Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 3 · Chapter 41

نماز (کے مسائل) کی کتاب

اُن روایات کا بیان جو نماز کی پکار یعنی اذان کے متعلق ۔۔

10 hadiths in this chapter

145

Muwatta Imam Malik #145

Sahih

[145] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ أَرَادَ أَنْ یَتَّخِذَ خَشَبَتَیْنِ یُضْرَبُ بِہِمَا لِیَجْتَمِعَ النَّاسُ لِلصَّلَاۃِ فَأُرِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ الأَنْصَارِیُّ ثُمَّ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ خَشَبَتَیْنِ فِی النَّوْمِ فَقَالَ إِنَّ ہَاتَیْنِ لَنَحْوٌ مِمَّا یُرِیدُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَقِیلَ أَ لَا تُؤَذِّنُونَ لِلصَّلَاۃِ فَأَتَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ اسْتَیْقَظَ فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالأَذَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ ارادہ فرما چکے تھے کہ دو لکڑیاں لے لیں ، جن کو ( ایک دوسری کے ساتھ ) ضرب لگائی جائے ( جس سے آواز پیدا ہو کر لوگوں تک پہنچے ) تاکہ لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو جائیں ، ( لیکن ہوا یوں کہ اتنے میں ) حضرت عبداللہ بن زید ( بن عبد رَبِّہ ) انصاری رضی اللہ عنہ جو بنو حارث بن خزرج ، خاندان سے تھے ، اُنھیں خواب میں دو لکڑیاں دکھائی گئیں تو انھوں نے کہا : بے شک یہ دونوں تو بالکل اسی طرح کی ہیں جن کا رسول اللہ ﷺ ارادہ رکھتے ہیں ، تو کہا گیا کیا تم نماز کے لیے اذان نہیں کہتے ؟ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اُس وقت آئے جبکہ بیدار ہوئے ، پھر آپ ﷺ کے سامنے اس ( مکمل خواب ) کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اذان کا حکم فرما دیا ۔

146

Muwatta Imam Malik #146

Sahih

[146] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ، عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا یَقُولُ الْمُؤَذِّنُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہا کرو جس طرح مؤذن کہتا ہے ۔‘‘

147

Muwatta Imam Malik #147

Sahih

[147] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَائِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا إِلاَّ أَنْ یَسْتَہِمُوا عَلَیْہِ لَاسْتَہَمُوا وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّہْجِیرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَیْہِ وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا )) ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر لوگوں کو وہ ( اجر و ثواب اور فضیلت ) معلوم ہو جائے جو اذان دینے اور صفِ اول ( میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے ) میں ہے ، پھر وہ ( اس فضیلت کے حصول کے لیے اور کوئی طریقہ ) نہ پائیں سوائے اس کے کہ اُن کو قرعہ اندازی کرنا پڑے تو ضرور وہ قرعہ بھی ڈال لیں ، اور اگر لوگوں کو وہ ( اجر و ثواب ) معلوم ہو جائے جو ظہر کی نماز کی طرف چلنے ( یا نمازوں کو اول وقت میں ادا کرنے ) میں ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں ، اور اگر لوگ اس ( عظیم ثواب ) کو جان لیں جو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر ( باجماعت ادا کرنے ) میں ہے تو وہ ضرور ان دونوں میں پہنچیں ، اگرچہ اُن کو گھٹنوں ( یا سُرینوں ) کے بل ( گھسٹ کر ) آنا پڑے ۔‘‘

148

Muwatta Imam Malik #148

Sahih

[148] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ أَبِیہِ وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُمَا أَخْبَرَاہُ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : (( إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاۃِ فَلَا تَأْتُوہَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوہَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِینَۃُ فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا فَإِنَّ أَحَدَکُمْ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَ یَعْمِدُ إِلَی الصَّلَاۃِ)) ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو نماز کی طرف اس حالت میں نہ آؤ کہ تم دوڑ رہے ہو بلکہ اس طرح نماز کو آؤ کہ تم سکینت و اطمینان کو لازم پکڑے ہوئے ہو ، پھر تم جو ( حصہ نماز امام کے ساتھ ) پا لو اُسے ( جماعت کے ساتھ ) پڑھ لو اور جو کچھ تم سے رہ جائے اُسے ( بعد میں ) پورا کر لو ، ( نماز کی طرف دوڑ کر آنا ممنوع ہے ) کیونکہ بلاشبہ جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف ( آنے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے ) کا قصد کر لیتا ہے تو وہ نماز ہی میں ( شمار ) ہوتا ہے ۔‘‘

149

Muwatta Imam Malik #149

Sahih

[149] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ الأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ لَہُ: (( إِنِّی أَرَاکَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِیَۃَ فَإِذَا کُنْتَ فِی غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ فَإِنَّہُ لَا یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ))۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل ( کی زندگی ) سے محبت رکھتے ہو ، لہٰذا جب تم اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان دینے لگو تو اذان کے ساتھ اپنی آواز کو ( خوب ) بلند کیا کرو ، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو کوئی جن اور انسان یا کوئی بھی دوسری چیز اُسے سنتی ہے وہ ضرور قیامت کے دن اُس کے حق میں گواہی دے گی ۔ پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔

150

Muwatta Imam Malik #150

Sahih

[150] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ (( إِذَا نُودِیَ لِلصَّلَاۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ لَہُ ضُرَاطٌ حَتَّی لَا یَسْمَعَ النِّدَائَ فَإِذَا قُضِیَ النِّدَائُ أَقْبَلَ حَتَّی إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاۃِ أَدْبَرَ حَتَّی إِذَا قُضِیَ التَّثْوِیبُ أَقْبَلَ حَتَّی یَخْطِرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ یَقُولُ اذْکُرْ کَذَا اذْکُرْ کَذَا لِمَا لَمْ یَکُنْ یَذْکُرُ حَتَّی یَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ یَدْرِی کَمْ صَلَّی۔))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر اس حال میں بھاگتا ہے کہ اس کی ہوا آواز کے ساتھ نکل رہی ہوتی ہے ، ( پھر اتنی دور جگہ چلا جاتا ہے ) یہاں تک کہ اذان کی آواز اُسے سنائی نہیں دیتی ، پھر جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے وہ ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، حتیٰ کہ جب اقامت پوری ہو جاتی ہے تو وہ ( آ جاتا ہے اور ) آدمی اور اس کے دل کے درمیان ( حائل ہو کر ) وسوسہ ڈالنے لگتا ہے ، آدمی سے کہتا ہے کہ فلاں چیز کو یاد کر ، فلاں چیز کو یاد کر ، اُن چیزوں کے بارے میں ( وسوسے ڈالتا اور یاد کراتا ہے ) جو آدمی کو یاد نہیں ہوتیں ، حتیٰ کہ آدمی ( کا حال ) ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتا ( اور یہ بھی یاد نہیں رکھ پاتا ) کہ اُس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔‘‘

151

Muwatta Imam Malik #151

Sahih

[151] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّہُ قَالَ سَاعَتَانِ یُفْتَحُ لَہُمَا أَبْوَابُ السَّمَائِ وَقَلَّ دَاعٍ تُرَدُّ عَلَیْہِ دَعْوَتُہُ حَضْرَۃُ النِّدَائِ لِلصَّلَاۃِ وَالصَّفُّ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : دو گھڑیاں ( دو اوقات ) ایسے ہیں کہ اُن میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور بہت کم ( نہ ہونے کے برابر ) ہیں ایسے دعا مانگنے والے کہ ( ان ساعتوں میں بھی ) اُن کی دعا اُن پر رد کر دی جاتی ہو ، ایک تو نماز کے لیے ( دی جانے والی ) اذان کا وقت ہے اور دوسرا اللہ کی راہ میں ( جہاد کے لیے ) صف بندی ( کا وقت ) ۔‘‘

152

Muwatta Imam Malik #152

Zaeef

[152] عَنْ مَالِکٍ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَائَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یُؤْذِنُہُ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ فَوَجَدَہُ نَائِمًا فَقَالَ الصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ۔ یَا اَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ فَأَمَرَہُ عُمَرُ أَنْ یَجْعَلَہَا فِی نِدَائِ الصُّبْحِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک مؤذن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ انھیں نمازِ فجر کی اطلاع دینا چاہتا تھا ، اُس نے اُنھیں سوئے ہوئے پایا تو کہنے لگا : اے امیر المؤمنین ! نماز نیند سے بہتر ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے حکم دیا کہ اسے ( یعنی اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کی صدا کو ) صبح کی اذان ہی میں رہنے دو ۔‘‘

153

Muwatta Imam Malik #153

Sahih

[153] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ مَا أَعْرِفُ شَیْئًا مِمَّا أَدْرَکْتُ عَلَیْہِ النَّاسَ إِلاَّ النِّدَائَ بِالصَّلَاۃِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ اپنے چچا ابو سہیل رحمہ اللہ بن مالک سے اور وہ اپنے باپ مالک رحمہ اللہ ( بن ابی عامر اصبحی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : جن چیزوں پر میں نے لوگوں ( یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کو ( عمل کرتے ہوئے ) پایا تھا ، میں اُن میں سے کسی چیز کو ( اب اس کی اصلی حالت پر باقی ) نہیں دیکھ رہا سوائے نماز کی پکار ( یعنی اذان ) کے ۔

154

Muwatta Imam Malik #154

Sahih

[154] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ سَمِعَ الإِقَامَۃَ وَہُوَ بِالْبَقِیعِ فَأَسْرَعَ الْمَشْیَ إِلَی الْمَسْجِدِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( مسجد کی طرف آتے ہوئے ) اقامت کی آواز سنی ، اس وقت وہ بقیع ( جگہ ) میں تھے ( جو مسجد سے تھوڑا سا پیچھے ہے ) تو انھوں نے مسجد کی طرف تیز چلنا شروع کر دیا ۔