Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 29 · Chapter 372

رضاعت ( بچوں کو دودھ پلانے ) کے مسائل کی کتاب

رضاعت کے متعلق مختلف احادیث کا بیان

3 hadiths in this chapter

1265

Muwatta Imam Malik #1265

Sahih

[1265] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ، مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رضاعت سے وہ ( سب ) کچھ حرام ہو جاتا ہے جو ولادت ( سلسلہ نسب ) سے حرام ہوتا ہے ۔‘‘

1266

Muwatta Imam Malik #1266

Sahih

[1266] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، عَنْ جُدَامَۃَ بِنْتِ وَہْبٍ الأَسَدِیَّۃِ، أَ نَّہَا أَخْبَرَتْہَا، أَ نَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ: لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أَنْہَی عَنِ الْغِیلَۃِ، حَتَّی ذَکَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ یَصْنَعُونَ ذَلِکَ، فَلاَ یَضُرُّ أَوْلاَدَہُمْ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : یقیناً میں نے یہ قصد کر لیا تھا کہ ’’ غیلہ ‘‘ ( حالت رضاعت میں مباشرت یا حالت حمل میں دودھ پلانے ) سے منع کر دوں ، یہاں تک کہ میرے سامنے ذکر کیا گیا کہ رومی اور فارسی لوگ بھی یہ عمل کرتے ہیں اور یہ کام ان کے بچوں کو کچھ ضرر نہیں پہنچاتا ۔‘‘

1267

Muwatta Imam Malik #1267

Sahih

[1267] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَ نَّہَا قَالَتْ : کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَہُنَّ مِمَّا یُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ قرآن مجید میں سے جو کچھ نازل ہوا تھا اس میں دس بار دودھ پلانا بھی تھا جو معلوم تھا ( ان میں شک نہ تھا تو ) انھی سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی ، پھر ان ( دس معلوم شدہ رضعات ) کو پانچ معلوم رضعات یعنی معلوم شدہ پانچ بار دودھ پلانے ( کے حکم ) کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا ، پھر ( ان پانچ والی آیت کی تلاوت بھی منسوخ کر دی گئی البتہ حکم باقی رہا لیکن سب لوگوں کو چونکہ ابھی اس کا علم نہ ہوا تھا اس لیے ) رسول اللہ ﷺ اس حال میں فوت ہوئے کہ ( کچھ لوگوں کے ہاں ) ان کو قرآن مجید میں پڑھا جا رہا تھا ۔