Muwatta Imam Malik #145
[145] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ أَرَادَ أَنْ یَتَّخِذَ خَشَبَتَیْنِ یُضْرَبُ بِہِمَا لِیَجْتَمِعَ النَّاسُ لِلصَّلَاۃِ فَأُرِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ الأَنْصَارِیُّ ثُمَّ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ خَشَبَتَیْنِ فِی النَّوْمِ فَقَالَ إِنَّ ہَاتَیْنِ لَنَحْوٌ مِمَّا یُرِیدُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَقِیلَ أَ لَا تُؤَذِّنُونَ لِلصَّلَاۃِ فَأَتَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ اسْتَیْقَظَ فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالأَذَانِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
یحیی بن سعید انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ ارادہ فرما چکے تھے کہ دو لکڑیاں لے لیں ، جن کو ( ایک دوسری کے ساتھ ) ضرب لگائی جائے ( جس سے آواز پیدا ہو کر لوگوں تک پہنچے ) تاکہ لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو جائیں ، ( لیکن ہوا یوں کہ اتنے میں ) حضرت عبداللہ بن زید ( بن عبد رَبِّہ ) انصاری رضی اللہ عنہ جو بنو حارث بن خزرج ، خاندان سے تھے ، اُنھیں خواب میں دو لکڑیاں دکھائی گئیں تو انھوں نے کہا : بے شک یہ دونوں تو بالکل اسی طرح کی ہیں جن کا رسول اللہ ﷺ ارادہ رکھتے ہیں ، تو کہا گیا کیا تم نماز کے لیے اذان نہیں کہتے ؟ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اُس وقت آئے جبکہ بیدار ہوئے ، پھر آپ ﷺ کے سامنے اس ( مکمل خواب ) کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اذان کا حکم فرما دیا ۔