Muwatta Imam Malik #1191
[1191] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا، ثُمَّ یُمْسِکْہَا حَتَّی تَطْہُرَ، ثُمَّ تَحِیضَ، ثُمَّ تَطْہُرَ، ثُمَّ إِنْ شَائَ أَمْسَکَ بَعْدُ، وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ، فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ أَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَائُ ۔
اردو ترجمہ · Urdu
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں اپنی بیوی ( آمنہ بنت غفار رضی اللہ عنہا ) کو اس حال میں طلاق دی کہ وہ حیض والی تھیں ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے حکم دو ، اسے چاہیے کہ اس سے رجوع کر لے ، پھر اسے روکے رکھے ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اسے حیض آئے ، پھر وہ پاک ہو جائے ، تو پھر اس ( دوسرے طہر کے شروع ہو جانے ) کے بعد اگر وہ چاہے تو اسے روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے پہلے طلاق دے دے پس یہی ( حالت طہر ) وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے ۔‘‘