Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 365

طلاق کے مسائل کی کتاب

فوت شدہ خاوند والی عورت کے اپنے ہی ( خاوند کے ) گھر میں اختتامِ عدت تک ٹھہرے رہنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1227

Muwatta Imam Malik #1227

Sahih

[1227] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ عَمَّتِہِ زَیْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّ الْفُرَیْعَۃَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ - وَہِیَ أُخْتُ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَخْبَرَتْہَا : أَ نَّہَا جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ تَسْأَلُہُ، أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَہْلِہَا فِی بَنِی خُدْرَۃَ، فَإِنَّ زَوْجَہَا خَرَجَ فِی طَلَبِ أَعْبُدٍ لَہُ أَبَقُوا، حَتَّی إِذَا کَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَہُمْ فَقَتَلُوہُ۔ قَالَتْ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی أَہْلِی فِی بَنِی خُدْرَۃَ، فَإِنَّ زَوْجِی لَمْ یَتْرُکْنِی فِی مَسْکَنٍ یَمْلِکُہُ وَلاَ نَفَقَۃَ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ قَالَتْ : فَانْصَرَفْتُ، حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِی الْحُجْرَۃِ نَادَانِی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، أَوْ أَمَرَ بِی فَنُودِیتُ لَہُ، فَقَالَ : کَیْفَ قُلْتِ ؟فَرَدَّدْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ الَّتِی ذَکَرْتُ لَہُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِی، فَقَالَ : امْکُثِی فِی بَیْتِکِ، حَتَّی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ قَالَتْ : فَاعْتَدَدْتُ فِیہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً، قَالَتْ : فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَسَأَلَنِی عَنْ ذَلِکَ، فَأَخْبَرْتُہُ، فَاتَّبَعَہُ وَقَضَی بِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زینب بنت کعب بن عجرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ تھیں ، نے انھیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، وہ آپ ﷺ سے یہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ اپنے گھر والوں ( اپنے میکے ) کی طرف یعنی بنو خدرہ میں لوٹ جائیں ، کیونکہ ( ہوا یوں تھا کہ ) بلاشبہ ان کے خاوند اپنے کچھ غلاموں کی تلاش میں نکلے جو بھاگ گئے تھے ، یہاں تک کہ جب وہ ( بھگوڑے غلام مدینہ سے چھ سات میل دور ) قدوم کے کنارے تک پہنچے تو انھوں نے ( یعنی ان کے خاوند اور غلاموں کے آقا نے ) انھیں پا لیا ( لیکن ) پھر ان غلاموں نے انھیں قتل کر ڈالا ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ( کیا ) میں بنو خدرہ میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤں ؟ کیونکہ یقیناً میرے خاوند نے مجھے کسی ایسی رہائش گاہ میں نہیں چھوڑا جس کے وہ خود مالک ہوں اور نہ ہی نفقہ چھوڑا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ( چلی جاؤ ) ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ میں واپس پھری ، یہاں تک کہ جب میں ( ابھی ) حجرہ مبارک ہی میں تھی ( اور باہر بھی نہ پہنچی تھی ) کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی اور میرے متعلق ( یعنی مجھے بلانے کا ) حکم صادر فرمایا ، چنانچہ مجھے آپ ﷺ ( کے پاس واپس آنے ) کے لیے آواز لگائی گئی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کس طرح سوال کیا تھا ؟‘‘ ( ذرا اسے دہراؤ ) میں نے آپ ﷺ کے سامنے وہ سارا قصہ دہرا دیا جس کا میں اپنے خاوند کے حوالے سے آپ ﷺ کے حضور تذکرہ کر چکی تھی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ( خاوند والے عارضی ) گھر ہی میں ٹھہری رہو ، یہاں تک کہ ( اللہ کی ) کتاب ( میں لکھی ہوئی عدت ) اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائے ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ پھر میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری ، وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ( مسند خلافت پر متمکن ) تھے انھوں نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھ سے اس کے متعلق سوال کیا تو میں نے انھیں یہ سب کچھ بتا دیا ، پھر انھوں نے بھی اس کی اتباع کی اور اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا ۔

1228

Muwatta Imam Malik #1228

Sahih

[1228] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَرُدُّ الْمُتَوَفَّی عَنْہُنَّ أَزْوَاجُہُنَّ مِنَ الْبَیْدَائِ، یَمْنَعُہُنَّ الْحَجَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان عورتوں کو بیداء مقام سے واپس بھیج دیا کرتے تھے جن کے خاوند فوت ہو چکے ہوتے تھے ۔ ( اور وہ ابھی عدت گزار رہی ہوتی تھیں ) ، وہ انھیں حج ( پر جانے ) سے منع کر دیتے تھے ۔

1229

Muwatta Imam Malik #1229

Zaeef

[1229] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ تُوُفِّی، وَإِنَّ امْرَأَتَہُ جَائَ تْ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَذَکَرَتْ لَہُ وَفَاۃَ زَوْجِہَا, وَذَکَرَتْ لَہُ حَرْثاً لَہُمْ بِقَنَاۃَ، وَسَأَلَتْہُ ہَلْ یَصْلُحُ لَہَا أَنْ تَبِیتَ فِیہِ، فَنَہَاہَا عَنْ ذَلِکَ، فَکَانَتْ تَخْرُجُ مِنَ الْمَدِینَۃِ سَحَراً، فَتُصْبِحُ فِی حَرْثِہِمْ، فَتَظَلُّ فِیہِ یَوْمَہَا، ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِینَۃَ إِذَا أَمْسَتْ فَتَبِیتُ فِی بَیْتِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سائب بن خباب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ان کی اہلیہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں اور انھوں نے ان کے سامنے اپنے خاوند کی وفات کا تذکرہ کیا اور انھیں اپنے گھر والوں کی اس کھیتی کے متعلق بتایا جو ( مدینہ کے قریب وادی ) ’’ قناۃ ‘‘ میں تھی اور ان سے پوچھا کہ کیا اس کے لیے یہ درست ہے کہ وہ وہاں رات گزارے تو انھوں نے ان کو اس سے منع فرما دیا ۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ سے سحری کے وقت نکل جاتیں ، اپنی کھیتی میں صبح کرتیں ، پھر سارا دن وہیں رہتیں ، پھر جب شام کرتیں تو مدینہ میں آ جاتیں اور اپنے گھر میں رات گزارتیں ۔

1230

Muwatta Imam Malik #1230

Sahih

[1230] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْمَرْأَۃِ الْبَدَوِیَّۃِ، یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا : إِنَّہَا تَنْتَوِی حَیْثُ انْتَوَی أَہْلُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں ، وہ ( صحراء میں رہنے والی ) اس بدوی عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے ، کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ وہیں پڑاؤ ڈالے گی جہاں اس کے خاندان والے پڑاؤ ڈالیں گے ۔

1231

Muwatta Imam Malik #1231

Sahih

[1231] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ تَبِیتُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا، وَلاَ الْمَبْتُوتَۃُ إِلاَّ فِی بَیْتِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے ، اور جسے تین طلاقیں مل چکی ہوں ، وہ اپنے ( خاوند کے ) گھر کے علاوہ کہیں بھی رات نہ گزارے ۔