Muwatta Imam Malik #1262
[1262] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَ نَّہُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَکَانَ قَدْ شَہِدَ بَدْراً، وَکَانَ تَبَنَّی سَالِماً، الَّذِی یُقَالُ لَہُ: سَالِمٌ مَوْلَی أبِی حُذَیْفَۃَ، کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ، وَأَنْکَحَ أَبُو حُذَیْفَۃَ سَالِماً، وَہُوَ یَرَی أَ نَّہُ ابْنُہُ، أَنْکَحَہُ بِنْتَ أَخِیہِ فَاطِمَۃَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ، وَہِیَ یَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ الأُوَلِ، وَہِیَ مِنْ أَفْضَلِ أَیَامَی قُرَیْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِہِ، فِی زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ : {ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ} [الأحزاب : 5] رُدَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِکَ إِلَی أَبِیہِ، فَإِنْ لَمْ یُعْلَمْ أَبُوہُ، رُدَّ إِلَی مَوْلَاہُ، فَجَائَ تْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ، وَہِیَ امْرَأَۃُ أبِی حُذَیْفَۃَ، وَہِیَ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ , فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، کُنَّا نَرَی سَالِماً وَلَداً، وَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیَّ وَأَنَا فُضُلٌ، وَلَیْسَ لَنَا إِلاَّ بَیْتٌ وَاحِدٌ، فَمَاذَا تَرَی فِی شَأْنِہِ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَرْضِعِیہِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَیَحْرُمُ بِلَبَنِہَا وَکَانَتْ تَرَاہُ ابْناً مِنَ الرَّضَاعَۃِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِکَ عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، فِیمَنْ کَانَتْ تُحِبُّ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہَا مِنَ الرِّجَالِ، فَکَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَہَا أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، وَبَنَاتِ أَخِیہَا أَنْ یُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہَا مِنَ الرِّجَالِ، وَأَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ : لاَ وَاللّٰہِ مَا نَرَی الَّذِی أَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ سَہْلَۃَ بِنْتَ سُہَیْلٍ، إِلاَّ رُخْصَۃً مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِی رَضَاعَۃِ سَالِمٍ وَحْدَہُ، لاَ وَاللّٰہِ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا بِہَذِہِ الرَّضَاعَۃِ أَحَدٌ، فَعَلَی ہَذَا کَانَ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ﷺ فِی رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، ان سے ’’ رضاعت کبیر ‘‘ کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : مجھے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے ، وہ جنگ بدر میں بھی حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو اپنا متبنّیٰ یعنی منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جنھیں سالم مولیٰ ابی حذیفہ کہا جاتا تھا ، جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا ہوا تھا ۔ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کا نکاح کر دیا ، وہ انھیں اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے ، انھوں نے اپنی بھتیجی حضرت فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی تھی ، وہ اس وقت ابتدائی مہاجر عورتوں میں سے تھیں اور وہ اس وقت قریش کی سب سے افضل بیوگان میں سے تھیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ( رسول اللہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے ) حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق جو کچھ بھی نازل کیا اور فرمایا : {اُدْعُوْہُمْ لِاٰ بَآئِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآئَ ہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْکُمْ} ( الاحزاب : 5 ) ’’ ان ( لے پالکوں ) کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی نسبت سے پکارو ، اللہ کے نزدیک یہ بہت انصاف کی بات ہے ، پھر اگر تمھیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے مولیٰ ( دوست ) ہیں ۔‘‘ تو ( اس آیت کے نزول کے بعد ) لوگوں میں سے ہر اس شخص ( کے نام ) کو اس کے باپ کی طرف لوٹا دیا گیا جسے لے پالک بنایا جا چکا تھا ، پھر اگر اس کے باپ کا نام معلوم نہ ہوتا تو اسے اس کے آقا کی طرف منسوب کیا جانے لگا ( ابن کی جگہ مولی کا لفظ استعمال ہونے لگا ، چنانچہ سالم بن ابی حذیفہ کو سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما کہا جانے لگا ) پھر حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جو کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور بنو عامر بن لوی خاندان میں سے تھیں ، وہ کہنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول ! ہم تو سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے ، وہ میرے پاس اس حال میں آ جایا کرتا تھا کہ میں گھریلو کام کاج کے وقت استعمال کیا جانے والا سادا کپڑا لیے ہوئے ہوتی تھی اور ہمارے پاس ایک ہی گھر ہے تو آپ اس کے حوالے سے کیا خیال فرماتے ہیں ؟ چنانچہ ہمیں جو روایت پہنچی ہے اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ اسے پانچ بار دودھ پلا دے ‘‘ وہ ( ان کا رضاعی بیٹا بن کر ) ان پر حرام ہو جائے گا اور ( پھر ) وہ اسے اپنا رضاعی بیٹا ہی سمجھا کرتی تھیں ۔ ( ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ) ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی حدیث سے اخذ کیا ( اور استدلال کیا ) ان مردوں کے بارے میں جن کے متعلق وہ پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے پاس آئیں ، چنانچہ وہ اپنی بہن ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اور اپنی بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کے لیے ان مردوں کو دودھ پلا دیں جن کا اپنے پاس آنا وہ پسند کرتی تھیں اور ( لیکن ) نبی کریم ﷺ کی باقی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے یہ انکار کر دیا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی شخص اس طرح کی رضاعت کے ساتھ ان کے پاس آئے اور وہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ اکیلے سالم ہی کے لیے رخصت تھی ، ( لہٰذا ) اللہ کی قسم ! اس طرح کی رضاعت ( رضاعت کبیر ) کے ساتھ لوگوں میں سے کوئی بھی ہم پر داخل نہیں ہو سکتا ، چنانچہ رضاعت کبیر کے مسئلے میں ازواج پیغمبر ﷺ اسی موقف پر قائم تھیں ۔