Muwatta Imam Malik #1274
[1274] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أُسَامَۃَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ أَ نَّہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ جَارِیَۃً لِی کَانَتْ تَرْعَی غَنَماً لِی، فَجِئْتُہَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاۃٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَسَأَلْتُہَا عَنْہَا فَقَالَتْ : أَکَلَہَا الذِّئْبُ، فَأَسِفْتُ عَلَیْہَا، وَکُنْتُ مِنْ بَنِی آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْہَہَا، وَعَلَیَّ رَقَبَۃٌ، أَفَأُعْتِقُہَا ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَیْنَ اللَّہُ ؟فَقَالَتْ : فِی السَّمَائِ۔ فَقَالَ : مَنْ أَنَا ؟فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ۔ فَقَالَ : رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَعْتِقْہَا۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عمر بن حکم سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چرایا کرتی تھی ، ( ایک دن ) میں اس کے پاس آیا تو میں نے بکریوں ( کے ریوڑ ) میں ایک بکری کو گم پایا ، میں نے اس سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہے ، چنانچہ میں اس پر غضبناک ہو گیا اور میں بھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی ہوں ( اس لیے بتقاضائے بشریت و آدمیت ) میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا اور مجھ پر ایک گردن ( آزاد کرنا ) لازم ہے ، تو کیا میں اسی کو آزاد کر دوں ؟ ( چنانچہ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ ، وہ آئی ) تو آپ ﷺ نے اس لونڈی سے دریافت فرمایا کہ ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے کہا : آسمان میں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ وہ کہنے لگی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے ( صحابی سے ) فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو ۔‘‘