Muwatta Imam Malik #1232
[1232] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : إِنَّ یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ فَرَّقَ بَیْنَ رِجَالٍ وَبَیْنَ نِسَائِہِمْ، وَکُنَّ أُمَّہَاتِ أَوْلاَدِ رِجَالٍ ہَلَکُوا، فَتَزَوَّجُوہُنَّ بَعْدَ حَیْضَۃٍ أَوْ حَیْضَتَیْنِ، فَفَرَّقَ بَیْنَہُمْ حَتَّی یَعْتَدُّونَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً۔ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : سُبْحَانَ اللّٰہِ، یَقُولُ اللَّہُ تَبَارکَ وتَعَالَی فِی کِتَابِہِ : {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجاً} [البقرۃ : 240] مَا ہُنَّ مِنَ الأَزْوَاجِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ( اموی بادشاہ ) یزید بن عبدالملک نے کچھ مردوں اور ان کی بیویوں کے درمیان جدائی کرا دی ، وہ عورتیں ( دراصل ) ان مردوں کی ام ولد لونڈیاں تھیں جو فوت ہو چکے تھے ، تو ان ( کچھ دوسرے ) مردوں نے ان کے ایک حیض یا دو حیض گزرنے کے بعد ان سے شادی کر لی تھی ، چنانچہ یزید بن عبدالملک نے ان کے درمیان تفریق کرا دی یہاں تک کہ وہ چار ماہ دس دن ( مکمل ) عدت گزار لیں ( تو پھر ان سے شادی کی اجازت دی ، حدیث کے راوی ) قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے ( یزید بن عبدالملک کا انکار کرتے ہوئے ازروئے تعجب ) کہا : سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ تو اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا } ( البقرہ : 234 ) ’’ اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ۔‘‘ ( یہ چار ماہ دس دن والی عدت تو بیویوں کی ہے ) اور یہ عورتیں ( ام ولد لونڈیاں ) تو بیویاں نہیں تھیں ۔