Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 348

طلاق کے مسائل کی کتاب

خلع کا بیان

2 hadiths in this chapter

1165

Muwatta Imam Malik #1165

Sahih

[1165] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہَا أَخْبَرَتْہُ، عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ سَہْلٍ الْأَنْصَاری : أَ نَّہَا کَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِیبَۃَ بِنْتَ سَہْلٍ عِنْدَ بَابِہِ فِی الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ ہَذِہِ ؟فَقَالَتْ : أَنَا حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ قَالَ : مَا شَأْنُکِ ؟قَالَتْ : لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ، لِزَوْجِہَا، فَلَمَّا جَائَ زَوْجُہَا ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ، قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَذِہِ حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ، قَدْ ذَکَرَتْ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ تَذْکُرَ فَقَالَتْ حَبِیبَۃُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ کُلُّ مَا أَعْطَانِی عِنْدِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ : خُذْ مِنْہَا فَأَخَذَ مِنْہَا وَجَلَسَتْ فِی أَہْلِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، بے شک وہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔ یقیناً ( ایک دن ) رسول اللہ ﷺ نماز فجر کی طرف نکلے تو آپ نے سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کو ( صبح کے ) اندھیرے ہی میں اپنے دروازے کے پاس پایا ، سو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ وہ بولیں کہ اے اللہ کے رسول ! میں حبیبہ بنت سہل ہوں ، آپ نے فرمایا :’’ تمھیں کیا ہوا ہے ؟‘‘ وہ اپنے خاوند کا نام لے کر بولیں کہ نہ میں اور نہ ثابت بن قیس ( اب ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے ) ، پھر جب ان کے خاوند سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ یہ جو ( تمھاری بیوی ) حبیبہ بنت سہل ہے ، اس نے وہ کچھ باتیں ذکر کی ہیں جو اللہ نے چاہا کہ وہ ذکر کرے ۔‘‘ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول ! انھوں نے جو کچھ بھی ( حق مہر میں ) مجھے دیا تھا وہ میرے پاس موجود ہے ، ( وہ سب انھیں دے دیجیے اور میری جان چھڑا دیجیے ) تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ اسے وصول کر لو ‘‘ چنانچہ انھوں نے ان سے لے لیا اور وہ اپنے خاندان کے گھر میں ( اپنے میکے میں ) بیٹھ گئیں ۔

1166

Muwatta Imam Malik #1166

Zaeef

[1166] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلاَۃٍ لِصَفِیَّۃَ بِنْتِ أبِی عُبَیْدٍ : أَ نَّہَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِہَا بِکُلِّ شَیْئٍ لَہَا، فَلَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

( سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی زوجہ ) صفیہ بنت ابی عبید کی آزاد کردہ لونڈی سے روایت ہے کہ اس نے اپنے خاوند سے ہر اس چیز کے بدلے میں خلع لیا جو اس کے پاس تھی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار نہ کیا ( اور اسے غلط نہ جانا ) ۔