Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 3 · Chapter 50

نماز (کے مسائل) کی کتاب

امام کے پیچھے ( سورہ فاتحہ کی ) قراءت نہ کرنے کا بیان۔۔۔

2 hadiths in this chapter

190

Muwatta Imam Malik #190

Sahih

[190] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ : ہَلْ یَقْرَأُ أَحَدٌ خَلْفَ الإِمَامِ ؟ قَالَ : إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ خَلْفَ الإِمَامِ فَحَسْبُہُ قِرَائَ ۃُ الإِمَامِ وَإِذَا صَلَّی وَحْدَہُ فَلْیَقْرَأْ. قَالَ : وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ لَا یَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب یہ سوال کیا جاتا کہ کیا کوئی شخص امام کے پیچھے قراءت کر سکتا ہے ؟ تو وہ کہتے کہ جب تم میں سے کوئی شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے امام کی قراءت ہی کافی ہے ، البتہ جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو پھر اسے قراءت کر لینا چاہیے ۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے ۔

191

Muwatta Imam Malik #191

Sahih

[191] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃٍ جَہَرَ فِیہَا بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَالَ : ((ہَلْ قَرَأَ مَعِی مِنْکُمْ أَحَدٌ آنِفاً)). فَقَالَ : رَجُلٌ نَعَمْ أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ. قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :(( إنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ)). فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فِیمَا جَہَرَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالْقِرَائَ ۃِ حِینَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ( ایک دفعہ ) ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں آپ ﷺ نے جہری قراءت کی تھی ، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا :’’ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ساتھ قراءت کی تھی ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا کہ جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک میں بھی کہوں ( میں بھی دل میں سوچ رہا تھا ) کہ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ( تو وہ تمہاری قراءت تھی جو میرے لیے الجھاؤ اور پریشانی کا باعث بن رہی تھی ) ، چنانچہ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی تو وہ آپ کے ساتھ اُن نمازوں میں قراءت کرنے سے رُک گئے جن میں آپ جہری قراءت فرماتے تھے ۔