Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 29 · Chapter 371

رضاعت ( بچوں کو دودھ پلانے ) کے مسائل کی کتاب

بڑی عمر ہونے کے بعد رضاعت کا بیان

3 hadiths in this chapter

1262

Muwatta Imam Malik #1262

Sahih

[1262] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَ نَّہُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَکَانَ قَدْ شَہِدَ بَدْراً، وَکَانَ تَبَنَّی سَالِماً، الَّذِی یُقَالُ لَہُ: سَالِمٌ مَوْلَی أبِی حُذَیْفَۃَ، کَمَا تَبَنَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ، وَأَنْکَحَ أَبُو حُذَیْفَۃَ سَالِماً، وَہُوَ یَرَی أَ نَّہُ ابْنُہُ، أَنْکَحَہُ بِنْتَ أَخِیہِ فَاطِمَۃَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ، وَہِیَ یَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ الأُوَلِ، وَہِیَ مِنْ أَفْضَلِ أَیَامَی قُرَیْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِہِ، فِی زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ : {ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ} [الأحزاب : 5] رُدَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِکَ إِلَی أَبِیہِ، فَإِنْ لَمْ یُعْلَمْ أَبُوہُ، رُدَّ إِلَی مَوْلَاہُ، فَجَائَ تْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ، وَہِیَ امْرَأَۃُ أبِی حُذَیْفَۃَ، وَہِیَ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ , فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، کُنَّا نَرَی سَالِماً وَلَداً، وَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیَّ وَأَنَا فُضُلٌ، وَلَیْسَ لَنَا إِلاَّ بَیْتٌ وَاحِدٌ، فَمَاذَا تَرَی فِی شَأْنِہِ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَرْضِعِیہِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَیَحْرُمُ بِلَبَنِہَا وَکَانَتْ تَرَاہُ ابْناً مِنَ الرَّضَاعَۃِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِکَ عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، فِیمَنْ کَانَتْ تُحِبُّ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہَا مِنَ الرِّجَالِ، فَکَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَہَا أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، وَبَنَاتِ أَخِیہَا أَنْ یُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہَا مِنَ الرِّجَالِ، وَأَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنْ یَدْخُلَ عَلَیْہِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ : لاَ وَاللّٰہِ مَا نَرَی الَّذِی أَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ سَہْلَۃَ بِنْتَ سُہَیْلٍ، إِلاَّ رُخْصَۃً مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِی رَضَاعَۃِ سَالِمٍ وَحْدَہُ، لاَ وَاللّٰہِ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا بِہَذِہِ الرَّضَاعَۃِ أَحَدٌ، فَعَلَی ہَذَا کَانَ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ﷺ فِی رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، ان سے ’’ رضاعت کبیر ‘‘ کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : مجھے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے ، وہ جنگ بدر میں بھی حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو اپنا متبنّیٰ یعنی منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جنھیں سالم مولیٰ ابی حذیفہ کہا جاتا تھا ، جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا لے پالک بنایا ہوا تھا ۔ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سالم رضی اللہ عنہ کا نکاح کر دیا ، وہ انھیں اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے ، انھوں نے اپنی بھتیجی حضرت فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی تھی ، وہ اس وقت ابتدائی مہاجر عورتوں میں سے تھیں اور وہ اس وقت قریش کی سب سے افضل بیوگان میں سے تھیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ( رسول اللہ ﷺ کے منہ بولے بیٹے ) حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق جو کچھ بھی نازل کیا اور فرمایا : {اُدْعُوْہُمْ لِاٰ بَآئِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآئَ ہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْکُمْ} ( الاحزاب : 5 ) ’’ ان ( لے پالکوں ) کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی نسبت سے پکارو ، اللہ کے نزدیک یہ بہت انصاف کی بات ہے ، پھر اگر تمھیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی اور تمھارے مولیٰ ( دوست ) ہیں ۔‘‘ تو ( اس آیت کے نزول کے بعد ) لوگوں میں سے ہر اس شخص ( کے نام ) کو اس کے باپ کی طرف لوٹا دیا گیا جسے لے پالک بنایا جا چکا تھا ، پھر اگر اس کے باپ کا نام معلوم نہ ہوتا تو اسے اس کے آقا کی طرف منسوب کیا جانے لگا ( ابن کی جگہ مولی کا لفظ استعمال ہونے لگا ، چنانچہ سالم بن ابی حذیفہ کو سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما کہا جانے لگا ) پھر حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں جو کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور بنو عامر بن لوی خاندان میں سے تھیں ، وہ کہنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول ! ہم تو سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے ، وہ میرے پاس اس حال میں آ جایا کرتا تھا کہ میں گھریلو کام کاج کے وقت استعمال کیا جانے والا سادا کپڑا لیے ہوئے ہوتی تھی اور ہمارے پاس ایک ہی گھر ہے تو آپ اس کے حوالے سے کیا خیال فرماتے ہیں ؟ چنانچہ ہمیں جو روایت پہنچی ہے اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ اسے پانچ بار دودھ پلا دے ‘‘ وہ ( ان کا رضاعی بیٹا بن کر ) ان پر حرام ہو جائے گا اور ( پھر ) وہ اسے اپنا رضاعی بیٹا ہی سمجھا کرتی تھیں ۔ ( ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ) ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی حدیث سے اخذ کیا ( اور استدلال کیا ) ان مردوں کے بارے میں جن کے متعلق وہ پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے پاس آئیں ، چنانچہ وہ اپنی بہن ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اور اپنی بھتیجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کے لیے ان مردوں کو دودھ پلا دیں جن کا اپنے پاس آنا وہ پسند کرتی تھیں اور ( لیکن ) نبی کریم ﷺ کی باقی تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے یہ انکار کر دیا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی شخص اس طرح کی رضاعت کے ساتھ ان کے پاس آئے اور وہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ اکیلے سالم ہی کے لیے رخصت تھی ، ( لہٰذا ) اللہ کی قسم ! اس طرح کی رضاعت ( رضاعت کبیر ) کے ساتھ لوگوں میں سے کوئی بھی ہم پر داخل نہیں ہو سکتا ، چنانچہ رضاعت کبیر کے مسئلے میں ازواج پیغمبر ﷺ اسی موقف پر قائم تھیں ۔

1263

Muwatta Imam Malik #1263

Sahih

[1263] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَأَنَا مَعَہُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَائِ یَسْأَلُہُ عَنْ رَضَاعَۃِ الْکَبِیرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إنِّی کَانَتْ لِی وَلِیدَۃٌ وَکُنْتُ أَطَؤُہَا، فَعَمَدَتِ امْرَأَتِی إِلَیْہَا فَأَرْضَعَتْہَا، فَدَخَلْتُ عَلَیْہَا فَقَالَتْ : دُونَکَ فَقَدْ وَاللّٰہِ أَرْضَعْتُہَا۔ فَقَالَ عُمَرُ : أَوْجِعْہَا وَأْتِ جَارِیتَکَ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ رَضَاعَۃُ الصَّغِیرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اس حال میں کہ میں بھی ’’ دارالقضاء ‘‘ کے پاس ان کے ہمراہ تھا ، وہ ان سے رضاعت کبیر یعنی بڑی عمر والے شخص کی رضاعت کے متعلق سوال کر رہا تھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، پھر کہنے لگا کہ بے شک میری ایک لونڈی تھی جس سے میں ہم بستری کیا کرتا تھا ، تو میری بیوی نے اس لونڈی کو دودھ پلا دیا ۔ پھر ( جب ) میں اس لونڈی کے پاس گیا تو میری بیوی کہنے لگی کہ ( مجھ سے یہ بات ) لے لو ، یقیناً اللہ کی قسم ! میں نے اسے دودھ پلا دیا ہے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیوی کو سزا دو اور اپنی لونڈی کے پاس جاؤ ، یقیناً معتبر رضاعت تو چھوٹی عمر والے ( دو سال سے کم عمر بچے ) ہی کی ہوتی ہے ۔‘‘

1264

Muwatta Imam Malik #1264

Sahih

[1264] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ فَقَالَ : إنِّی مَصِصْتُ مِنْ امْرَأَتِی مِنْ ثَدْیِہَا لَبَناً، فَذَہَبَ فِی بَطْنِی، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : لاَ أُرَاہَا إِلاَّ قَدْ حَرُمَتْ عَلَیْکَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ : انْظُرْ مَاذَا تُفْتِی بِہِ الرَّجُلَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : فَمَاذَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ : لاَ رَضَاعَۃَ إِلاَّ مَا کَانَ فِی الْحَوْلَیْنِ۔ فَقَالَ أَبُو مُوسَی : لاَ تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ، مَا کَانَ ہَذَا الْحَبْرُ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کے پستان سے دودھ چوس لیا تو وہ میرے پیٹ میں چلا گیا ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تو اسے کچھ اور خیال نہیں کرتا مگر یہی کہ وہ تم پر یقیناً حرام ہو چکی ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ دیکھیں ، آپ اس شخص کو کیا فتویٰ دے رہے ہیں ؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ پھر آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رضاعت معتبر ہی نہیں ہوتی مگر صرف وہ جو دو سال کے اندر اندر ہو ۔ تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ( لوگو ! ) مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں مت پوچھا کرو جب تک کہ یہ عالم ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تمھارے درمیان میں موجود ہیں ۔