Muwatta Imam Malik #1207
[1207] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، وَعَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُسَیْطٍ اللَّیْثِیِّ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ، فَحَاضَتْ حَیْضَۃً أَوْ حَیْضَتَیْنِ، ثُمَّ رَفَعَتْہَا حَیْضَتُہَا، فَإِنَّہَا تَنْتَظِرُ تِسْعَۃَ أَشْہُرٍ، فَإِنْ بَانَ بِہَا حَمْلٌ فَذَلِکَ، وَإِلاَّ اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَۃِ الأَشْہُرِ ثَـلَاثَۃَ أَشْہُرٍ, ثُمَّ حَلَّتْ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سعید بن مسیب سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس عورت کو طلاق دی جائے ، پھر وہ ایک یا دو حیض گزار لے ، پھر اس سے اس کا حیض اٹھا لیا جائے ، ( حیض کی بندش ہو جائے ) تو بلاشبہ وہ ( گزشتہ خون کو خون استحاضہ اور بندش حیض کو حمل شمار کر کے ) نو ماہ انتظار کرے گی ، پھر اگر تو اس کے ساتھ حمل ظاہر ہو جائے تو اس کا اعتبار ہو گا ( اور بچے کی پیدائش کے بعد عدت ختم ہو جائے گی ) ورنہ وہ نو ماہ ( انتظار ) کے بعد ( خود کو آئسہ ( حیض سے ناامید ، یعنی بوڑھی یا مریضہ عورت کی طرح ) تین ماہ عدت گزارے گی ، پھر وہ نئے نکاح کے لیے حلال ہو جائے گی ۔