Muwatta Imam Malik #1171
[1171] حَدَّثَنِی یَحْیَی،وعَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یَقُولُ فِی وَلَدِ الْمُلاَعَنَۃِ، وَوَلَدِ الزِّنَا : أَنَّہُ إِذَا مَاتَ وَرِثَتْہُ أُمُّہُ حَقَّہَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالَی، وَإِخْوَتُہُ لأُمِّہِ حُقُوقَہُمْ، وَیَرِثُ الْبَقِیَّۃَ مَوَالِی أُمِّہِ، إِنْ کَانَتْ مَوْلاَۃً، وَإِنْ کَانَتْ عَرَبِیَّۃً وَرِثَتْ حَقَّہَا، وَوَرِثَ إِخْوَتُہُ لأُمِّہِ حُقُوقَہُمْ، وَکَانَ مَا بَقِیَ لِلْمُسْلِمِینَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ عروہ بن زبیر لعان کرنے والے کے بچے یعنی ولد زنا کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ بلاشبہ وہ مر جائے گا تو اس کی ماں اللہ کی کتاب میں مذکور اپنے حصے کے مطابق اس بچے ( کے ترکے میں سے چھٹے یا تیسرے حصے ) کی وارث بنے گی اور ماں کی طرف سے اس کے ( اخیافی ) بہن بھائی بھی اپنے مقرر حصے ( ایک ہے تو چھٹا حصہ اور زیادہ ہیں تو تیسرے حصے ) کے وارث بنیں گے اور باقی ماندہ مال کے وارث ( عصبہ کے طور پر ) اس کی ماں کے آزاد کرنے والے بنیں گے جس وقت کہ وہ ماں آزاد کردہ لونڈی ہو اور اگر وہ عربی ہو ( شروع ہی سے آزاد عورت ہو ) تو وہ ( صرف ) اپنے حصے کی اور بچے کے اخیافی بہن بھائی اپنے حصے کے وارث ہوں گے اور جو کچھ بھی باقی بچے گا وہ ( تمام ) مسلمانوں کے لیے ( مشترکہ بیت المال میں جمع ) ہو گا ۔