Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 364

طلاق کے مسائل کی کتاب

اس حاملہ عورت کی عدت کا بیان جس کا خاوند فوت ہو جائے

4 hadiths in this chapter

1223

Muwatta Imam Malik #1223

Sahih

[1223] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہُ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَامِلِ یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : آخِرَ الأَجَلَیْنِ۔ وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ۔ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَسَأَلَہَا عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ، وَلَدَتْ سُبَیْعَۃُ الأَسْلَمِیَّۃُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِنِصْفِ شَہْرٍ، فَخَطَبَہَا رَجُلاَنِ، أَحَدُہُمَا شَابٌّ، وَالآخَرُ کَہْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَی الشَّابِّ, فَقَالَ الشَّیْخُ : لَمْ تَحِلِّی بَعْدُ۔ وَکَانَ أَہْلُہَا غَیَباً، وَرَجَا إِذَا جَائَ أَہْلُہَا أَنْ یُؤْثِرُوہُ بِہَا، فَجَائَ تْ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : قَدْ حَلَلْتِ، فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس حاملہ عورت کے متعلق سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہوجائے ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( اس کی عدت ) وہ ہے جو آخِرُ الْاَجَلَیْن یعنی دو عدتوں ( چار ماہ دس دن اور وضع حمل ) میں سے جو آخری ( اور بعد میں ختم ہونے والی ) ہو اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب وہ بچہ جن دے گی تو وہ ( نکاح کے لیے ) حلال ہو جائے گی ، پھر ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کے پاس گئے اور ان سے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ( حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ جو حجۃ الوداع میں فوت ہوئے تھے ) کی وفات سے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دے دیا تو دو شخصوں نے ان کو پیغام نکاح بھیجا جن میں سے ایک نوجوان اور دوسرا ادھیڑ عمر تھا ۔ وہ نوجوان کی طرف مائل ہو گئیں تو ادھیڑ عمر شخص کہنے لگا کہ ( تیری تو ابھی عدت ہی ختم نہیں ہوئی لہٰذا نئے نکاح کے لیے ) تو ابھی حلال ہی نہیں ہوئی ، ( اس نے یہ بات اس لیے کی کہ ) حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کے گھر والے موجود نہ تھے اور اس ( ادھیڑ عمر شخص ) کو یہ امید تھی کہ جب ان کے گھر والے آئیں گے تو ( اپنی ) عورت کے ساتھ نکاح کے لیے اسی کو ترجیح دیں گے ۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھاری عدت گزر چکی ہے لہٰذا جس سے چاہو نکاح کر لو ۔‘‘

1224

Muwatta Imam Malik #1224

Sahih

[1224] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ حَامِلٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَہَا فَقَدْ حَلَّتْ۔ فَأَخْبَرَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ عِنْدَہُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : لَوْ وَضَعَتْ، وَزَوْجُہَا عَلَی سَرِیرِہِ لَمْ یُدْفَنْ بَعْدُ لَحَلَّتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، ان سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب وہ اپنے حمل کو جنے گی تو یقیناً اس کی عدت پوری ہو جائے گی ۔ ( یہ سنا ) تو انصار میں سے ایک شخص جو ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، نے انھیں خبر دی کہ یقیناً حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ اس حال میں بچہ جنے کہ اس کا ( فوت شدہ ) خاوند چارپائی پر ہو ، ابھی اسے دفن نہ کیا گیا ہو تو بے شک ( پھر بھی ) اس کی عدت پوری ہو جائے گی ۔

1225

Muwatta Imam Malik #1225

Sahih

[1225] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِلَیَالٍ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : قَدْ حَلَلْتِ، فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے خاوند کی وفات سے چند رات بعد نفاس شروع ہو گیا ( اور ان کے ہاں بچے کی ولادت ہو گئی ) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ تمھاری عدت ختم ہو چکی ہے لہٰذا جس سے چاہو نکاح کر لو ۔‘‘

1226

Muwatta Imam Malik #1226

Sahih

[1226] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اخْتَلَفَا فِی الْمَرْأَۃِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِلَیَالٍ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَۃَ : إِذَا وَضَعَتْ مَا فِی بَطْنِہَا فَقَدْ حَلَّتْ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : آخِرَ الأَجَلَیْنِ۔ فَجَائَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ، فَقَالَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِی۔ یَعْنِی أَبَا سَلَمَۃَ، فَبَعَثُوا کُرَیْباً مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ یَسْأَلُہَا عَنْ ذَلِکَ، فَجَائَ ہُمْ فَأَخْبَرَہُمْ أَ نَّہَا قَالَتْ : وَلَدَتْ سُبَیْعَۃُ الأَسْلَمِیَّۃُ، بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِلَیَالٍ، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : قَدْ حَلَلْتِ : فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ( فقیہ مدینہ ) ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ دونوں نے اس عورت کے متعلق اختلاف کیا جسے اپنے خاوند کی وفات سے چند رات بعد بچہ پیدا ہو جائے ۔ چنانچہ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ جب وہ اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے دے گی تو یقیناً اس کی عدت ختم ہو جائے گی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ( اس کی عدت ) اَبْعَدُ الْاَجَلَیْن یعنی دونوں عدتوں میں سے زیادہ دور والی ہے پھر اتنے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آ گئے تو انھوں نے کہا کہ میں تو اپنے ( دینی ) بھائی کے بیٹے کے ساتھ ہوں ، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن ( بن عوف رضی اللہ عنہ ) کو مراد لے رہے تھے ، پھر ان سب نے کریب رحمہ اللہ جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام تھے ، کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان سے اس کے متعلق پوچھے ، چنانچہ ( وہ گئے اور مسئلہ پوچھنے کے بعد واپس ) ان کے پاس آئے اور انھیں بتایا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات سے چند رات بعد بچہ جن دیا ، پھر انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً تمھاری عدت پوری ہو چکی ہے لہٰذا جس سے چاہو نکاح کر لو ۔‘‘