Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 30 · Chapter 381

غلامی سے آزادی اور ولاء کے مسائل کی کتاب

آزاد کرنے والے کے لیے ولاء ثابت ہونے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1283

Muwatta Imam Malik #1283

Sahih

[1283] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ أَ نَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْ بَرِیرَۃُ فَقَالَتْ : إنِّی کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ، فِی کُلِّ عَامٍ أُوْقِیَۃٌ، فَأَعِینِینِی۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ عَنْکِ عَدَدْتُہَا, وَیَکُونَ لِی وَلاَؤُکِ فَعَلْتُ۔ فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ إِلَی أَہْلِہَا فَقَالَتْ لَہُمْ ذَلِکَ، فَأَبَوْا عَلَیْہَا، فَجَائَ تْ مِنْ عِنْدِ أَہْلِہَا وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ، فَقَالَتْ لِعَائِشَۃَ إنِّی قَدْ عَرَضْتُ عَلَیْہِمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا عَلَیَّ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ۔ فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَسَأَلَہَا، فَأَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : خُذِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئَ، فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَفَعَلَتْ عَائِشَۃُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فِی النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطاً لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ فَہُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ کَانَ مِئَۃَ شَرْطٍ، قَضَائُ اللّٰہِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللّٰہِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ ( میرے پاس ) حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں کہ بے شک میں نے اپنے آقاؤں کے ساتھ نو اوقیہ ( چاندی کے 360 درہموں ) پر مکاتبت کر لی ہے ( اس طرح کہ ) ہر سال میں ایک اوقیہ ( 40 درہم ادا کرنا میرے ذمہ ) ہو گا ، لہٰذا آپ میرا تعاون فرمائیے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تیرے مالک یہ پسند کریں کہ میں انھیں یہ ( ساری رقم ) تیری طرف سے ادا کر دوں تو میں یہ سب سے دوں گی اور ( لیکن شرط یہ ہے کہ ) ولاء میری ہو گی ، تو میں ( یہ ادائیگی ) کر دوں گی ، سو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کی طرف گئیں اور ان کو یہ بات بتائی تو انھوں نے اس پر انکار کر دیا ، چنانچہ وہ ان کے پاس سے اس حال میں آئیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے ۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں کہ میں نے ان پر وہ بات پیش کی تو انھوں نے انکار کر دیا ، الا یہ کہ ولاء ان کی رہے ۔ پس رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ( اجمالاً ) سن لی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو ( سب کچھ ) بتا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے لے لو ( خرید لو ) اور ان کے لیے ولاء کی شرط لگا لو ، یقیناً ولاء تو صرف اسی کا حق ہے جو آزاد کرے ۔‘‘ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! ( حمدوثنا کے بعد ، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ) کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں ۔ ( سن لو کہ ) جو کوئی شرط کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے ، خواہ وہ سو شرطیں ہوں ، اللہ کا فیصلہ زیادہ حق رکھتا ہے ( کہ اسے پورا کیا جائے ) اور اللہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے ( کہ اس کی پیروی کی جائے ) اور یقیناً ولاء تو صرف اور صرف اس شخص کے لیے ہے جو آزاد کرے ۔‘‘

1284

Muwatta Imam Malik #1284

Sahih

[1284] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ جَارِیَۃً تُعْتِقُہَا، فَقَالَ أَہْلُہَا نَبِیعُکِہَا عَلَی أَنَّ وَلاَئَ ہَا لَنَا، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : لاَ یَمْنَعَنَّکِ ذَلِکَ، فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خریدنے کا ارادہ کیا جسے وہ آزاد کرنا چاہتی تھیں تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم تمھیں یہ لونڈی اس شرط پر بیچیں گے کہ اس کی ولاء ہمارے لیے ہو ، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ( ان کا باطل شرط لگانا ) تمھیں ( اس کے خریدنے اور آزاد کرنے سے ) نہ روک دے ، یقیناً ولاء تو صرف اسی کی ہے جو آزاد کرے ۔‘‘

1285

Muwatta Imam Malik #1285

Sahih

[1285] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ تَسْتَعِینُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَصُبَّ لَہُمْ ثَمَنَکِ صَبَّۃً وَاحِدَۃً وَأُعْتِقَکِ فَعَلْتُ۔ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِیرَۃُ لأَہْلِہَا، فَقَالُوا : لاَ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لَنَا وَلاَؤُکِ۔ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ : فَزَعَمَتْ عَمْرَۃُ أَنَّ عَائِشَۃَ ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں ، وہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کر رہی تھیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تیرے مالک پسند کریں کہ میں ان کو تیری قیمت ایک ہی بار میں ادا کر دوں اور ( پھر ) میں تجھے آزاد کر دوں تو میں ایسا کر لیتی ہوں ، چنانچہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آقاؤں کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ ( ہمیں یہ منظور ) نہیں ، مگر اس صورت میں کہ تیری ولاء ہمارے لیے ہو ۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحیی بن سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ عمرہ بنت عبدالرحمن نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے خرید لو اور آزاد کر دو ، یقیناً ولاء تو صرف اسی کی ہے جس نے آزاد کیا ۔‘‘

1286

Muwatta Imam Malik #1286

Sahih

[1286] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنْ بَیْعِ الْوَلاَئِ وَعَنْ ہِبَتِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ولاء کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔