Muwatta Imam Malik #1223
[1223] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہُ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَامِلِ یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : آخِرَ الأَجَلَیْنِ۔ وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ۔ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَسَأَلَہَا عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ، وَلَدَتْ سُبَیْعَۃُ الأَسْلَمِیَّۃُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِنِصْفِ شَہْرٍ، فَخَطَبَہَا رَجُلاَنِ، أَحَدُہُمَا شَابٌّ، وَالآخَرُ کَہْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَی الشَّابِّ, فَقَالَ الشَّیْخُ : لَمْ تَحِلِّی بَعْدُ۔ وَکَانَ أَہْلُہَا غَیَباً، وَرَجَا إِذَا جَائَ أَہْلُہَا أَنْ یُؤْثِرُوہُ بِہَا، فَجَائَ تْ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : قَدْ حَلَلْتِ، فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس حاملہ عورت کے متعلق سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہوجائے ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( اس کی عدت ) وہ ہے جو آخِرُ الْاَجَلَیْن یعنی دو عدتوں ( چار ماہ دس دن اور وضع حمل ) میں سے جو آخری ( اور بعد میں ختم ہونے والی ) ہو اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب وہ بچہ جن دے گی تو وہ ( نکاح کے لیے ) حلال ہو جائے گی ، پھر ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کے پاس گئے اور ان سے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ( حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ جو حجۃ الوداع میں فوت ہوئے تھے ) کی وفات سے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دے دیا تو دو شخصوں نے ان کو پیغام نکاح بھیجا جن میں سے ایک نوجوان اور دوسرا ادھیڑ عمر تھا ۔ وہ نوجوان کی طرف مائل ہو گئیں تو ادھیڑ عمر شخص کہنے لگا کہ ( تیری تو ابھی عدت ہی ختم نہیں ہوئی لہٰذا نئے نکاح کے لیے ) تو ابھی حلال ہی نہیں ہوئی ، ( اس نے یہ بات اس لیے کی کہ ) حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کے گھر والے موجود نہ تھے اور اس ( ادھیڑ عمر شخص ) کو یہ امید تھی کہ جب ان کے گھر والے آئیں گے تو ( اپنی ) عورت کے ساتھ نکاح کے لیے اسی کو ترجیح دیں گے ۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھاری عدت گزر چکی ہے لہٰذا جس سے چاہو نکاح کر لو ۔‘‘