Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 30 · Chapter 377

غلامی سے آزادی اور ولاء کے مسائل کی کتاب

اس ( غلام لونڈی ) کا بیان جسے ( شریعت کی طرف سے ) واجب گردنوں میں آزاد کرنا جائز ہے

4 hadiths in this chapter

1274

Muwatta Imam Malik #1274

Sahih

[1274] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أُسَامَۃَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ أَ نَّہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ جَارِیَۃً لِی کَانَتْ تَرْعَی غَنَماً لِی، فَجِئْتُہَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاۃٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَسَأَلْتُہَا عَنْہَا فَقَالَتْ : أَکَلَہَا الذِّئْبُ، فَأَسِفْتُ عَلَیْہَا، وَکُنْتُ مِنْ بَنِی آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْہَہَا، وَعَلَیَّ رَقَبَۃٌ، أَفَأُعْتِقُہَا ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَیْنَ اللَّہُ ؟فَقَالَتْ : فِی السَّمَائِ۔ فَقَالَ : مَنْ أَنَا ؟فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ۔ فَقَالَ : رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَعْتِقْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمر بن حکم سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چرایا کرتی تھی ، ( ایک دن ) میں اس کے پاس آیا تو میں نے بکریوں ( کے ریوڑ ) میں ایک بکری کو گم پایا ، میں نے اس سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہے ، چنانچہ میں اس پر غضبناک ہو گیا اور میں بھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی ہوں ( اس لیے بتقاضائے بشریت و آدمیت ) میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا اور مجھ پر ایک گردن ( آزاد کرنا ) لازم ہے ، تو کیا میں اسی کو آزاد کر دوں ؟ ( چنانچہ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ ، وہ آئی ) تو آپ ﷺ نے اس لونڈی سے دریافت فرمایا کہ ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے کہا : آسمان میں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ وہ کہنے لگی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے ( صحابی سے ) فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو ۔‘‘

1275

Muwatta Imam Malik #1275

Sahih

[1275] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ بِجَارِیَۃٍ لَہُ سَوْدَائَ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ عَلَیَّ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً، فَإِنْ کُنْتَ تَرَاہَا مُؤْمِنَۃً أُعْتِقُہَا۔ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَتَشْہَدِینَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ؟قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَتَشْہَدِینَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰہِ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَتُوقِنِینَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَتْ : نَعَمْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَعْتِقْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی سیاہ فام لونڈی لے کر آئے ، پھر کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! مجھ پر ایک مومن گردن آزاد کرنا واجب ہے ، کیا میں اسے آزاد کر سکتا ہوں ؟ پس آپ اگر اسے مومن سمجھتے ہیں تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا :’’ کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ یقیناً اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟‘‘ اس نے کہا کہ جی ہاں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ بے شک محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں ؟‘‘ اس نے کہا کہ جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تو موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر یقین رکھتی ہے ؟‘‘ اس نے کہا کہ جی ہاں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ( اس صحابی سے ) فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو ۔‘‘

1276

Muwatta Imam Malik #1276

Zaeef

[1276] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ أَ نَّہُ قَالَ : سُئِلَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَیْہِ رَقَبَۃٌ ہَلْ یُعْتِقُ فِیہَا ابْنَ زِناً ؟ َقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : نَعَمْ ذَلِکَ یُجْزِئہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

( سعید بن ابی سعید ) مقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس پر ایک گردن آزاد کرنا ( واجب ) ہو تو کیا وہ اس میں ولدالزنا کو آزاد کر سکتا ہے ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں ، یہ اسے کفایت کر جائے گا ۔

1277

Muwatta Imam Malik #1277

Zaeef

[1277] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْأَنْصَاری وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَیْہِ رَقَبَۃٌ, ہَلْ یَجُوزُ لَہُ أَنْ یُعْتِقَ وَلَدَ زِناً ؟ قَالَ : نَعَمْ ذَلِکَ یُجْزِئُ عَنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے ، ان سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس پر ایک گردن آزاد کرنا لازم ہو تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ زنا والا بچہ آزاد کر دے ؟ تو انھوں نے کہا کہ ہاں ، یہ اس کی طرف سے کافی ہو جائے گا ۔