Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 360

طلاق کے مسائل کی کتاب

عدت طلاق کے مختلف مسائل کا بیان

4 hadiths in this chapter

1207

Muwatta Imam Malik #1207

Sahih

[1207] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، وَعَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُسَیْطٍ اللَّیْثِیِّ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ، فَحَاضَتْ حَیْضَۃً أَوْ حَیْضَتَیْنِ، ثُمَّ رَفَعَتْہَا حَیْضَتُہَا، فَإِنَّہَا تَنْتَظِرُ تِسْعَۃَ أَشْہُرٍ، فَإِنْ بَانَ بِہَا حَمْلٌ فَذَلِکَ، وَإِلاَّ اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَۃِ الأَشْہُرِ ثَـلَاثَۃَ أَشْہُرٍ, ثُمَّ حَلَّتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس عورت کو طلاق دی جائے ، پھر وہ ایک یا دو حیض گزار لے ، پھر اس سے اس کا حیض اٹھا لیا جائے ، ( حیض کی بندش ہو جائے ) تو بلاشبہ وہ ( گزشتہ خون کو خون استحاضہ اور بندش حیض کو حمل شمار کر کے ) نو ماہ انتظار کرے گی ، پھر اگر تو اس کے ساتھ حمل ظاہر ہو جائے تو اس کا اعتبار ہو گا ( اور بچے کی پیدائش کے بعد عدت ختم ہو جائے گی ) ورنہ وہ نو ماہ ( انتظار ) کے بعد ( خود کو آئسہ ( حیض سے ناامید ، یعنی بوڑھی یا مریضہ عورت کی طرح ) تین ماہ عدت گزارے گی ، پھر وہ نئے نکاح کے لیے حلال ہو جائے گی ۔

1208

Muwatta Imam Malik #1208

Sahih

[1208] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : الطَّلاَقُ لِلرِّجَالِ، وَالْعِدَّۃُ لِلنِّسَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ طلاق مردوں کے لیے ہے اور عدت عورتوں کے لیے ہے ۔

1209

Muwatta Imam Malik #1209

Sahih

[1209] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ قَالَ : عِدَّۃُ الْمُسْتَحَاضَۃِ سَنَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مستحاضہ کی عدت ایک سال ہے ۔

1210

Muwatta Imam Malik #1210

Zaeef

[1210] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ قَالَ : فِی الْحَکَمَیْنِ اللَّذَیْنِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوا حَکَماً مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَماً مِنْ أَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلاَحاً یُوَفِّقِ اللَّہُ بَیْنَہُمَا إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیماً خَبِیراً} [النساء : 35] إِنَّ إِلَیْہِمَا الْفُرْقَۃَ بَیْنَہُمَا وَالاِ جْتِمَاعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حکمین یعنی دو فیصلہ کرنے والوں کے بارے میں فرمایا : جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : { وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ یُّرِیْدَا اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا } ( النساء : 35 ) ’’ اور اگر تمھیں ان دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان جھگڑے کا ڈر ہو تو ایک منصف شخص مرد کے کنبے سے اور ایک منصف عورت کے کنبے سے مقرر کرو ، اگر وہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں ( میاں بیوی ) میں موافقت پیدا فرما دے گا ، بے شک اللہ بہت علم والا خوب خبر رکھنے والا ہے ۔‘‘ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ) یقیناً ان دونوں ( منصفوں ) کے پاس خاوند بیوی کے درمیان ( طلاق کی شکل میں ) جدائی ڈالنے اور ملاپ کرا دینے کا اختیار ہے ۔