Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 30 · Chapter 382

غلامی سے آزادی اور ولاء کے مسائل کی کتاب

غلام جب آزاد ہو تو اس کے ولاء کو کھینچ لانے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1287

Muwatta Imam Malik #1287

Sahih

[1287] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ اشْتَرَی عَبْداً فَأَعْتَقَہُ، وَلِذَلِکَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنِ امْرَأَۃٍ حُرَّۃٍ، فَلَمَّا أَعْتَقَہُ الزُّبَیْرُ قَالَ ہُمْ مَوَالِیَّ۔، وَقَالَ مَوَالِی أُمِّہِمْ : بَلْ ہُمْ مَوَالِینَا۔ فَاخْتَصَمُوا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَضَی عُثْمَانُ لِلزُّبَیْرِ بِوَلاَئِہِمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک غلام خریدا ، پھر اسے آزاد کر دیا ، اس غلام ( کی حالت غلامی میں ایک آزاد عورت سے شادی ہو چکی تھی اور اس ) کے لیے ( اس ) آزاد عورت سے کچھ بیٹے تھے ۔ پھر جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے آزاد کیا تو کہا کہ وہ ( بیٹے بھی ) میرے مولیٰ ہیں ( اور ان کا تعلق ولاء بھی میرے ساتھ قائم ہو گا ) لیکن ان بیٹوں کی ماں ( آزاد عورت ) کے رشتہ داروں نے کہا کہ یہ ہمارے مولیٰ ہیں ، چنانچہ وہ ( سب ) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس یہ جھگڑا لے کر آئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی ولاء کا فیصلہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں کر دیا ۔

1288

Muwatta Imam Malik #1288

Zaeef

[1288] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ سُئِلَ عَنْ عَبْدٍ لَہُ وَلَدٌ مِنِ امْرَأَۃٍ حُرَّۃٍ، لِمَنْ وَلاَؤُہُمْ ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ : إِنْ مَاتَ أَبُوہُمْ وَہُوَ عَبْدٌ لَمْ یُعْتَقْ فَوَلاَؤُہُمْ لِمَوَالِی أُمِّہِمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس غلام کے متعلق سوال کیا گیا جس کی کسی آزاد عورت سے کچھ اولاد ہو تو ان بچوں کی ولاء کس کا حق ہے ؟ تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر ان بچوں کا باپ مر جائے اس حال میں کہ وہ غلام ہی ہو اور آزاد نہ ہو تو پھر ان بچوں کی ولاء ان کی ماں کے رشتہ داروں کے لیے ہو گی ۔