَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن قیس مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن متوکل کا ایک مکاتب غلام ( عباد ) مکہ میں مر گیا اور اپنے بدل کتابت میں سے کچھ باقی ماندہ اپنے ذمے چھوڑ گیا ( اور مکمل ادائیگی نہ کر سکا ) اور ( اپنے اوپر ) لوگوں کے قرضے بھی اور ایک بیٹی بھی پیچھے چھوڑ گیا ، تو مکہ کے امیر پر اس کے متعلق فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آئی ، چنانچہ اس نے عبدالملک بن مروان ( خلیفہ وقت ) کی طرف ( ملک شام میں پیغام ) لکھ بھیجا ، وہ ان سے اس بارے میں سوال کر رہا تھا تو عبدالملک بن مروان نے اس کی طرف یہ ( جواب ) لکھا کہ لوگوں کے قرضوں کے ساتھ ابتدا کرو ( میت کے ترکے سے سب سے پہلے قرضے اتارو ) ، پھر اس کے بدل کتابت میں سے جو کچھ باقی ہے وہ ادا کرو ، پھر اس کے مال میں سے جو کچھ بھی بچ رہے اسے اس کی بیٹی اور آقا کے درمیان ( نصف نصف ) تقسیم کر دو ۔