Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 30 · Chapter 383

غلامی سے آزادی اور ولاء کے مسائل کی کتاب

ولاء کی وراثت کا بیان

3 hadiths in this chapter

1289

Muwatta Imam Malik #1289

Zaeef

[1289] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ أَبِیہِ, أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ الْعَاص بْنَ ہِشَامٍ ہَلَکَ وَتَرَکَ بَنِینَ لَہُ ثَـلَاثَۃً، اثْنَانِ لِأُمٍّ، وَرَجُلٌ لِعَلَّۃٍ, فَہَلَکَ أَحَدُ اللَّذَیْنِ لِأُمٍّ وَتَرَکَ مَالاً وَمَوَالِیَ، فَوَرِثَہُ أَخُوہُ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ مَالَہُ وَوَلَائَ مَوَالِیہِ، ثُمَّ ہَلَکَ الَّذِی وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَائَ الْمَوَالِی وَتَرَکَ ابْنَہُ وَأَخَاہُ لأَبِیہِ، فَقَالَ ابْنُہُ: قَدْ أَحْرَزْتُ مَا کَانَ أبِی أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلاَئِ الْمَوَالِی، وَقَالَ أَخُوہُ: لَیْسَ کَذَلِکَ : إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ، وَأَمَّا وَلاَئُ الْمَوَالِی فَلاَ، أَرَأَیْتَ لَوْ ہَلَکَ أَخِی الْیَوْمَ، أَلَسْتُ أَرِثُہُ أَنَا ؟ فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَضَی لأَخِیہِ بِوَلاَئِ الْمَوَالِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالملک بن ابی بکر رحمہ اللہ اپنے والد ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ( ان کے دادا حارث رضی اللہ عنہ کا بھائی ) عاص بن ہشام فوت ہو گیا ( اور جنگ بدر میں کافر ہی مارا گیا ) ، وہ اپنے تین بیٹے چھوڑ گیا جن میں سے دو کی ماں بھی ایک ہی تھی ( اور وہ دونوں آپس میں سگے اور حقیقی و شقیقی بھائی تھے ) اور ایک علاتی تھا ( جو صرف باپ کی طرف سے ان دونوں کا بھائی تھا ) ، پھر ان دو حقیقی بھائیوں میں سے ایک فوت ہو گیا اور کچھ مال اور کچھ آزاد کیے ہوئے غلام چھوڑ گیا تو اس کا وہ بھائی جو ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ( حقیقی بھائی ) تھا اس کے مال اور آزاد کیے ہوئے غلاموں کی ولاء کا وارث بن گیا ( اور علاتی بھائی کو کچھ نہ ملا ) ، پھر وہ ( بھائی ) بھی مر گیا جس نے مال اور ولاء کو وراثت میں پایا تھا اور وہ ( مرنے والا ) اپنا ایک بیٹا اور باپ کی طرف سے بننے والا ایک ( علاتی ) بھائی چھوڑ گیا ( جو پہلے بھی محروم رہ گیا تھا ) ، چنانچہ میت کا بیٹا کہنے لگا کہ میں ہر اس چیز کا مالک بن چکا ہوں جس کا مالک میرا باپ تھا ، یعنی مال کا بھی اور آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا بھی ، اور میت کا ( علاتی یعنی پدری ) بھائی کہنے لگا کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے ۔ تم نے صرف مال حاصل کیا ہے ( میت کے مالی ترکے کے وارث تم ہی ہو کیونکہ میت کے بیٹے کی موجودگی میں بھائی محروم رہتے ہیں ) اور رہی آزاد کردہ غلاموں کی ولاء تو وہ ( تمھاری ملکیت ) نہیں ۔ ذرا بتاؤ کہ اگر میرا ( پہلا ) بھائی ( تیرا چچا ) آج کے دن ( اپنے حقیقی بھائی یعنی تیرے والد کی وفات کے بعد ) مرتا تو کیا میں اس کا وارث نہ بنتا ۔ چنانچہ وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے تو انھوں نے میت کے بھائی کے حق میں اس کے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا فیصلہ سنایا ۔

1290

Muwatta Imam Malik #1290

Sahih

[1290] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ أَبُوہُ: أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، فَاخْتَصَمَ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ، وَنَفَرٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَکَانَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ یُقَالُ لَہُ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ کُلَیْبٍ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَۃُ وَتَرَکَتْ مَالاً وَمَوَالِیَ، فَوَرِثَہَا ابْنُہَا وَزَوْجُہَا، ثُمَّ مَاتَ ابْنُہَا, فَقَالَ وَرَثَتُہُ : لَنَا وَلاَئُ الْمَوَالِی، قَدْ کَانَ ابْنُہَا أَحْرَزَہُ، فَقَالَ الْجُہَنِیُّونَ : لَیْسَ کَذَلِکَ، إِنَّمَا ہُمْ مَوَالِی صَاحِبَتِنَا، فَإِذَا مَاتَ وَلَدُہَا فَلَنَا وَلاَؤُہُمْ، وَنَحْنُ نَرِثُہُمْ، فَقَضَی أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُہَنِیِّینَ بِوَلاَئِ الْمَوَالِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھیں ان کے والد ( ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ ) نے خبر دی کہ وہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ ( امیر مدینہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ( اتنے میں ) جہینہ قبیلے کا ایک گروہ اور بنو حارث بن خزرج خاندان کا ایک گروہ ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے اور ( ان میں نزاع یوں ہوا تھا کہ ) جہینہ والوں کی ایک عورت بنو حارث بن خزرج کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی جسے ابراہیم بن کلیب کہا جاتا تھا ۔ پھر عورت مر گئی اور مال اور آزاد کردہ غلام چھوڑ گئی جن کے وارث اس کا بیٹا اور خاوند بنے ، پھر اس عورت کا بیٹا بھی مر گیا تو اس کے ورثاء ( بنو حارث بن خزرج والے ) کہنے لگے کہ آزاد کردہ غلاموں کی وراثت ہمارے لیے ہے کیونکہ یقیناً اس عورت کا بیٹا ان کا ( وراثت میں ) مالک بن چکا تھا ، تو جہینہ والوں نے کہا کہ یہ اس طرح نہیں ہو گا ، یقیناً وہ ہماری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے ( اور ہم اب بھی زندہ موجود ہیں ) تو جب اس عورت کا بیٹا مر گیا ہے تو ان غلاموں کی ولاء ہماری ہو گئی ہے اور ہم ہی ان ( غلاموں ) کے وارث بنیں گے ، چنانچہ جناب ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے ان آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا فیصلہ ( عورت کے ورثاء ) جہینہ والوں کے حق میں کر دیا ۔

1291

Muwatta Imam Malik #1291

Zaeef

[1291] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ فِی رَجُلٍ ہَلَکَ وَتَرَکَ بَنِینَ لَہُ ثَـلَاثَۃً وَتَرَکَ مَوَالِیَ أَعْتَقَہُمْ ہُوَ عَتَاقَۃً، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَیْنِ مِنْ بَنِیہِ ہَلَکَا وَتَرَکَا أَوْلاَداً۔ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : یَرِثُ الْمَوَالِیَ الْبَاقِی مِنَ الثَّـلَاثَۃِ، فَإِذَا ہَلَکَ ہُوَ، فَوَلَدُہُ وَوَلَدُ إِخْوَتِہِ فِی وَلاَئِ الْمَوَالِی شَرَعٌ سَوَائٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا جو فوت ہو گیا تھا اور اپنے تین بیٹے چھوڑ گیا تھا اور اس نے کچھ غلام بھی ( ترکے میں ) چھوڑے تھے ، جنھیں وہ آزاد کر چکا تھا ۔ پھر اس کے بیٹوں میں سے دو فوت ہو گئے اور وہ اپنے بچے چھوڑ کر گئے ، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ان آزاد کردہ غلاموں کا وارث وہ بیٹا ہے جو تینوں میں سے باقی ہے ، پھر جب وہ بھی مر جائے تو اس ( تیسرے بیٹے ) کی اولاد اور اس کے ( فوت ہونے والے دونوں ) بھائیوں کی اولاد آزاد کردہ غلاموں کی ولاء میں برابر کے شریک اور مستحق ہوں گے ۔