Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 3 · Chapter 42

نماز (کے مسائل) کی کتاب

حالتِ سفر میں اور بغیر وضو کے اذان کہنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

155

Muwatta Imam Malik #155

Sahih

[155] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلَاۃِ فِی لَیْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِیحٍ فَقَالَ أَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا کَانَتْ لَیْلَۃٌ بَارِدَۃٌ ذَاتُ مَطَرٍ یَقُولُ: (( أَ لَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ ))

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسی رات میں نماز کے لیے اذان دی جو سردی اور آندھی والی تھی تو انھوں نے اذان کے ساتھ ہی یہ بھی کہا : اَلَا صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ ’’ خبردار ! ( اپنی اپنی ) قیام گاہوں میں نماز ادا کر لو ۔‘‘ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ( دلیل کے طور پر ) کہا کہ یقیناً جب کوئی رات ٹھنڈی اور بارش والی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ ’’ اَلَا صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ ‘‘ کہے ۔

156

Muwatta Imam Malik #156

Sahih

[156] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا یَزِیدُ عَلَی الإِقَامَۃِ فِی السَّفَرِ إِلاَّ فِی الصُّبْحِ فَإِنَّہُ کَانَ یُنَادِی فِیہَا وَیُقِیمُ وَکَانَ یَقُولُ إِنَّمَا الأَذَانُ لِلإِمَامِ الَّذِی یَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَیْہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر کے دوران اقامت سے زیادہ کچھ نہ کرتے تھے ( یعنی صرف اقامت کہہ کر نماز پڑھ لیتے اور اذان نہ کہتے تھے ) سوائے فجر کے ، اس میں وہ اذان بھی کہتے اور اقامت بھی کہتے تھے اور وہ فرماتے کہ اذان تو صرف اور صرف اس امام کے لیے ہے جس کی طرف لوگ ( آتے اور ) جمع ہوتے ہیں ۔

157

Muwatta Imam Malik #157

Sahih

[157] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ لَہُ إِذَا کُنْتَ فِی سَفَرٍ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ وَتُقِیمَ فَعَلْتَ وَإِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ وَلَا تُؤَذِّنْ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اُن کے والد عروہ رحمہ اللہ نے اُن سے کہا کہ جب تو سفر میں ہو ، تو اگر تُو اذان اور اقامت دونوں کو کہنا چاہے تو کہہ لینا ، اور اگر تُو چاہے تو صرف اقامت کہہ لینا اور اذان نہ دینا ۔

158

Muwatta Imam Malik #158

Sahih

[158] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ مَنْ صَلَّی بِأَرْضِ فَلَاۃٍ صَلَّی عَنْ یَمِینِہِ مَلَکٌ وَعَنْ شِمَالِہِ مَلَکٌ فَإِذَا أَذَّنَ وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ أَوْ أَقَامَ صَلَّی وَرَائَ ہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ کہا کرتے تھے کہ جو شخص کسی صحرائی زمین میں ( یعنی صحرا میں یا جنگل میں اکیلا ہی ) نماز پڑھتا ہے ( اور اذان و اقامت نہیں کہتا ) تو ایک فرشتہ اس کے دائیں جانب اور ایک فرشتہ اس کے بائیں جانب نماز ادا کرتا ہے ، اور اگر وہ اذان اور اقامت بھی کہہ لے تو اس کے پیچھے پہاڑوں کی مانند ( کثرت سے ) فرشتے نماز ادا کرتے ہیں ۔