Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 363

طلاق کے مسائل کی کتاب

طلاق کے متعلق متفرق احادیث کا بیان

8 hadiths in this chapter

1215

Muwatta Imam Malik #1215

Sahih

[1215] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِیفٍ أَسْلَمَ، وَعِنْدَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ حِینَ أَسْلَمَ الثَّقَفِی : أَمْسِکْ مِنْہُنَّ أَرْبَعاً، وَفَارِقْ سَائِرَہُنَّ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے بنوثقیف کے ایک شخص جس نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کے پاس دس بیویاں تھیں جب وہ ثقفی شخص مسلمان ہوا ( تو آپ ﷺ نے اس ) سے فرمایا :’’ ان میں سے چار بیویوں کو اپنے پاس روک لے اور باقی سب کو جدا کر دے ۔‘‘

1216

Muwatta Imam Malik #1216

Sahih

[1216] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ، وَحُمَیْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعُبَیْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ، کُلُّہُمْ یَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا تَطْلِیقَۃً أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ، ثُمَّ تَرَکَہَا حَتَّی تَحِلَّ وَتَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ، فَیَمُوتَ عَنْہَا أَوْ یُطَلِّقَہَا، ثُمَّ یَنْکِحُہَا زَوْجُہَا الْأَوَّلُ، فَإِنَّہَا تَکُونُ عِنْدَہُ، عَلَی مَا بَقِیَ مِنْ طَلاَقِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب ، حمید بن عبدالرحمن بن عوف ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہم کو سنا ، ان میں سے ہر ایک یہ کہتا تھا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : جس کسی عورت کو اس کا خاوند ایک یا دو طلاقیں دے دے ، پھر اسے ( رجوع کیے بغیر ) چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہو جائے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کر لے ، پھر وہ ( دوسرا خاوند ) فوت ہو جائے یا اسے طلاق دے دے ، پھر اس سے پہلا خاوند شادی کر لے تو بلاشبہ وہ اس کے پاس رہے گی ( لیکن خاوند کو صرف ایک یا دو ) باقی ماندہ طلاق پر ( اختیار ہو گا )

1217

Muwatta Imam Malik #1217

Sahih

[1217] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الأَحْنَفِ، أَ نَّہُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : فَدَعَانِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، فَجِئْتُہُ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ، فَإِذَا سِیَاطٌ مَوْضُوعَۃٌ، وَإِذَا قَیْدَانِ مِنْ حَدِیدٍ، وَعَبْدَانِ لَہُ قَدْ أَجْلَسَہُمَا، فَقَالَ : طَلِّقْہَا، وَإِلاَّ وَالَّذِی یُحْلَفُ بِہِ فَعَلْتُ بِکَ کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ : فَقُلْتُ ہِیَ الطَّلاَقُ أَلْفاً۔ قَالَ : فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ، فَأَدْرَکْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ، فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِی، فَتَغَیَّظَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ : لَیْسَ ذَلِکَ بِطَلاَقٍ، وَإِنَّہَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَیْکَ، فَارْجِعْ إِلَی أَہْلِکَ۔ قَالَ : فَلَمْ تُقْرِرْنِی نَفْسِی حَتَّی أَتَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ بِمَکَّۃَ أَمِیرٌ عَلَیْہَا - فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِی، وَبِالَّذِی قَالَ لِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ : فَقَالَ لِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ : لَمْ تَحْرُمْ عَلَیْکَ، فَارْجِعْ إِلَی أَہْلِکَ۔ وَکَتَبَ إِلَی جَابِرِ بْنِ الأَسْوَدِ الزُّہْرِیِّ - وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ - یَأْمُرُہُ أَنْ یُعَاقِبَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَنْ یُخَلِّیَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَہْلِی، قَالَ : فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ، فَجَہَّزَتْ صَفِیَّۃُ امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَتِی، حَتَّی أَدْخَلَتْہَا عَلَیَّ بِعِلْمِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، ثُمَّ دَعَوْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَوْمَ عُرْسِی لِوَلِیمَتِی فَجَائَ نِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

ثابت بن احنف رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد لونڈی کے ساتھ نکاح کر لیا ۔ ثابت کہتے ہیں : مجھے ( میری بیوی کے مالک کے بیٹے ) عبداللہ بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب نے بلایا ، میں ان کے پاس آیا تو اچانک ( کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ) کوڑے رکھے ہوئے تھے اور لوہے کی دو بیڑیاں اور ان کے دو غلام بھی ( موجود ) تھے جنھیں انھوں نے بٹھا رکھا تھا ۔ عبداللہ کہنے لگے کہ اسے طلاق دے دو ، ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے میں تمھارے ساتھ ایسا ایسا کروں گا ۔ میں نے ( یہ اکراہ اور زبردستی والی صورت حال دیکھ کر ) کہہ دیا کہ اسے ہزار طلاق ہے ۔ ثابت کہتے ہیں کہ پھر میں ان کے پاس سے نکلا ( اور مدینہ سے مکہ کی راہ لی ) تو مکہ کے راستے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پا لیا ، ( جو میری اس بیوی کے آقا عبدالرحمن کے چچا زاد بھائی تھے اور عبداللہ جس نے ڈرا دھمکا کر طلاق دلوائی تھی کے چچا بھی لگتے تھے اور سگے ماموں بھی تھے ) سو میں نے انھیں اس معاملے کی خبر دی جو میرے ساتھ پیش آیا تھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس سے سخت غصے میں آ گئے اور کہنے لگے کہ اسے طلاق ہرگز نہیں ہوئی اور وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی ، لہٰذا تم اپنی ( اس ام ولد ) بیوی کے پاس لوٹ جاؤ ، ثابت کہتے ہیں کہ مجھے میرے نفس نے اطمینان نہ آنے دیا ( میں بے قرار ہی رہا ) یہاں تک کہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وہ اس وقت مکہ میں تھے اور مکہ کے امیر تھے ، چنانچہ میں نے انھیں بھی وہ بتا دیا جو میرے ساتھ معاملہ بیتا تھا ، اور وہ بھی بتایا جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا تھا ۔ تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی مجھ سے فرمایا کہ وہ تم پر حرام نہیں ہوئی ، تم اپنی اہلیہ کے پاس لوٹ جاؤ اور انھوں نے جابر بن اسود زہری کو لکھا جو کہ مدینہ منورہ کے امیر تھے ، وہ انھیں حکم دے رہے تھے کہ عبداللہ بن عبدالرحمن کو سزا دو اور مجھے ثابت کو ) اور میری بیوی کو اکٹھا کر کے تنہا چھوڑ دو ۔ ثابت کہتے ہیں کہ پھر میں مدینہ آیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ نے میری بیوی کو ( بناؤ سنگھار کر کے ) تیار کیا یہاں تک کہ اس نے اپنی شادی ( دوبارہ ملاپ ) کے دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے ولیمے کی دعوت دی ، چنانچہ وہ میرے پاس آئے ( اور ولیمے میں شریک ہوئے ) ۔

1218

Muwatta Imam Malik #1218

Sahih

[1218] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَرَأَ : {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ} [الطلاق : 1] لِقُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ، انھوں نے ( سورئہ طلاق کی پہلی آیت کو یوں ) پڑھا : { یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوہُنَّ لِقُبُلِ عِدَّتِہِنَّ } ’’ اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔‘‘

1219

Muwatta Imam Malik #1219

Zaeef

[1219] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ، ثُمَّ ارْتَجَعَہَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا، کَانَ ذَلِکَ لَہُ، وَإِنْ طَلَّقَہَا أَلْفَ مَرَّۃٍ، فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَی امْرَأَتِہِ فَطَلَّقَہَا، حَتَّی إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَائَ عِدَّتِہَا رَاجَعَہَا، ثُمَّ طَلَّقَہَا، ثُمَّ قَالَ : لاَ وَاللّٰہِ لاَ آوِیکِ إِلَیَّ، وَلاَ تَحِلِّینَ أَبَداً۔ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرۃ : 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلاَقَ جَدِیداً مِنْ یَوْمِئِذٍ، مَنْ کَانَ طَلَّقَ مِنْہُمْ أَوْ لَمْ یُطَلِّقْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ ( دورِ جاہلیت میں ) آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا ، پھر اس کی عدت ختم ہونے ( کو آتی تو اختتام ) سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا ، تو یہ عمل اس کا حق ( شمار ) ہوتا تھا ، خواہ وہ اسے ہزار بار طلاق دے ۔ پھر ( جب اسلام آ گیا تو ) ایک آدمی نے اپنی بیوی کی طرف ( اسی طرح کا ) معاملہ کیا ، چنانچہ اس نے اسے طلاق دی یہاں تک کہ جب وہ اپنی عدت کے مکمل ہونے کے قریب پہنچی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا ، پھر اسے طلاق دے دی ، پھر کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! میں تجھے نہ تو اپنی طرف جگہ دوں گا ( نہ اپنی بیوی بنا کر تیری خواہش پوری کروں گا ) اور نہ تو کبھی کسی اور کے لیے حلال ہو سکے گی ( کہ عدت پوری ہو اور تو کسی اور کے نکاح میں جا سکے ) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } ( البقرہ : 229 ) ’’ طلاق ( رجعی ) دو مرتبہ ہے ، پھر یا تو ( عورت کو ) دستور کے مطابق روک لیا جائے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دیا جائے ۔‘‘ تو اس دن سے لوگوں نے از سر نو طلاق کا آغاز کیا ، ان میں سے جنھوں نے ( اس سے قبل ) طلاق دی تھی اور جنھوں نے طلاق نہ دی تھی ( سب کے لیے اس دن سے طلاق کی تعداد تین شروع ہوئی ) ۔

1220

Muwatta Imam Malik #1220

Zaeef

[1220] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ : أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ، ثُمَّ یُرَاجِعُہَا، وَلاَ حَاجَۃَ لَہُ بِہَا، وَلاَ یُرِیدُ إِمْسَاکَہَا، کَیْمَا یُطَوِّلَ بِذَلِکَ عَلَیْہَا الْعِدَّۃَ لِیُضَارَّہَا، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {وَلاَ تُمْسِکُوہُنَّ ضِرَاراً لِتَعْتَدُوا وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ} [البقرۃ : 231] یَعِظُہُمُ اللَّہُ بِذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا تھا ، پھر اس سے رجوع کر لیتا تھا حالانکہ اسے اس کی کوئی حاجت نہ ہوتی اور نہ وہ اسے اپنے پاس روکنے کا ارادہ رکھتا تھا ( بس مقصد یہ تھا ) تاکہ اس رجوع کی وجہ سے عورت پر عدت طویل ہوتی رہے ، تاکہ وہ اسے تکلیف میں مبتلا کیے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : { وَلَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارً الِّتَعْتَدُوْا وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ } ( البقرہ : 231 ) ’’ اور انھیں ستانے کے لیے نہ روکو تاکہ تم زیادتی کرو اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہ یقیناً اپنے آپ ہی پر ظلم کرے گا ۔‘‘ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو نصیحت فرما رہے ہیں ۔

1221

Muwatta Imam Malik #1221

Zaeef

[1221] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ، سُئِلاَ عَنْ طَلاَقِ السَّکْرَانِ فَقَالاَ : إِذَا طَلَّقَ السَّکْرَانُ جَازَ طَلاَقُہُ، وَإِنْ قَتَلَ قُتِلَ بِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہما سے نشے میں دھت آدمی کی طلاق کے متعلق سوال کیا گیا تو دونوں نے فرمایا : جب نشے والا شخص طلاق دے تو اس کی طلاق نافذ ہو جائے گی اور اگر وہ ( حالت نشہ میں ) قتل کرے تو اسے ( قصاصاً ) قتل کیا جائے گا ۔

1222

Muwatta Imam Malik #1222

Sahih

[1222] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ کَانَ یَقُولُ : إِذَا لَمْ یَجِدِ الرَّجُلُ مَا یُنْفِقُ عَلَی امْرَأَتِہِ، فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے : جب آدمی وہ کچھ نہ پائے جو اپنی بیوی پر خرچ کر سکے تو دونوں میں تفریق کر دی جائے گی ۔