Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 29 · Chapter 370

رضاعت ( بچوں کو دودھ پلانے ) کے مسائل کی کتاب

چھوٹے بچے کو دودھ پلانے کا بیان

12 hadiths in this chapter

1250

Muwatta Imam Malik #1250

Sahih

[1250] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَخْبَرَتْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ عِنْدَہَا، وَأَ نَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِ حَفْصَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ہَذَا رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أُرَاہُ فُلاَناً لِعَمٍّ لِحَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَوْ کَانَ فُلاَنٌ حَیًّا - لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ - دَخَلَ عَلَیَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اُمّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس موجود تھے اور ( اتنے میں ) انھوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یہ کس مرد کی آواز ہے جو آپ ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘‘ آپ ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا کا نام لیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول ! اگر فلاں شخص زندہ ہوتا تو کیا وہ بھی میرے پاس آ سکتا تھا ؟ انھوں نے اپنے ایک رضاعی چچا کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ بلاشبہ رضاعت بھی ہر اس چیز کو حرام کر دیتی ہے جسے ولادت حرام کرتی ہے ۔‘‘

1251

Muwatta Imam Malik #1251

Sahih

[1251] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ عَمِّی مِنَ الرَّضَاعَۃِ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ، فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ عَلَیَّ، حَتَّی أَسْأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذَلِکَ، فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہُ عَمُّکِ فَأْذَنِی لَہُ قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ، وَلَمْ یُرْضِعْنِی الرَّجُلُ۔ فَقَالَ : إِنَّہُ عَمُّکِ، فَلْیَلِجْ عَلَیْکِ قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَذَلِکَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَیْنَا الْحِجَابُ۔ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا جان آئے ، وہ میرے پاس داخل ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انکار کر دیا کہ انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت دوں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لوں ، وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تمھارے چچا ہیں ، انھیں اجازت دے دو ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد ( رضاعی باپ ) نے تو دودھ نہیں پلایا ۔ تو آپ ﷺ نے ( پھر بھی یہی ) فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمھارے چچا ہیں ، وہ تمھارے پاس آ سکتے ہیں ‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ معاملہ ہم پر پردہ فرض کر دیے جانے کے بعد کا ہے ، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : رضاعت سے وہ ( سب کچھ ) حرام ہو جاتا ہے جو ولادت ( اور نسب ) سے حرام ہوتا ہے ۔

1252

Muwatta Imam Malik #1252

Sahih

[1252] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَ نَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أبِی الْقُعَیْسِ، جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا، وَہُوَ عَمُّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ، بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ : فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ عَلَیَّ، فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِی أَنْ آذَنَ لَہُ عَلَیَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک ( ان کے رضاعی والد ) ابوالقعیس کے بھائی حضرت افلح رضی اللہ عنہ آئے ، وہ ان کے پاس آنے کی اجازت چاہ رہے تھے اور وہ ان کے رضاعی چچا تھے ( اور یہ واقعہ ) حجاب کے نزول کے بعد ( کا ہے ) وہ کہتی ہیں کہ میں نے انکار کر دیا کہ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت دوں ، پھر جب رسول اللہ ﷺ آئے تو میں نے جو کچھ کیا تھا آپ کو اس کی خبر دے دی تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے دوں ۔

1253

Muwatta Imam Malik #1253

Sahih

[1253] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَا کَانَ فِی الْحَوْلَیْنِ، وَإِنْ کَانَ مَصَّۃً وَاحِدَۃً، فَہُوَ یُحَرِّمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ جو ( دودھ ) دو سال میں ( پلایا گیا ) ہو ، اگرچہ ایک بار چوسنا ہی ہو تو بلاشبہ وہ حرمت کو ثابت کر دے گا ۔

1254

Muwatta Imam Malik #1254

Sahih

[1254] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ، فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاہُمَا غُلاَماً، وَأَرْضَعَتِ الأُخْرَی جَارِیَۃً، فَقِیلَ لَہُ : ہَلْ یَتَزَوَّجُ الْغُلاَمُ الْجَارِیَۃَ ؟ فَقَالَ لاَ : اللِّقَاحُ وَاحِدٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شرید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرد کے متعلق سوال کیا گیا کہ اس کی دو بیویاں تھیں ، ان میں سے ایک نے کسی بچے کو دودھ پلایا اور دوسری نے ایک بچی کو دودھ پلایا ۔ سو ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لڑکا اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ ’’ مَائُ الْفَحْل ‘‘ ( نر کا پانی ) ایک ہے ۔

1255

Muwatta Imam Malik #1255

Sahih

[1255] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لاَ رَضَاعَۃَ إِلاَّ لِمَنْ أُرْضِعَ فِی الصِّغَرِ، وَلاَ رَضَاعَۃَ لِکَبِیرٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ کوئی رضاعت ثابت نہیں ہوتی مگر صرف اس بچے کے لیے جسے بچپن ( کے ابتدائی دو سالوں ) میں دودھ پلایا جائے ، بڑے کی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔

1256

Muwatta Imam Malik #1256

Zaeef

[1256] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، أَرْسَلَتْ بِہِ وَہُوَ یَرْضَعُ إِلَی أُخْتِہَا أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَقَالَتْ : أَرْضِعِیہِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ، حَتَّی یَدْخُلَ عَلَیَّ۔ قَالَ سَالِمٌ : فَأَرْضَعَتْنِی أُمُّ کُلْثُومٍ ثَلاَثَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ مَرِضَتْ، فَلَمْ تُرْضِعْنِی غَیْرَ ثَلاَثِ رَضَعَاتٍ، فَلَمْ أَکُنْ أَدْخُلُ عَلَی عَائِشَۃَ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ کُلْثُومٍ لَمْ تُتِمَّ لِی عَشْرَ رَضَعَاتٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں اپنی ہمشیرہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، اس وقت انھیں ( یعنی سالم رحمہ اللہ کو ) دودھ پلایا جا رہا تھا ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنی بہن سے ) کہا کہ اسے دس بار دودھ پلا دو تاکہ وہ ( میرا رضاعی بھانجا بن کر ) میرے پاس داخل ہو سکے ۔ سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ام کلثوم نے مجھے تین بار دودھ پلایا ، پھر وہ بیمار ہو گئیں چنانچہ وہ تین بار دودھ سے زیادہ مجھے نہ پلا سکیں اس لیے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل نہ ہو سکتا تھا ، اس وجہ سے کہ ام کلثوم مجھے دس بار دودھ پلانے کی تکمیل نہ کر سکی تھیں ۔

1257

Muwatta Imam Malik #1257

Sahih

[1257] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أبِی عُبَیْدٍ، أَخْبَرَتْہُ أَنَّ حَفْصَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، أَرْسَلَتْ بِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ، إِلَی أُخْتِہَا فَاطِمَۃَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تُرْضِعُہُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِیَدْخُلَ عَلَیْہَا، وَہُوَ صَغِیرٌ یَرْضَعُ، فَفَعَلَتْ، فَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفیہ بنت ابی عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو اپنی ہمشیرہ فاطمہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ اسے دس بار دودھ پلا دیں تاکہ وہ ( عاصم رضاعی بھانجا بن کر محرم بن جائے اور بڑا ہو کر ) ان کے پاس آ سکے ، وہ عاصم اس وقت چھوٹے بچے تھے اور انھیں دودھ پلایا جا رہا تھا ۔ چنانچہ انھوں ( فاطمہ بنت عمر ) نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ عاصم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہو جایا کرتا تھا ۔

1258

Muwatta Imam Malik #1258

Sahih

[1258] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ ، کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا مَنْ أَرْضَعَہُ أَخَوَاتُہَا، وَبَنَاتُ أَخِیہَا، وَلاَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا مَنْ أَرْضَعَہُ نِسَائُ إِخْوَتِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کے پاس ہر وہ شخص داخل ہوا کرتا تھا جسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہنوں نے دودھ پلایا ہوتا تھا ( کیونکہ ایسے بچے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے محرم اور رضاعی بھانجے اور وہ ان کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) اور ان کی بھتیجیوں نے ( جسے دودھ پلایا ہوتا تھا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی نواسے بن جاتے اور وہ ان کی رضاعی نانی یعنی بچوں کی رضاعی نانا کی بہن لگتی تھیں ) اور وہ بچے ان کے پاس داخل نہیں ہو سکتے تھے جنھیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھابھیوں نے دودھ پلایا ہوتا تھا ۔

1259

Muwatta Imam Malik #1259

Sahih

[1259] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ، أَ نَّہُ سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الرَّضَاعَۃِ، فَقَالَ سَعِیدٌ : کُلُّ مَا کَانَ فِی الْحَوْلَیْنِ، وَإِنْ کَانَتْ قَطْرَۃً وَاحِدَۃً فَہُوَ یُحَرِّمُ، وَمَا کَانَ بَعْدَ الْحَوْلَیْنِ، فَإِنَّمَا ہُوَ طَعَامٌ یَأْکُلُہُ۔ قَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عُقْبَۃَ : ثُمَّ سَأَلْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ : مِثْلَ مَا قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم بن عقبہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سعید بن مسیب سے رضاعت کے متعلق سوال کیا تو سعید نے فرمایا : ہر وہ ( دودھ پلانے کا عمل ) جو دو سال کے اندر اندر ہو اگرچہ ایک ہی قطرہ ہو تو وہ حرمت ثابت کر دے گا اور ہر وہ جو دو سال کے بعد ہو بلاشبہ وہ تو صرف ایک ( عام ) کھانا ہے جسے بچے نے کھایا ہوتا ہے ۔ ابراہیم بن عقبہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے پوچھا تو انھوں نے بھی اسی کی مثل فرمایا جو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرما چکے تھے ۔

1260

Muwatta Imam Malik #1260

Sahih

[1260] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : لاَ رَضَاعَۃَ إِلاَّ مَا کَانَ فِی الْمَہْدِ، وَإِلاَّ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : رضاعت ثابت ہی نہیں ہوتی مگر اس بچے کی ، جو گود ( کی عمر ) میں ہو اور صرف اس دودھ کی جو گوشت اور خون اگائے ۔

1261

Muwatta Imam Malik #1261

Sahih

[1261] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : الرَّضَاعَۃُ قَلِیلُہَا وَکَثِیرُہَا تُحَرِّمُ، وَالرَّضَاعَۃُ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ تُحَرِّمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے : دودھ پلانا خواہ قلیل ہو یا کثیر ، وہ حرمت ثابت کر دیتا ہے اور رضاعت مردوں کی طرف سے بھی حرمت ثابت کرتی ہے ۔