Muwatta Imam Malik #1173
[1173] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ، أَ نَّہُ قَالَ : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَہُ ثَلاَثاً قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا، ثُمَّ بَدَا لَہُ أَنْ یَنْکِحَہَا، فَجَائَ یَسْتَفْتِی، فَذَہَبْتُ مَعَہُ أَسْأَلُ لَہُ, فَسَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالاَ : لاَ نَرَی أَنْ تَنْکِحَہَا، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَکَ۔ قَالَ : فَإِنَّمَا طَلاَقِی إِیَّاہَا وَاحِدَۃٌ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّکَ أَرْسَلْتَ مِنْ یَدِکَ مَا کَانَ لَکَ مِنْ فَضْلٍ۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن ایاس بن بکیر سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے مباشرت کرنے سے پہلے ہی اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر اس کے دل میں آیا کہ اس سے دوبارہ نکاح کر لے ، چنانچہ وہ فتویٰ لینے کے لیے آیا ، میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا تاکہ اس کے لیے سوال کر سکوں ، اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں نے کہا کہ ہم ( یہ درست ) نہیں سمجھتے کہ تو اس سے نکاح کرے ( کیونکہ تین طلاقیں ہو چکی ہیں لہٰذا وہ تم پر حرام رہے گی ) یہاں تک کہ وہ تیرے علاوہ کسی اور شخص کے ساتھ نکاح کرے ، وہ کہنے لگا کہ بلاشبہ میری اس کو دی ہوئی طلاق صرف اور صرف ایک ہے ( کیونکہ وہ ایک محفل کی تین طلاقیں تھیں اور میں نے ایک ہی مراد لی تھی ) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ تو نے خود ہی اپنے ہاتھ سے اس زائد اختیار کو چھوڑ دیا جو کہ تیرے لیے ( ثابت ) تھا ۔