Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 359

طلاق کے مسائل کی کتاب

طلاق والی عورت کے نفقہ کا بیان

2 hadiths in this chapter

1205

Muwatta Imam Malik #1205

Sahih

[1205] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ، وَہُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلُہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ، فَقَالَ : وَاللّٰہِ مَا لَکِ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ۔ فَجَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْکَ امْرَأَۃٌ یَغْشَاہَا أَصْحَأبِی، اعْتَدِّی عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ، فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ عِنْدَہُ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ، ذَکَرْتُ لَہُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أبِی سُفْیَانَ، وَأَبَا جَہْمِ بْنَ ہِشَامٍ خَطَبَانِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَلاَ یَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتِقِہِ، وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوکٌ لاَ مَالَ لَہُ، انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ قَالَتْ : فَکَرِہْتُہُ، ثُمَّ قَالَ : انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَنَکَحْتُہُ فَجَعَلَ اللَّہُ فِی ذَلِکَ خَیْراً وَاغْتُبِطْتُ بِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک حضرت ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انھیں طلاق بتہ دے دی اس حال میں کہ وہ ( مدینہ سے ) غائب ( اور ) ملک شام میں موجود تھے ، پھر ان کے وکیل نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف تھوڑے سے جَو بھیجے ، وہ اس ( قلیل سے مال ) پر ناخوش ( اور ناراض ) ہوئیں تو وہ وکیل ( حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ ) کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! تمھارے لیے ہم پر کوئی چیز بھی ( اب ) واجب نہیں ہے ، ( یہ تو ہم نے محض ہمدردی اور دلجوئی کے لیے کچھ جَو بھیجے تھے ) چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ کے سامنے اس ( ساری صورت حال ) کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تیرے لیے اس پر کوئی نفقہ ( خرچہ ) لازم نہیں ہے ‘‘ اور آپ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ وہ حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں ( جن کا اصل نام غزیہ یا غزیلہ تھا ) پھر فرمایا کہ ’’ وہ ایک ایسی عورت ہیں جن کے پاس میرے صحابہ ( مشوروں کے لیے اور ان کی مہمان نوازی نیز ان کے کثرت سے صدقہ و خیرات کرتے رہنے کی وجہ سے ) آتے جاتے رہتے ہیں ، ( لہٰذا ) تم حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس عدت گزارو ، بلاشبہ وہ ایک نابینا شخص ہیں ، تم ان کے پاس اپنے کپڑے دوپٹہ وغیرہ ) بھی اتار سکتی ہو ۔ ( کیونکہ وہ تمھیں دیکھ نہ پائیں گے ) پھر جب تم حلال ہو جاؤ ( عدت ختم ہو جائے ) تو مجھے اطلاع دینا ۔ وہ کہتی ہیں کہ پھر جب میری عدت گزر گئی تو میں نے آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو جہم بن ہشام رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رہے ابوجہم تو وہ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے اتارتے ہی نہیں ، اور رہے معاویہ تو وہ فقیر ہیں ، ان کے پاس کچھ مال نہیں ہے ، تم اسامہ بن زید ( رضی اللہ عنہما ) سے نکاح کر لو ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ میں نے انھیں ناپسند کیا ، آپ ﷺ نے پھر فرمایا :’’ اسامہ بن زید سے شادی کر لو ‘‘ چنانچہ میں نے ان سے شادی کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اس ( نکاح ) میں خیر ( و برکت ) نازل فرمائی اور مجھ پر ان کی وجہ سے رشک کیا جانے لگا ۔

1206

Muwatta Imam Malik #1206

Sahih

[1206] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : الْمَبْتُوتَۃُ لاَ تَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہَا حَتَّی تَحِلَّ : وَلَیْسَتْ لَہَا نَفَقَۃٌ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ حَامِلاً، فَیُنْفَقُ عَلَیْہَا حَتَّی تَضَعَ حَمْلَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے تھے کہ بتہ طلاق ( تین طلاقوں ) والی عورت ( بھی ) اپنے ( خاوند کے ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہو جائے اور اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہو گا الا یہ کہ وہ حاملہ ہو تو پھر اس پر خرچ کیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اپنے حمل کو جنم دے دے ۔