Muwatta Imam Malik #1250
[1250] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَخْبَرَتْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ عِنْدَہَا، وَأَ نَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِ حَفْصَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، ہَذَا رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أُرَاہُ فُلاَناً لِعَمٍّ لِحَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَوْ کَانَ فُلاَنٌ حَیًّا - لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ - دَخَلَ عَلَیَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ ۔
اردو ترجمہ · Urdu
اُمّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس موجود تھے اور ( اتنے میں ) انھوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یہ کس مرد کی آواز ہے جو آپ ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘‘ آپ ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا کا نام لیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول ! اگر فلاں شخص زندہ ہوتا تو کیا وہ بھی میرے پاس آ سکتا تھا ؟ انھوں نے اپنے ایک رضاعی چچا کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ بلاشبہ رضاعت بھی ہر اس چیز کو حرام کر دیتی ہے جسے ولادت حرام کرتی ہے ۔‘‘