Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 3 · Chapter 58

نماز (کے مسائل) کی کتاب

نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو تمھیں اس ( نماز ) سے غافل کر دے

4 hadiths in this chapter

217

Muwatta Imam Malik #217

Sahih

[217] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أبِی عَلْقَمَۃَ، [عَنْ أُمِّہِ]: أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ : أَہْدَی أَبُو جَہْمِ بْنُ حُذَیْفَۃَ لِرَسُولِ اللّٰہ ﷺ خَمِیصَۃً شَامِیَّۃً لَہَا عَلَمٌ، فَشَہِدَ فِیہَا الصَّلَاۃَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : رُدِّی ہَذِہِ الْخَمِیصَۃَ إِلَی أبِی جَہْمٍ، فَإِنِّی نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِہَا فِی الصَّلَاۃِ، فَکَادَ یَفْتِنُنِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوجَہْم بن حذَیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو ملک شام کی بنی ہوئی ایک ( دھاری دار سُرخ یا سیاہ ، باریک ) چادر کا ہدیہ پیش کیا جس میں نشانات ( یعنی نقش و نگار ) تھے ، آپ ﷺ اسی چادر میں نماز کے لیے حاضر ہوئے ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا :’’ اس چادر کو ابوجَہْم ہی کی طرف واپس لوٹا دو ، کیونکہ میں نے نماز میں اس کے بیل بوٹوں کو دیکھا ( یعنی میری نظر اس کے نقش و نگار کی طرف چلی گئی ) تو قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دیتی ( یعنی اللہ اور نماز سے غافل کر دیتی ) ۔‘‘

218

Muwatta Imam Malik #218

Sahih

[218] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ لَبِسَ خَمِیصَۃً لَہَا عَلَمٌ، ثُمَّ أَعْطَاہَا أَبَا جَہْمٍ، وَأَخَذَ مِنْ أبِی جَہْمٍ أَنْبِجَانِیَّۃً لَہُ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہ وَلِمَ ؟ فَقَالَ : إنِّی نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِہَا فِی الصَّلَاۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ اپنے والد عُروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ( باریک ، دھاری دار سرخ یا سیاہ ) چادر پہنی جس میں نشان ( بیل بوٹے ) تھے ، پھر آپ ﷺ نے وہ چادر حضرت ابوجَہْم رضی اللہ عنہ کو دے دی اور ابوجَہم رضی اللہ عنہ سے ان کی موٹی اُونی چادر لے لی ، انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آخر ایسا کیوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً نماز میں میری نظر اس کے نقش و نگار کی طرف چلی گئی تھی ۔‘‘

219

Muwatta Imam Malik #219

Zaeef

[219] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ أبِی بَکْرٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیَّ کَانَ یُصَلِّی فِی حَائِطِہِ، فَطَارَ دُبْسِیٌّ، فَطَفِقَ یَتَرَدَّدُ یَلْتَمِسُ مَخْرَجاً، فَأَعْجَبَہُ ذَلِک، فَجَعَلَ یُتْبِعُہُ بَصَرَہُ سَاعَۃً، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِہِ، فَإِذَا ہُوَ لَا یَدْرِی کَمْ صَلَّی فَقَالَ : لَقَدْ أَصَابَتْنِی فِی مَالِی ہَذَا فِتْنَۃٌ. فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہ ﷺ ، فَذَکَرَ لَہُ الَّذِی أَصَابَہُ فِی حَائِطِہِ مِنَ الْفِتْنَۃِ وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہ ہُوَ صَدَقَۃٌ للّٰہ : فَضَعْہُ حَیْثُ شِئْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ( بن محمد بن عمرو بن حزم ) سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے ایک باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک فاختہ نما ( یا کبوتر نما خاکی ) پرندہ اُڑا ، ( چونکہ باغ بہت ہی گھنا تھا اس لیے ) وہ اِدھر اُدھر اڑ کر نکلنے کی راہ ڈھونڈنے لگا ، حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ ( زید بن سہل ) رضی اللہ عنہ کو اس منظر نے حیرت ( و خوشی ) میں ڈال دیا ، تو انھوں نے بھی کچھ دیر تک اس کے پیچھے اپنی نگاہ کو دوڑانا شروع کر دیا ، پھر جب وہ اپنی نماز کی طرف لوٹے ( اور دوبارہ نماز کی طرف متوجہ ہوئے ) تو ناگہاں وہ ( تو بھول کا شکار ہو چکے تھے اور وہ ) یہ نہ جان سکے کہ کتنی نماز پڑھ لی ہے ، چنانچہ ( نماز ہی میں یا بعد میں اپنے دل میں ) کہنے ( اور سوچنے ) لگے کہ یقیناً میرے اس مال میں آزمائش آ پہنچی ہے ، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور آپ ﷺ کے حضور اُس آزمائش کا تذکرہ کیا جو اُن کو اپنے باغ میں پہنچی تھی اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ( سارے کا سارا باغ میں نے ) اللہ کی خاطر صدقہ ( کر دیا ) ہے ، لہٰذا آپ جہاں چاہیں اسے رکھ دیجیے ( یعنی تقسیم اور خرچ کر دیجیے ) ۔

220

Muwatta Imam Malik #220

Zaeef

[220] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ أبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ یُصَلِّی فِی حَائِطٍ لَہُ بِالْقُفِّ - وَادٍ مِنْ أَوْدِیَۃِ الْمَدِینَۃِ - فِی زَمَانِ الثَّمَرِ, وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ، فَہِیَ مُطَوَّقَۃٌ بِثَمَرِہَا، فَنَظَرَ إِلَیْہَا فَأَعْجَبَہُ مَا رَأَی مِنْ ثَمَرِہَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِہِ، فَإِذَا ہُوَ لَا یَدْرِی کَمْ صَلَّی فَقَالَ : لَقَدْ أَصَابَتْنِی فِی مَالِی ہَذَا فِتْنَۃٌ. فَجَائَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - وَہُوَ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ - فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ وَقَالَ : ہُوَ صَدَقَۃٌ فَاجْعَلْہُ فِی سُبُلِ الْخَیْرِ. فَبَاعَہُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِینَ أَلْفاً، فَسُمِّیَ ذَلِکَ الْمَالُ الْخَمْسِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک شخص پھل ( پک جانے ) کے زمانے میں ’’ قُفّ ‘‘ مقام پر واقع اپنے باغ میں نماز ادا کر رہا تھا ، قُفّ مدینہ منورہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے ، کھجوروں کے درخت ( یعنی اُن کی ٹہنیوں پر لگے ہوئے پھل ) جھکے ہوئے تھے ، یوں لگتا تھا کہ ان درختوں کو ان کے پھلوں کے ہار پہنا دیے گئے ہیں ، اس انصاری شخص نے ان کو دیکھا تو وہ پھل جسے وہ دیکھ رہے تھے اُنھیں بہت اچھا اور بھلا لگا ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف لوٹے تو اچانک وہ جان ہی نہ سکے کہ کتنی نماز پڑھی ہے ؟ تو کہنے لگے کہ مجھے میرے اس مال میں فتنہ پہنچ گیا ہے ، چنانچہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو کہ اُن دنوں خلیفہ تھے ، اُن کے سامنے اس کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ ( سب کا سب ) صدقہ ہے ، ( اب ) آپ اسے نیکی ( کی راہوں ) میں خرچ کر دیجیے ، تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اُسے پچاس ہزار میں فروخت کر دیا ، ( جس کی وجہ سے ) اس مال ( یعنی باغ ) کا نام ہی ’’ خَمْسِیْن ‘‘ ( پچاس ) رکھ دیا گیا ۔