Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 3 · Chapter 53

نماز (کے مسائل) کی کتاب

نماز میں تشہد کا بیان

5 hadiths in this chapter

201

Muwatta Imam Malik #201

Sahih

[201] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْر، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ، أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ یَقُولُ : قُولُوا : التَّحِیَّاتُ لِلّٰہ، الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہ، الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہ، السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہ الصَّالِحِینَ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن عبد رحمہ اللہ جو قارہ قبیلے کے شخص ہیں ( اور جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وزیر بیت المال تھے ) ، بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ منبر پر لوگوں کو تشہد سکھا رہے تھے ، فرما رہے تھے : ( لوگو ! یہ ) پڑھا کرو :’’ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ ‘‘ ’’ تمام قولی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، تمام اعمال صالحہ اللہ کے لیے ہیں ، تمام مالی ( اور ) بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلامتی ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ( نازل ) ہوں ، ہم پر بھی اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلامتی ( نازل ) ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘

202

Muwatta Imam Malik #202

Sahih

[202] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَتَشَہَّدُ فَیَقُولُ : بِاسْمِ اللّٰہ، التَّحِیَّاتُ لِلّٰہ، الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ، السَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہ الصَّالِحِینَ، شَہِدْتُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، شَہِدْتُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰہ. یَقُولُ ہَذَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ، وَیَدْعُو إِذَا قَضَی تَشَہُّدَہُ بِمَا بَدَا لَہُ، فَإِذَا جَلَسَ فِی آخِرِ صَلَاتِہِ تَشَہَّدَ کَذَلِکَ أَیْضاً، إِلاَّ أَنَّہُ یُقَدِّمُ التَّشَہُّدَ، ثُمَّ یَدْعُو بِمَا بَدَا لَہُ، فَإِذَا قَضَی تَشَہُّدَہُ وَأَرَادَ أَنْ یُسَلِّمَ قَالَ : السَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہ الصَّالِحِینَ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ عَنْ یَمِینِہِ، ثُمَّ یَرُدُّ عَلَی الإِمَامِ، فَإِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ أَحَدٌ عَنْ یَسَارِہِ رَدَّ عَلَیْہِ.

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد پڑھتے وقت یوں کہا کرتے تھے : بَسْمِ اللّٰہِ التَّحِیَّاتُ لِلہِ الصَّلَوَاتُ لِلہِ الزَّاکِیْاتُ لِلہِ السَّلَامُ عَلٰی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُاللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِاللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ شَھِدْتُّ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ شَھِدْتُّ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ ’’ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں ، تمام قولی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، تمام فعلی ( بدنی ) عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، اور تمام اعمال صالحہ ( یا مالی عبادتیں ) اللہ کے لیے ہیں ، نبی ﷺ پر سلامتی ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ، ہم پر اور اللہ کے ( سب ) نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو ، میں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں نے یہ بھی شہادت دی کہ بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ کلمات پہلی دو رکعتوں ( کے بعد والے تشہد ) میں کہتے اور جب اسے پورا کر لیتے تو جو اُن کے لیے ظاہر ہوتا یعنی جو دل کرتا دعا مانگتے ، پھر جب نماز کے آخر میں بیٹھتے تو بھی ( انھی کلمات کے ساتھ ) اسی طرح تشہد پڑھتے مگر ( اس میں کچھ ترتیب یوں الٹ دیتے کہ ) پہلے صرف تشہد ( پر دلالت کرنے والے کلمات یعنی شَھِدتُّ اَنْ لَّا … الخ ) پڑھتے ، پھر جو اُن کا دل کرتا دعا مانگتے ، پھر جب اپنا تشہد ( یعنی نماز کا آخری بیٹھنا ) پورا کر لیتے اور سلام پھیرنے کا ارادہ کرتے تو ( قبل از سلام ) اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِّی … سے اَلصَّالِحِیْنَ تک پڑھتے ، پھر اپنی دائیں جانب ( منہ پھیر کر ) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے ، پھر ( اگر امام کے ساتھ ہوتے تو چونکہ امام بھی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ چکا ہوتا تھا اس لیے ) امام کے سلام کا جواب دیتے ، پھر اگر ان کی بائیں جانب ( کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا اور وہ اس طرف ) سے ان کو سلام کرتا تو اس کو بھی جواب دیتے ۔

203

Muwatta Imam Malik #203

Sahih

[203] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ : إِذَا تَشَہَّدَتْ التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ, السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہ الصَّالِحِینَ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زوجہ پیغمبر ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب وہ تشہد پڑھتیں تو یہ کہا کرتی تھیں : التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَ ( پھر نماز سے فارغ ہونے کے لیے کہتیں : ) السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ۔‘‘

204

Muwatta Imam Malik #204

Sahih

[204] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَاری، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ، أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ کَانَتْ تَقُولُ : إِذَا تَشَہَّدَتْ : التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُولُہُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ.

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ جب تشہد پڑھتیں تو یہ کہتیں : التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُ اللّٰہ وَرَسُولُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہ الصَّالِحِینَ ( پھر آخر میں کہتیں : ) السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ۔‘‘

205

Muwatta Imam Malik #205

Sahih

[205] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ شِہَابٍ وَنَافِعاً مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ مَعَ الإِمَامِ فِی الصَّلَاۃِ، وَقَدْ سَبَقَہُ الإِمَامُ بِرَکْعَۃٍ، أَیَتَشَہَّدُ مَعَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ وَالأَرْبَعِ، وَإِنْ کَانَ ذَلِکَ لَہُ وِتْراً ؟ فَقَالَا : نَعَم لِیَتَشَہَّدْ مَعَہُ.

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے اور حضرت ابن عمر رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام نافع رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو امام کے ساتھ نماز میں ( جب ) داخل ہوا ( تو ) امام اس سے پہلے ایک رکعت پڑھا چکا تھا ، تو کیا وہ ( نماز میں داخل ہونے کے بعد ) امام کے ساتھ دو رکعتوں اور چار رکعتوں ( کے بعد ) میں تشہد پڑھے گا ، اگرچہ یہ رکعتیں اس ( بعد میں آنے والے ) کی طاق رکعتیں ہیں ( جب امام کی دو ہوئیں تو اس کی ایک ہوئی ، اور امام کی چار پر اس کی تین ہوئیں ) ؟ تو دونوں ( ابن شہاب رحمہ اللہ اور نافع رحمہ اللہ ) نے فرمایا کہ اُسے چاہیے کہ امام کے ساتھ تشہد پڑھے ۔