Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 3 · Chapter 55

نماز (کے مسائل) کی کتاب

اس بات کا بیان کہ وہ آدمی کیا کرے جو بھول کر دو رکعتوں ہی پر سلام پھیر دے ؟

4 hadiths in this chapter

207

Muwatta Imam Malik #207

Sahih

[207] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ ذُو الْیَدَیْنِ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاۃُ أَمْ نَسِیتَ یَا رَسُولَ اللّٰہ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ ؟ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ. فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ کَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک دفعہ ) رسول اللہ ﷺ ( چار رکعتوں والی نماز سے ) دو رکعتیں ہی پڑھ کر فارغ ہو گئے تو حضرت ذُوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ( لوگوں سے ) دریافت فرمایا کہ ’’ کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے ؟‘‘ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو رسول اللہ ﷺ ( نماز کے لیے کھڑے ) ہو گئے اور بعد والی دو رکعتیں بھی ادا فرمائیں ، پھر سلام پھیرا ، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے ( عام ) سجدے کی طرح یا اس سے ذرا لمبا سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا ، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے ( عام ) سجدے کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا ۔

208

Muwatta Imam Malik #208

Sahih

[208] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنْ أبِی سُفْیَانَ مَوْلَی ابْنِ أبِی أَحْمَدَ، أَنَّہُ قَال : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : صَلَّی رَسُولُ اللّٰہ ﷺ صَلَاۃَ الْعَصْرِ، فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ، فَقَامَ ذُو الْیَدَیْنِ فَقَالَ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاۃُ یَا رَسُولَ اللّٰہ أَمْ نَسِیتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ۔ فَقَالَ : قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ. فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ ؟ فَقَالُوا نَعَمْ. فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ فَأَتَمَّ مَا بَقِیَ مِنَ الصَّلَاۃِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ التَّسْلِیمِ وَہُوَ جَالِسٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ ﷺ نے ( ہمیں ) عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، ( پھر رسول اللہ ﷺ مسجد کے سامنے ایک لکڑی پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو گئے ، لوگوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے مگر وہ گفتگو چھیڑنے سے ڈر گئے ) تو حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ( چونکہ وحی کے ذریعے احکام تبدیل ہوتے رہتے تھے اس لیے ) عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ کو بھول لاحق ہو گئی ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں کاموں میں سے کوئی بھی نہیں ہوا ۔‘‘ وہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! پھر یقیناً ان میں سے کوئی نہ کوئی کام ضرور ہوا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے ؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں ، تو رسول اللہ ﷺ ( نماز میں ) کھڑے ہو گئے اور نماز کا جو حصہ باقی تھا اُسے پورا فرمایا ، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کر لیے ۔

209

Muwatta Imam Malik #209

Sahih

[209] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ أبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ أبِی حَثْمَۃَ، قَالَ، بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ مِنْ إِحْدَی صَلَاتَیِ النَّہَارِ - الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ - فَسَلَّمَ مِنَ اثْنَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ ذُو الشِّمَالَیْنِ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاۃُ یَا رَسُولَ اللّٰہ أَمْ نَسِیتَ ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : مَا قَصُرَتِ الصَّلَاۃُ وَمَا نَسِیتُ۔ فَقَالَ ذُو الشِّمَالَیْنِ قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ۔ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ ؟ فَقَالُوا نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہ۔ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ مَا بَقِیَ مِنَ الصَّلَاۃِ، ثُمَّ سَلَّمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر رضی اللہ عنہ بن سلیمان بن ابی حَثْمہ سے روایت ہے ، ان کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے دن کی دو نمازوں میں سے کسی ایک میں ، ظہر میں یا عصر میں دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا ، تو بنو زُہرہ قبیلے کے ایک آدمی حضرت ذُوالشِمالین رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں ۔‘‘ تو حضرت ذُوالشِمالین رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً ان میں سے کوئی نہ کوئی کام ضرور ہوا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت فرمایا :’’ کیا ذُوالیَدَین نے سچ کہا ہے ؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے باقی ماندہ نماز کو پورا کیا ، پھر سلام پھیرا ۔

210

Muwatta Imam Malik #210

Sahih

[210] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَعَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِثْلَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ۔