Muwatta Imam Malik #1289
[1289] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ أَبِیہِ, أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ الْعَاص بْنَ ہِشَامٍ ہَلَکَ وَتَرَکَ بَنِینَ لَہُ ثَـلَاثَۃً، اثْنَانِ لِأُمٍّ، وَرَجُلٌ لِعَلَّۃٍ, فَہَلَکَ أَحَدُ اللَّذَیْنِ لِأُمٍّ وَتَرَکَ مَالاً وَمَوَالِیَ، فَوَرِثَہُ أَخُوہُ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ مَالَہُ وَوَلَائَ مَوَالِیہِ، ثُمَّ ہَلَکَ الَّذِی وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَائَ الْمَوَالِی وَتَرَکَ ابْنَہُ وَأَخَاہُ لأَبِیہِ، فَقَالَ ابْنُہُ: قَدْ أَحْرَزْتُ مَا کَانَ أبِی أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلاَئِ الْمَوَالِی، وَقَالَ أَخُوہُ: لَیْسَ کَذَلِکَ : إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ، وَأَمَّا وَلاَئُ الْمَوَالِی فَلاَ، أَرَأَیْتَ لَوْ ہَلَکَ أَخِی الْیَوْمَ، أَلَسْتُ أَرِثُہُ أَنَا ؟ فَاخْتَصَمَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَضَی لأَخِیہِ بِوَلاَئِ الْمَوَالِی۔
اردو ترجمہ · Urdu
عبدالملک بن ابی بکر رحمہ اللہ اپنے والد ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ( ان کے دادا حارث رضی اللہ عنہ کا بھائی ) عاص بن ہشام فوت ہو گیا ( اور جنگ بدر میں کافر ہی مارا گیا ) ، وہ اپنے تین بیٹے چھوڑ گیا جن میں سے دو کی ماں بھی ایک ہی تھی ( اور وہ دونوں آپس میں سگے اور حقیقی و شقیقی بھائی تھے ) اور ایک علاتی تھا ( جو صرف باپ کی طرف سے ان دونوں کا بھائی تھا ) ، پھر ان دو حقیقی بھائیوں میں سے ایک فوت ہو گیا اور کچھ مال اور کچھ آزاد کیے ہوئے غلام چھوڑ گیا تو اس کا وہ بھائی جو ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ( حقیقی بھائی ) تھا اس کے مال اور آزاد کیے ہوئے غلاموں کی ولاء کا وارث بن گیا ( اور علاتی بھائی کو کچھ نہ ملا ) ، پھر وہ ( بھائی ) بھی مر گیا جس نے مال اور ولاء کو وراثت میں پایا تھا اور وہ ( مرنے والا ) اپنا ایک بیٹا اور باپ کی طرف سے بننے والا ایک ( علاتی ) بھائی چھوڑ گیا ( جو پہلے بھی محروم رہ گیا تھا ) ، چنانچہ میت کا بیٹا کہنے لگا کہ میں ہر اس چیز کا مالک بن چکا ہوں جس کا مالک میرا باپ تھا ، یعنی مال کا بھی اور آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا بھی ، اور میت کا ( علاتی یعنی پدری ) بھائی کہنے لگا کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے ۔ تم نے صرف مال حاصل کیا ہے ( میت کے مالی ترکے کے وارث تم ہی ہو کیونکہ میت کے بیٹے کی موجودگی میں بھائی محروم رہتے ہیں ) اور رہی آزاد کردہ غلاموں کی ولاء تو وہ ( تمھاری ملکیت ) نہیں ۔ ذرا بتاؤ کہ اگر میرا ( پہلا ) بھائی ( تیرا چچا ) آج کے دن ( اپنے حقیقی بھائی یعنی تیرے والد کی وفات کے بعد ) مرتا تو کیا میں اس کا وارث نہ بنتا ۔ چنانچہ وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے تو انھوں نے میت کے بھائی کے حق میں اس کے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا فیصلہ سنایا ۔