Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 369

طلاق کے مسائل کی کتاب

سوگ نانے ( عدت وفات گزارنے ) کا بیان

7 hadiths in this chapter

1243

Muwatta Imam Malik #1243

Sahih

[1243] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أبِی سَلَمَۃَ : أَ نَّہَا أَخْبَرَتْہُ ہَذِہِ الأَحَادِیثَ الثَّـلَاثَۃَ قَالَتْ زَیْنَبُ : دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِیبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ حِینَ تَوَفَّی أَبُوہَا أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِطِیبٍ، فِیہِ صُفْرَۃٌ خَلُوقٌ أَوْ غَیْرُہُ، فَدَہَنَتْ بِہِ جَارِیَۃً، ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَیْہَا، ثُمَّ قَالَتْ : وَاللّٰہِ مَا لِی بِالطِّیبِ مِنْ حَاجَۃٍ، غَیْرَ إنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیْتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَیَالٍ، إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ، أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً۔ قَالَتْ زَیْنَبُ: ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ تُوُفِّی أَخُوْہَا وَسَمِعْتُ أُمِّی أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ تَقُولُ: جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ ابْنَتِی تَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا، وَقَدِ اشْتَکَتْ عَیْنَیْہَا، أَفَتَکْحُلُہُمَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لاَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثاً، کُلُّ ذَلِکَ یَقُولُ : لَا، ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا ہِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْراً، وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ : فَقُلْتُ لِزَیْنَبَ : وَمَا تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ ؟ فَقَالَتْ زَیْنَبُ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ إِذَا تَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا، دَخَلَتْ حِفْشاً، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِیَابِہَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِیباً وَلاَ شَیْئاً، حَتَّی تَمُرَّ بِہَا سَنَۃٌ، ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّۃٍ، حِمَارٍ أَوْ شَاۃٍ أَوْ طَیْرٍ، فَتَفْتَضُّ بِہِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَیْئٍ إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَۃً، فَتَرْمِی بِہَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَ تْ مِنْ طِیبٍ أَوْ غَیْرِہِ۔ قَالَ مَالِکٌ : وَالْحِفْشُ الْبَیْتُ الرَّدِیئُ، وَتَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِہِ جِلْدَہَا، کَالنُّشْرَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے انھیں تین احادیث کی خبر دی : ( 1 ) حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے ، چنانچہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی یا کسی اور چیز کی زرد رنگت شامل تھی ، پھر انھوں نے وہ خوشبو ایک لونڈی کو ( تیل کی طرح ) لگائی پھر اپنے رخساروں پر ( خوشبو والے ) ہاتھوں کو پھیر لیا ۔ پھر کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی بالکل حاجت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا :’’ وہ عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ منائے ، سوائے خاوند کے کہ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی ۔ ( 2 ) سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ( ایک اور موقع پر ) میں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کے پاس اس وقت داخل ہوئی جب ان کے بھائی فوت ہوئے تو انھوں نے بھی ایک خوشبو منگوائی ، پھر اس میں سے کچھ لگا لی ، پھر کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو کی بالکل حاجت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا تھا :’’ وہ عورت جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ منائے ، سوائے خاوند کے کہ جس پر وہ چار ماہ دس دن عدت گزارے گی ( 3 ) حضرت زینب ( بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کو یہ کہتے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی ، اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا ہم اسے سرمہ لگا سکتے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے دو بار یا تین بار فرمایا :’’ نہیں ‘‘ ہر بار میں ’’ نہیں ، نہیں ‘‘ فرماتے رہے ، پھر ارشاد فرمایا :’’ یقیناً وہ ( اسلام میں عدت وفات ) تو صرف چار ماہ دس دن ہی ہیں ( تو کیا تم یہ بھی نہیں گزار سکتیں ) اور دور جاہلیت میں تم میں سے کوئی عورت سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکا کرتی تھی ۔‘‘ ( حدیث کے راوی ) حمید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکا کرتی تھی ؟‘‘ تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک گھٹیا قسم کے مکان میں داخل ہو جاتی اور اپنے سب سے برے کپڑے پہن لیتی ، اور نہ خوشبو لگاتی اور نہ کچھ اور ( زینت اختیار کرتی ) یہاں تک کہ اس پر سال گزر جاتا ، پھر اس کے پاس ایک گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا ، پھر وہ اس جانور کو اپنے جسم کے ساتھ رگڑتی ( اور غسل کرتی ) اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ وہ جس چیز کو رگڑتی ہو وہ مرتی نہ ہو ۔ پھر اس کے پاس اونٹ کی ایک مینگنی لائی جاتی جسے وہ پھینکتی ، پھر وہ اس کے بعد خوشبو وغیرہ میں سے جو چاہتی استعمال کر لیتی ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس روایت کے لفظ ’’ اَلْحِفْش ‘‘ سے مراد گھٹیا سا گھر ہے اور ’’ تَفْتَضُّ ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اسے ’’ نُشْرَہ ‘‘ ( بیمار یا آسیب زدہ شخص کے تعویذ ) کی طرح اپنے جسم پر ملتی تھی ۔

1244

Muwatta Imam Malik #1244

Sahih

[1244] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ أبِی عُبَیْدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ زَوْجَی النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَیَالٍ، إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ازواج رسول ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ منائے سوائے خاوند کے ۔‘‘

1245

Muwatta Imam Malik #1245

Zaeef

[1245] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ ، قَالَتْ لاِمْرَأَۃٍ حَادٍّ عَلَی زَوْجِہَا، اشْتَکَتْ عَیْنَیْہَا، فَبَلَغَ ذَلِکَ مِنْہَا : اکْتَحِلِی بِکُحْلِ الْجِلاَئِ بِاللَّیْلِ، وَامْسَحِیہِ بِالنَّہَارِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ نے ایک عورت سے فرمایا جو اپنے خاوند پر سوگ منا رہی تھی ، اس کی آنکھیں خراب تھیں اور اس بیماری کی خبر اسے پہنچتی ، ( سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ ) نظر بڑھانے والا سرمہ ( اثمد ) رات کو لگا لے اور دن کو اسے صاف کر دے ۔

1246

Muwatta Imam Malik #1246

Zaeef

[1246] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُمَا کَانَا یَقُولاَنِ فِی الْمَرْأَۃِ یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا : إِنَّہَا إِذَا خَشِیَتْ عَلَی بَصَرِہَا مِنْ رَمَدٍ بِہَا، أَوْ شَکْوٍ أَصَابَہَا، إِنَّہَا تَکْتَحِلُ وَتَتَدَاوَی، بِدَوَائٍ أَوْ کُحْلٍ، وَإِنْ کَانَ فِیہِ طِیبٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہما سے روایت ہے ، وہ دونوں اس عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے ، ( اس کی عدت ) کے متعلق فرمایا کرتے تھے : جب وہ اپنی نظر کے متعلق آشوبِ چشم ( آنکھ پھولنے ، آنکھ دکھنے ) کا خطرہ محسوس کرے یا اسے ( آنکھ میں ) کوئی اور بیماری لگ جائے تو بلاشبہ وہ سرمہ بھی لگا سکتی ہے اور کسی دوسری دوائی یا سرمہ کے ساتھ علاج بھی کرا سکتی ہے ، خواہ اس میں خوشبو بھی ہو ۔

1247

Muwatta Imam Malik #1247

Sahih

[1247] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أبِی عُبَیْدٍ اشْتَکَتْ عَیْنَیْہَا، وَہِیَ حَادٌّ عَلَی زَوْجِہَا عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمْ تَکْتَحِلْ حَتَّی کَادَتْ عَیْنَاہَا تَرْمَصَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفیہ بنت ابی عبید سے روایت ہے کہ ان کی آنکھ دکھنے لگی ، اس حال میں کہ وہ اس وقت اپنے خاوند حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( کی وفات ) پر سوگ ( عدت ) گزار رہی تھیں ، چنانچہ انھوں نے ( باوجود تکلیف کے ) سرمہ نہ لگایا یہاں تک کہ قریب تھا کہ ان کی آنکھوں سے سفید میل نکلنے لگتی ۔

1248

Muwatta Imam Malik #1248

Zaeef

[1248] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : أَ نَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ وَہِیَ حَادٌّ عَلَی أبِی سَلَمَۃَ، وَقَدْ جَعَلَتْ عَلَی عَیْنَیْہَا صَبِراً، فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أُمَّ سَلَمَۃَ؟ فَقَالَتْ : إِنَّمَا ہُوَ صَبِرٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ قَالَ : اجْعَلِیہِ فِی اللَّیْلِ، وَامْسَحِیہِ بِالنَّہَارِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کے پاس گئے ، وہ اس وقت ( اپنے گزشتہ شوہر ) حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ( کی وفات کے بعد دورانِ عدت ان ) پر سوگ میں تھیں اور انھوں نے اپنی آنکھوں پر ایلوا لگا رکھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام سلمہ ! یہ کیا ( لگا رکھا ہے ) ؟‘‘ وہ بولیں کہ اے اللہ کے رسول ! یہ تو صرف ایلوا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے رات کو لگا لو اور دن کو صاف کر ڈالو ۔‘‘

1249

Muwatta Imam Malik #1249

Zaeef

[1249] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ کَانَتْ تَقُولُ : تَجْمَعُ الْحَادُّ رَأْسَہَا بِالسِّدْرِ وَالزَّیْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ فرمایا کرتی تھیں : سوگ گزارنے والی عورت اپنے سر ( کے بالوں ) کو بیری اور زیتون کے تیل کے ساتھ اکٹھا کر سکتی ہے ۔