Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 358

طلاق کے مسائل کی کتاب

عورت کو جب اپنے ہی گھر میں طلاق ملے تو وہیں عدت گزارنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1201

Muwatta Imam Malik #1201

Sahih

[1201] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُ سَمِعَہُمَا یَذْکُرَانِ : أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَۃَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ الْبَتَّۃَ، فَانْتَقَلَہَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَکَمِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فَقَالَت : اتَّقِ اللَّہَ وَارْدُدِ الْمَرْأَۃَ إِلَی بَیْتِہَا۔ فَقَالَ مَرْوَانُ فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِی۔ وَقَالَ مَرْوَانُ فِی حَدِیثِ الْقَاسِمِ : أَوَمَا بَلَغَکِ شَأْنُ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَذْکُرَ حَدِیثَ فَاطِمَۃَ۔ فَقَالَ مَرْوَانُ : إِنْ کَانَ بِکِ الشَّرُّ، فَحَسْبُکِ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ مِنَ الشَّرِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہما دونوں سے روایت ہے کہ یحیی بن سعید بن عاص نے ( اپنی بیوی یعنی ) عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی ( عمرہ ) کو بتہ طلاق دے دی ( تینوں طلاقیں دے دیں ) عبدالرحمن بن حکم نے اسے اپنے گھر منتقل کر لیا تو سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم جو کہ مدینہ کے امیر تھے ، کی طرف پیغام بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے گھر واپس لوٹا دو ( تاکہ وہ اپنے گھر میں عدت گزار سکے ) سلیمان بن یسار کی روایت میں ہے کہ مروان نے ( معذرت کرتے ہوئے ) کہا کہ بے شک ( میرے بھائی ) عبدالرحمن مجھ پر غالب ہیں ، ( وہ میری بات نہیں مانتے اور میں انھیں روکنے پر قدرت نہیں رکھتا ) اور قاسم بن محمد کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا کہ کیا آپ کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملے کی خبر نہیں پہنچی ( کہ جنھیں رسول اللہ ﷺ نے تیسری طلاق کے بعد فرمایا تھا کہ تمھارے لیے خرچہ ہے نہ رہائش ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمھیں اس بات سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا کہ تم فاطمہ ( بنت قیس رضی اللہ عنہا ) کی حدیث کا تذکرہ ہی نہ کرو ( کیونکہ وہ قابل حجت ہے نہ قابل التفات ) تو مروان نے کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رہائش نہ ملنے کا سبب ) شر تھا ( یعنی خاوند بیوی کے درمیان لڑائی کی بنا پر وہ خاوند کے گھر میں عدت نہ گزار پائی تھی ) تو آپ کو وہ شر بھی کافی ہونا چاہیے جو ان دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان ہے ۔

1202

Muwatta Imam Malik #1202

Sahih

[1202] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ بِنْتَ سَعِیدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ، کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ فَانْتَقَلَتْ، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بہنوئی ) حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی ، انھوں نے اسے طلاق بتہ دے دی ، وہ ( اپنے خاوند کے گھر سے ) منتقل ہو گئی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر اس کام کا انکار کیا ( اور برا مانا ) ۔

1203

Muwatta Imam Malik #1203

Sahih

[1203] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَۃً لَہُ فِی مَسْکَنِ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَکَانَ طَرِیقَہُ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَکَانَ یَسْلُکُ الطَّرِیقَ الأُخْرَی مِنْ أَدْبَارِ الْبُیُوتِ، کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَسْتَأْذِنَ عَلَیْہَا، حَتَّی رَاجَعَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک بیوی کو ( اپنی ہمشیرہ ) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کے گھر میں طلاق دے دی اور وہ گھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مسجد کی طرف جانے کا راستہ تھا ، ( وہ اس میں سے گزر کر مسجد جاتے تھے ) پھر وہ ( طلاق کے بعد ازواج پیغمبر ﷺ کے ) گھروں کے پیچھے سے دوسرے راستے میں چلا کرتے تھے ( یعنی دوسرے راستے سے مسجد میں جاتے کیونکہ ان کی بہن کے گھر میں ان کی طلاق یافتہ بیوی عدت گزار رہی تھی ، وہ یہ کام اس بات کو ) ناپسند کرنے کی وجہ سے ( کرتے ) کہ انھیں اس ( مطلقہ بیوی ) کے پاس جانے کے لیے اجازت لینی پڑے ، یہاں تک کہ انھوں نے اس سے رجوع کر لیا ۔

1204

Muwatta Imam Malik #1204

Sahih

[1204] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ یُطَلِّقُہَا زَوْجُہَا، وَہِیَ فِی بَیْتٍ بِکِرَائٍ، عَلَی مَنِ الْکِرَائُ ؟ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : عَلَی زَوْجِہَا۔ قَالَ : فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَ زَوْجِہَا ؟ قَالَ : فَعَلَیْہَا۔ قَالَ : فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہَا ؟ قَالَ : فَعَلَی الأَمِیرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب سے اس عورت کے متعلق سوال کیا گیا جسے اس کا خاوند طلاق دے دیتا ہے اور وہ عورت ( اس وقت ) کرائے کے گھر میں رہ رہی ہو تو کرایہ کس کے ذمے ہو گا ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خاوند کے ذمے ہو گا ، ( پوچھنے والے نے ) کہا کہ اگر خاوند کے پاس ( کرایہ ادا کرنے کے لیے کچھ ) نہ ہو تو انھوں نے فرمایا : ( پھر ) عورت کے ذمے ہو گا ۔ وہ کہنے لگا کہ اگر عورت کے پاس بھی نہ ہو تو ؟ انھوں نے فرمایا کہ امیر کے ذمے ہو گا ۔