Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 347

طلاق کے مسائل کی کتاب

( بیویوں کے حق ) اختیار کا بیان

5 hadiths in this chapter

1160

Muwatta Imam Malik #1160

Sahih

[1160] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَ نَّہَا قَالَتْ: کَانَ فِی بَرِیرَۃَ ثَـلَاثُ سُنَنٍ، فَکَانَتْ إِحْدَی السُّنَنِ الثَّلاَثِ : أَ نَّہَا أُعْتِقَتْ فَخُیِّرَتْ فِی زَوْجِہَا، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَالْبُرْمَۃُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَیْہِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَیْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَلَمْ أَرَ بُرْمَۃً فِیہَا لَحْمٌ فَقَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَلَکِنْ ذَلِکَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِہِ عَلَی بَرِیرَۃَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہُوَ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ، وَہُوَ لَنَا ہَدِیَّۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ( کے قصے ) میں تین سنتیں ( ثابت ہوتی ) ہیں ۔ ان تین سنتوں میں سے ایک یہ ہے کہ بے شک وہ ( اپنے غلام خاوند سے پہلے ) آزاد کر دی گئی تو اسے اپنے خاوند ( کے نکاح ) میں ( رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دے دیا گیا ، اور ( دوسری سنت یہ ہے کہ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا ۔‘‘ اور ( تیسری سنت یہ ہے کہ ) رسول اللہ ﷺ ( گھر میں ) داخل ہوئے ، اس وقت ہنڈیا گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھی ، پھر ( ہوا یوں کہ ) آپ ﷺ کے پاس روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے کوئی ( عام سا ) سالن لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں نے وہ ہنڈیا نہیں دیکھی جس میں گوشت تھا ؟‘‘ گھر والوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! ( واقعی وہ موجود ہے ) لیکن وہ ایسا گوشت ہے جو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے اور آپ تو صدقہ کھاتے ہی نہیں ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس پر تو صدقہ ہے لیکن وہ اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔‘‘

1161

Muwatta Imam Malik #1161

Sahih

[1161] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الأَمَۃِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ : إِنَّ الأَمَۃَ لَہَا الْخِیَارُ، مَا لَمْ یَمَسَّہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ اس لونڈی جو کسی غلام کے نکاح میں ہو پھر آزاد کر دی جائے ، کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ یقیناً اس لونڈی کے لیے ( خاوند سے جدا ہونے کا ) اختیار باقی رہتا ہے جب تک کہ وہ اس کو چھو نہ لے ( مباشرت نہ کر لے )

1162

Muwatta Imam Malik #1162

Zaeef

[1162] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّ مَوْلَاۃً لِبَنِی عَدِیٍّ یُقَالُ لَہَا زَبْرَائُ، أَخْبَرَتْہُ : أَ نَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَہِیَ أَمَۃٌ یَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَتْ إِلَیَّ حَفْصَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ ﷺ ، فَدَعَتْنِی فَقَالَتْ : إنِّی مُخْبِرَتُکِ خَبَراً، وَلاَ أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِی شَیْئاً، إِنَّ أَمْرَکِ بِیَدِکِ، مَا لَمْ یَمْسَسْکِ زَوْجُکِ، فَإِنْ مَسَّکِ، فَلَیْسَ لَکِ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ۔ قَالَتْ : فَقُلْتُ ہُوَ الطَّلاَقُ، ثُمَّ الطَّلاَقُ، ثُمَّ الطَّلاَقُ۔ فَفَارَقَتْہُ ثَلاَثاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنو عدی خاندان کی ایک آزاد کردہ لونڈی جسے ’’ زبراء ‘‘ کہا جاتا تھا ، نے انھیں خبر دی کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی اور خود بھی اس وقت لونڈی تھی ، پھر اسے آزاد کر دیا گیا ، وہ بتاتی ہے کہ پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور فرمایا کہ یقیناً میں تجھے ایک مسئلے کی خبر دینے لگی ہوں لیکن میں یہ پسند نہیں کرتی کہ تو ( اس مسئلے کی روشنی میں ) کوئی ( ناگوار ) کام کر بیٹھے ، ( خبر یہ ہے کہ ) بلاشبہ تمھارا معاملہ تمھارے ہاتھ میں ہے ( تمھیں اپنے غلام خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا شرعی اختیار حاصل ہے ) جب تک کہ تمھارا خاوند تم سے مباشرت نہ کر لے ، اگر اس نے تمھیں چھو لیا تو پھر تیرے لیے اختیار میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ، وہ کہتی ہے کہ میں نے ( یہ سنتے ہی ) کہہ دیا کہ اسے طلاق ، پھر طلاق ۔ چنانچہ وہ تین بار خاوند سے جدا ہو گئی ۔

1163

Muwatta Imam Malik #1163

Zaeef

[1163] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَ نَّہُ قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَبِہِ جُنُونٌ أَوْ ضَرَرٌ، فَإِنَّہَا تُخَیَّرُ، فَإِنْ شَائَ تْ قَرَّتْ، وَإِنْ شَائَ تْ فَارَقَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے اس حال میں شادی کرے کہ اس ( مرد ) کے ساتھ جنون یا کوئی اور ضرر رساں چیز ( اور قابل نفرت مرض مثلاً کوڑھ ، کینسر ، نامردی وغیرہ ) ہو تو بلاشبہ عورت کو اختیار دیا جائے گا ، اگر چاہے تو اس کے ساتھ ٹھہری رہے اور چاہے تو اس سے جدا ہو جائے ۔

1164

Muwatta Imam Malik #1164

Sahih

[1164] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : إِذَا خَیَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ, فَاخْتَارَتْہُ، فَلَیْسَ ذَلِکَ بِطَلاَقٍ۔ قَالَ مَالِکٌ : وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے دے ، پھر وہ عورت اس ( خاوند ) کو اختیار کر لے تو یہ اختیار طلاق شمار نہیں ہو گا ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہی وہ سب سے بہترین قول ہے جو ( اس مسئلے میں ) مَیں نے سنا ہے ۔