Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 357

طلاق کے مسائل کی کتاب

’’ اَقْرَاء ‘‘ کے مفہوم ، عدت طلاق اور حیض والی عورت کی طلاق کا بیان

10 hadiths in this chapter

1191

Muwatta Imam Malik #1191

Sahih

[1191] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا، ثُمَّ یُمْسِکْہَا حَتَّی تَطْہُرَ، ثُمَّ تَحِیضَ، ثُمَّ تَطْہُرَ، ثُمَّ إِنْ شَائَ أَمْسَکَ بَعْدُ، وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ، فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ أَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَائُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں اپنی بیوی ( آمنہ بنت غفار رضی اللہ عنہا ) کو اس حال میں طلاق دی کہ وہ حیض والی تھیں ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے حکم دو ، اسے چاہیے کہ اس سے رجوع کر لے ، پھر اسے روکے رکھے ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اسے حیض آئے ، پھر وہ پاک ہو جائے ، تو پھر اس ( دوسرے طہر کے شروع ہو جانے ) کے بعد اگر وہ چاہے تو اسے روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے پہلے طلاق دے دے پس یہی ( حالت طہر ) وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے ۔‘‘

1192

Muwatta Imam Malik #1192

Sahih

[1192] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَ نَّہَا انْتَقَلَتْ حَفْصَۃَ بِنْتَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ حِینَ دَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِقَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ : صَدَقَ عُرْوَۃُ، وَقَدْ جَادَلَہَا فِی ذَلِکَ نَاسٌ فَقَالُوا : إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ : ( ثَـلَاثَۃَ قُرُوئٍ ) [البقرۃ : 228] فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : صَدَقْتُمْ، تَدْرُونَ مَا الأَقْرَائُ ؟ إِنَّمَا الأَقْرَائُ الأَطْہَارُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنی بھتیجی ) حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کو ( اس کے خاوند منذر بن زبیر کے گھر ، جہاں وہ عدت گزار رہی تھی ، سے اپنے گھر کی طرف ) منتقل کر دیا جس وقت کہ وہ ( حفصہ ) تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئی تھی … ابن شہاب کہتے ہیں کہ یہ خبر عمرہ بنت عبدالرحمن کے سامنے ذکر کی گئی تو انھوں نے فرمایا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سچ ہی بیان کیا ہے اور یقیناً لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں جھگڑا بھی کیا تھا ، ( کیونکہ جمہور کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے سے عدت ختم نہیں ہوتی بلکہ تیسرے حیض کے اختتام پر عدت کا اختتام ہوتا ہے ) چنانچہ انھوں نے ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا کہ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : { ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓئٍ } ( البقرہ : 228 ) ’’ ( طلاق والیاں ) تین قروء ( انتظار کریں ) ۔‘‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے ( آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ) سچ کہا ہے لیکن کیا تم جانتے ہو کہ ’’ اقراء ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ یقیناً اقراء سے مراد تو صرف طہر ہیں ۔

1193

Muwatta Imam Malik #1193

Sahih

[1193] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ : مَا أَدْرَکْتُ أَحَداً مِنْ فُقَہَائِنَا إِلاَّ وَہُوَ یَقُولُ ہَذَا۔ یُرِیدُ قَوْلَ عَائِشَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے اپنے فقہاء میں سے جس کسی کو بھی پایا تو وہ یہی قول کہتا تھا ، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول مراد لے رہے تھے ( کہ قروء سے مراد طہر ہیں )

1194

Muwatta Imam Malik #1194

Sahih

[1194] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَزَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ الأَحْوَصَ ہَلَکَ بِالشَّامِ حِینَ دَخَلَتِ امْرَأَتُہُ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ، وَقَدْ کَانَ طَلَّقَہَا، فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أبِی سُفْیَانَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ یَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ زَیْدٌ : إِنَّہَا إِذَا دَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ، وَبَرِئَ مِنْہَا، وَلاَ تَرِثُہُ، وَلاَ یَرِثُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ احوص ملک شام میں فوت ہو گئے جس وقت کہ ان کی بیوی تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو چکی تھی اور انھوں نے اسے طلاق دی ہوئی تھی تو ( ملک شام سے ) سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف ( جو کہ مدینہ میں تھے ، پیغام ) لکھا ، ( جس میں ) وہ اس معاملے کے متعلق سوال کر رہے تھے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ( جواب میں ) ان کی طرف یہ لکھا کہ بلاشبہ جب وہ ( طلاق کی عدت گزارتے ہوئے ) تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو گئی تو وہ خاوند سے بری ( اور بے تعلق ) ہو گئی اور وہ اس سے بے تعلق ہو گیا اور نہ وہ اس کی وارث بن سکتی ہے اور نہ وہ اس کی وراثت پا سکتا ہے ۔

1195

Muwatta Imam Malik #1195

Sahih

[1195] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَأبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، وَابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَۃُ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ، فَقَدْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِہَا، وَلاَ مِیرَاثَ بَیْنَہُمَا، وَلاَ رَجْعَۃَ لَہُ عَلَیْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو قاسم بن محمد ( بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) ، سالم بن عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) ابوبکر بن عبدالرحمن ( بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ ) ، سلیمان بن یسار اور ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہم کے بارے میں یہ خبر پہنچی کہ بلاشبہ وہ سب کہتے تھے : جب طلاق والی عورت تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو یقیناً وہ اپنے خاوند سے بائن ( اور جدا ) ہو گئی ، نہ ان دونوں میں وراثت چلے گی اور نہ خاوند کے لیے اس پر رجوع کا حق رہے گا ۔

1196

Muwatta Imam Malik #1196

Sahih

[1196] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ، فَدَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ وَبَرِئَ مِنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہا کرتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے ، پھر وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو یقیناً وہ اس سے بری اور بے تعلق ہو گئی اور وہ اس سے بری ہو گیا ، نہ وہ اس کی وراث بنے گی اور نہ وہ اس کا وارث بنے گا ۔

1197

Muwatta Imam Malik #1197

Sahih

[1197] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ الْفُضَیْلِ بْنِ أبِی عَبْدِ اللّٰہِ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَانَا یَقُولاَنِ: إِذَا طُلِّقَتِ الْمَرْأَۃُ، فَدَخَلَتْ فِی الدَّمِ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ، فَقَدْ بَانَتْ مِنْہُ وَحَلَّتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

فضیل بن ابی عبداللہ رحمہ اللہ جو مہری کے آزاد کردہ غلام تھے ، سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ دونوں فرمایا کرتے تھے : جب عورت کو طلاق ہو جائے پھر وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو یقیناً وہ جدا ہو گئی اور ( نئے نکاح کے لیے ) حلال ہو گئی ۔

1198

Muwatta Imam Malik #1198

Zaeef

[1198] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَابْنِ شِہَابٍ, وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ : عِدَّۃُ الْمُخْتَلِعَۃِ ثَلاَثَۃُ قُرُوئٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو سعید بن مسیب ، ابن شہاب اور سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہم کے متعلق یہ خبر پہنچی کہ وہ سب کہا کرتے تھے : خلع والی عورت کی عدت تین قروء ہے ۔

1199

Muwatta Imam Malik #1199

Sahih

[1199] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : عِدَّۃُ الْمُطَلَّقَۃِ الْأَقْرَائُ وَإِنْ تَبَاعَدَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ کہتے تھے کہ طلاق والی عورت کی عدت ’’ اقراء ‘‘ ( حیض ) ہیں ، اگرچہ وہ دور نکل جائیں ( اور کافی عرصہ بیت جائے ) ۔

1200

Muwatta Imam Malik #1200

Zaeef

[1200] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّ امْرَأَتَہُ سَأَلَتْہُ الطَّلاَقَ، فَقَالَ لَہَا : إِذَا حِضْتِ فَآذِنِینِی۔ فَلَمَّا حَاضَتْ آذَنَتْہُ، فَقَالَ إِذَا طَہُرْتِ فَآذِنِینِی، فَلَمَّا طَہُرَتْ آذَنَتْہُ، فَطَلَّقَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ایک انصاری شخص سے روایت ہے کہ ان کی بیوی نے ان سے طلاق مانگ لی تو انھوں نے اس سے کہا کہ جب تجھے حیض آئے تو مجھے اطلاع دے دینا ، چنانچہ جب اسے حیض آیا تو اس نے ان کو بتا دیا ، وہ کہنے لگے کہ جب تو حیض سے پاک ہو گی تو مجھے اطلاع دینا ، چنانچہ جب وہ پاک ہوئی تو اس نے ان کو بتا دیا ، سو انھوں نے اسے طلاق دے دی ۔