Muwatta Imam Malik #1227
[1227] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ عَمَّتِہِ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّ الْفُرَیْعَۃَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ - وَہِیَ أُخْتُ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَخْبَرَتْہَا : أَ نَّہَا جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ تَسْأَلُہُ، أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَہْلِہَا فِی بَنِی خُدْرَۃَ، فَإِنَّ زَوْجَہَا خَرَجَ فِی طَلَبِ أَعْبُدٍ لَہُ أَبَقُوا، حَتَّی إِذَا کَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَہُمْ فَقَتَلُوہُ۔ قَالَتْ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی أَہْلِی فِی بَنِی خُدْرَۃَ، فَإِنَّ زَوْجِی لَمْ یَتْرُکْنِی فِی مَسْکَنٍ یَمْلِکُہُ وَلاَ نَفَقَۃَ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ قَالَتْ : فَانْصَرَفْتُ، حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِی الْحُجْرَۃِ نَادَانِی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، أَوْ أَمَرَ بِی فَنُودِیتُ لَہُ، فَقَالَ : کَیْفَ قُلْتِ ؟فَرَدَّدْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ الَّتِی ذَکَرْتُ لَہُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِی، فَقَالَ : امْکُثِی فِی بَیْتِکِ، حَتَّی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ قَالَتْ : فَاعْتَدَدْتُ فِیہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً، قَالَتْ : فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَسَأَلَنِی عَنْ ذَلِکَ، فَأَخْبَرْتُہُ، فَاتَّبَعَہُ وَقَضَی بِہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
زینب بنت کعب بن عجرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ تھیں ، نے انھیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، وہ آپ ﷺ سے یہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ اپنے گھر والوں ( اپنے میکے ) کی طرف یعنی بنو خدرہ میں لوٹ جائیں ، کیونکہ ( ہوا یوں تھا کہ ) بلاشبہ ان کے خاوند اپنے کچھ غلاموں کی تلاش میں نکلے جو بھاگ گئے تھے ، یہاں تک کہ جب وہ ( بھگوڑے غلام مدینہ سے چھ سات میل دور ) قدوم کے کنارے تک پہنچے تو انھوں نے ( یعنی ان کے خاوند اور غلاموں کے آقا نے ) انھیں پا لیا ( لیکن ) پھر ان غلاموں نے انھیں قتل کر ڈالا ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ( کیا ) میں بنو خدرہ میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤں ؟ کیونکہ یقیناً میرے خاوند نے مجھے کسی ایسی رہائش گاہ میں نہیں چھوڑا جس کے وہ خود مالک ہوں اور نہ ہی نفقہ چھوڑا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ( چلی جاؤ ) ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ میں واپس پھری ، یہاں تک کہ جب میں ( ابھی ) حجرہ مبارک ہی میں تھی ( اور باہر بھی نہ پہنچی تھی ) کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی اور میرے متعلق ( یعنی مجھے بلانے کا ) حکم صادر فرمایا ، چنانچہ مجھے آپ ﷺ ( کے پاس واپس آنے ) کے لیے آواز لگائی گئی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کس طرح سوال کیا تھا ؟‘‘ ( ذرا اسے دہراؤ ) میں نے آپ ﷺ کے سامنے وہ سارا قصہ دہرا دیا جس کا میں اپنے خاوند کے حوالے سے آپ ﷺ کے حضور تذکرہ کر چکی تھی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ( خاوند والے عارضی ) گھر ہی میں ٹھہری رہو ، یہاں تک کہ ( اللہ کی ) کتاب ( میں لکھی ہوئی عدت ) اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائے ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ پھر میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری ، وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ( مسند خلافت پر متمکن ) تھے انھوں نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھ سے اس کے متعلق سوال کیا تو میں نے انھیں یہ سب کچھ بتا دیا ، پھر انھوں نے بھی اس کی اتباع کی اور اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا ۔