Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 352

طلاق کے مسائل کی کتاب

کنواری لڑکی کی طلاق کا بیان

3 hadiths in this chapter

1173

Muwatta Imam Malik #1173

Sahih

[1173] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ، أَ نَّہُ قَالَ : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَہُ ثَلاَثاً قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا، ثُمَّ بَدَا لَہُ أَنْ یَنْکِحَہَا، فَجَائَ یَسْتَفْتِی، فَذَہَبْتُ مَعَہُ أَسْأَلُ لَہُ, فَسَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالاَ : لاَ نَرَی أَنْ تَنْکِحَہَا، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَکَ۔ قَالَ : فَإِنَّمَا طَلاَقِی إِیَّاہَا وَاحِدَۃٌ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّکَ أَرْسَلْتَ مِنْ یَدِکَ مَا کَانَ لَکَ مِنْ فَضْلٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن ایاس بن بکیر سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے مباشرت کرنے سے پہلے ہی اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر اس کے دل میں آیا کہ اس سے دوبارہ نکاح کر لے ، چنانچہ وہ فتویٰ لینے کے لیے آیا ، میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا تاکہ اس کے لیے سوال کر سکوں ، اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں نے کہا کہ ہم ( یہ درست ) نہیں سمجھتے کہ تو اس سے نکاح کرے ( کیونکہ تین طلاقیں ہو چکی ہیں لہٰذا وہ تم پر حرام رہے گی ) یہاں تک کہ وہ تیرے علاوہ کسی اور شخص کے ساتھ نکاح کرے ، وہ کہنے لگا کہ بلاشبہ میری اس کو دی ہوئی طلاق صرف اور صرف ایک ہے ( کیونکہ وہ ایک محفل کی تین طلاقیں تھیں اور میں نے ایک ہی مراد لی تھی ) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ تو نے خود ہی اپنے ہاتھ سے اس زائد اختیار کو چھوڑ دیا جو کہ تیرے لیے ( ثابت ) تھا ۔

1174

Muwatta Imam Malik #1174

Sahih

[1174] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أبِی عَیَّاشٍ الْأَنْصَاری، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ یَسْأَلُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثاً قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا، قَالَ عَطَائٌ : فَقُلْتُ إِنَّمَا طَلاَقُ الْبِکْرِ وَاحِدَۃٌ۔ فَقَالَ لِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ، الْوَاحِدَۃُ تُبِینُہَا، وَالثَّـلَاثَۃُ تُحَرِّمُہَا، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کرنے لگا جس نے اپنی بیوی کو چھونے سے پہلے ہی اسے تین طلاقیں دے دیں ، عطاء بن یسار رحمہ اللہ ( کہتے ہیں کہ میں پہلے ہی بول پڑا اور ) کہنے لگا کہ کنواری کی طلاق ایک ہی ہوتی ہے ( اور اس کے بعد وہ حرام ہو جاتی ہے ) تو سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما مجھ سے فرمانے لگے : تو تو صرف اور صرف قصہ گو ہے ( جو بغیر سوچے سمجھے بولتا رہتا ہے ) ایک طلاق اسے جدا کر دیتی ہے ( یعنی کنواری کی پہلی طلاق ہی بائنہ ہوتی ہے جس میں رجوع نہیں ہوتا لیکن اس سے وہ حرام نہیں ہوتی ، طلاق دینے والا اس سے فوراً دوبارہ نکاح بھی کر سکتا ہے ) اور تین طلاقیں اسے حرام کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے شادی کر لے ۔

1175

Muwatta Imam Malik #1175

Sahih

[1175] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْأَشَجِّ : أَنَّہُ أَخْبَرَہُ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أبِی عَیَّاشٍ الْأَنْصَاری، أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : فَجَائَ ہُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ، فَقَالَ: إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثاً قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا، فَمَاذَا تَرَیَانِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ : إِنَّ ہَذَا الأَمْرَ مَا لَنَا فِیہِ قَوْلٌ، فَاذْہَبْ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأبِی ہُرَیْرَۃَ، فَإِنِّی تَرَکْتُہُمَا عِنْدَ عَائِشَۃَ فَسَلْہُمَا، ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا۔ فَذَہَبَ فَسَأَلَہُمَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لأبِی ہُرَیْرَۃَ : أَفْتِہِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ، فَقَدْ جَائَ تْکَ مُعْضِلَۃٌ۔ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : الْوَاحِدَۃُ تُبِینُہَا، وَالثَّـلَاثَۃُ تُحَرِّمُہَا، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِکَ أَیْضًا۔ قَالَ مَالِکٌ : وَعَلَی ذَلِکَ الأَمْرُ عِنْدَنَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

معاویہ بن ابی عیاش انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور عاصم بن عمر بن خطاب کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ، معاویہ کہتے ہیں کہ ( اتنے میں ) محمد بن ایاس بن بکیر آئے اور کہنے لگے کہ صحراء والوں میں سے ایک شخص ( ایک بدوی آدمی ) نے اپنی بیوی کے ساتھ دخول کرنے سے قبل ہی اسے تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ دونوں اس کے متعلق کیا خیال کرتے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ بلاشبہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق ہم تک ( احادیث میں سے ) کوئی قول نہیں پہنچا ، لہٰذا تم سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلے جاؤ ، میں ان دونوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں ، ( وہ دونوں وہیں ان سے مسائل پوچھ رہے ہیں ) ان دونوں سے پوچھ کر پھر ہمارے پاس بھی آنا اور ہمیں بھی بتانا ( کہ وہ کیا کہتے ہیں ) چنانچہ وہ ( محمد بن ایاس ) چلے گئے اور ان سے ( یہی ) سوال کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوہریرہ ! اسے فتویٰ دیجیے ، یقیناً آپ کے پاس یہ ایک مشکل مسئلہ آیا ہے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ایک طلاق ( ہی ) اسے جدا کر دیتی ہے ( اور رجوع نہیں ہو سکتا البتہ نیا نکاح ہو سکتا ہے ) اور تین طلاقیں اسے حرام کر دیتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کر لے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح فرمایا ۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اسی کے مطابق حکم ہے ۔