Muwatta Imam Malik #1283
[1283] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ أَ نَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْ بَرِیرَۃُ فَقَالَتْ : إنِّی کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ، فِی کُلِّ عَامٍ أُوْقِیَۃٌ، فَأَعِینِینِی۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ عَنْکِ عَدَدْتُہَا, وَیَکُونَ لِی وَلاَؤُکِ فَعَلْتُ۔ فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ إِلَی أَہْلِہَا فَقَالَتْ لَہُمْ ذَلِکَ، فَأَبَوْا عَلَیْہَا، فَجَائَ تْ مِنْ عِنْدِ أَہْلِہَا وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ، فَقَالَتْ لِعَائِشَۃَ إنِّی قَدْ عَرَضْتُ عَلَیْہِمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا عَلَیَّ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ۔ فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَسَأَلَہَا، فَأَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : خُذِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئَ، فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَفَعَلَتْ عَائِشَۃُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فِی النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطاً لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ فَہُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ کَانَ مِئَۃَ شَرْطٍ، قَضَائُ اللّٰہِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللّٰہِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ ( میرے پاس ) حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں کہ بے شک میں نے اپنے آقاؤں کے ساتھ نو اوقیہ ( چاندی کے 360 درہموں ) پر مکاتبت کر لی ہے ( اس طرح کہ ) ہر سال میں ایک اوقیہ ( 40 درہم ادا کرنا میرے ذمہ ) ہو گا ، لہٰذا آپ میرا تعاون فرمائیے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تیرے مالک یہ پسند کریں کہ میں انھیں یہ ( ساری رقم ) تیری طرف سے ادا کر دوں تو میں یہ سب سے دوں گی اور ( لیکن شرط یہ ہے کہ ) ولاء میری ہو گی ، تو میں ( یہ ادائیگی ) کر دوں گی ، سو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کی طرف گئیں اور ان کو یہ بات بتائی تو انھوں نے اس پر انکار کر دیا ، چنانچہ وہ ان کے پاس سے اس حال میں آئیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے ۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں کہ میں نے ان پر وہ بات پیش کی تو انھوں نے انکار کر دیا ، الا یہ کہ ولاء ان کی رہے ۔ پس رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ( اجمالاً ) سن لی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو ( سب کچھ ) بتا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے لے لو ( خرید لو ) اور ان کے لیے ولاء کی شرط لگا لو ، یقیناً ولاء تو صرف اسی کا حق ہے جو آزاد کرے ۔‘‘ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! ( حمدوثنا کے بعد ، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ) کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں ۔ ( سن لو کہ ) جو کوئی شرط کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے ، خواہ وہ سو شرطیں ہوں ، اللہ کا فیصلہ زیادہ حق رکھتا ہے ( کہ اسے پورا کیا جائے ) اور اللہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے ( کہ اس کی پیروی کی جائے ) اور یقیناً ولاء تو صرف اور صرف اس شخص کے لیے ہے جو آزاد کرے ۔‘‘