Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 343

طلاق کے مسائل کی کتاب

اس تملیک کا بیان جس سے طلاق بائنہ واقع نہیں ہوتی

4 hadiths in this chapter

1145

Muwatta Imam Malik #1145

Sahih

[1145] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ, عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَ نَّہَا خَطَبَتْ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی بَکْرٍ قُرَیْبَۃَ بِنْتَ أبِی أُمَیَّۃَ فَزَوَّجُوہُ، ثُمَّ إِنَّہُمْ عَتَبُوا عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالُوا : مَا زَوَّجْنَا إِلاَّ عَائِشَۃَ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَۃُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ، فَجَعَلَ أَمْرَ قُرَیْبَۃَ بِیَدِہَا، فَاخْتَارَتْ زَوْجَہَا، فَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ طَلاَقاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے ( اپنے بھائی ) سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لیے ( ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن ) سیدہ قریبہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا ( کے گھر والوں ) کی طرف پیغام نکاح بھیجا ، تو انھوں نے ( اپنی لڑکی سیدہ قریبہ رضی اللہ عنہا کی ) ان سے شادی کر دی ، پھر وہ ( کسی معاملے میں ) سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے تو صرف اور صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( کی وجہ ) سے یہ شادی کی تھی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبدالرحمن کی طرف پیغام بھیجا اور ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے ( اپنی بیوی ) سیدہ قریبہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ان کے ہاتھ میں دے دیا ، چنانچہ انھوں نے اپنے خاوند ہی کو اختیار کیا اور یہ ( سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا اختیار دینا ) طلاق شمار نہ ہوا ۔

1146

Muwatta Imam Malik #1146

Sahih

[1146] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ ، زَوَّجَتْ حَفْصَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَیْرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ : وَمِثْلِی یُصْنَعُ ہَذَا بِہِ، وَمِثْلِی یُفْتَاتُ عَلَیْہِ، فَکَلَّمَتْ عَائِشَۃُ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ الْمُنْذِرُ: فَإِنَّ ذَلِکَ بِیَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَا کُنْتُ لأَرُدَّ أَمْراً قَضَیْتِیہِ، فَقَرَّتْ حَفْصَۃُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ، وَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ طَلاَقاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد ( قاسم بن محمد ) سے روایت کرتے ہیں کہ ( ان کی پھوپھی جان ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ نے ( اپنی بھتیجی ) حفصہ بنت عبدالرحمن کی منذر بن زبیر سے شادی کروا دی ، اس وقت ( لڑکی کے والد ) سیدنا عبدالرحمن ( بن ابی بکر رضی اللہ عنہما ) موجود نہ تھے ، ( اور ) ملک شام میں تھے ، پھر جب ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ واپس آئے تو فرمانے لگے کہ مجھ جیسے ہی کے ساتھ ایسا کیا جا رہا ہے اور مجھ جیسے ہی پر اس کے مشورے کے بغیر رائے تھوپی جا رہی ہے ، ( حالانکہ لڑکی کا والد تو میں ہوں ) چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے منذر بن زبیر سے بات چیت کی تو منذر کہنے لگے کہ بلاشبہ یہ معاملہ ( میرے سسر ) سیدنا عبدالرحمن کے ہاتھ میں ہے تو سیدنا عبدالرحمن نے ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : میں ایسا نہیں ہوں کہ اس معاملے کو مسترد کر دوں جس کا فیصلہ آپ نے کیا ہے ( آپ کا حکم سر آنکھوں پر ، بس ذرا سی خلش ہوئی تھی کہ میرا بھی انتظار کر لیا جاتا اور میں بھی اس خوشی میں شامل ہو جاتا ) چنانچہ ( ان کی بیٹی ) حفصہ ، منذر ہی کے پاس برقرار رہی اور یہ اختیار طلاق شمار نہ ہوا ۔

1147

Muwatta Imam Malik #1147

Zaeef

[1147] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ سُئِلاَ، عَنِ الرَّجُلِ یُمَلِّکُ امْرَأَتَہُ أَمْرَہَا، فَتَرُدُّ ذَلِکَ إِلَیْہِ، وَلاَ تَقْضِی فِیہِ شَیْئاً، فَقَالاَ: لَیْسَ ذَلِکَ بِطَلاَقٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو اس کے معاملے کا مالک بنا دیتا ہے ، ( لیکن ) وہ اسے اس پر لوٹا دیتی ہے اور اس بارے میں خود کچھ بھی فیصلہ نہیں کرتی تو دونوں ( سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ) نے فرمایا کہ یہ معاملہ طلاق شمار نہیں ہو گا ۔

1148

Muwatta Imam Malik #1148

Sahih

[1148] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَ نَّہُ قَالَ : إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ أَمْرَہَا، فَلَمْ تُفَارِقْہُ وَقَرَّتْ عِنْدَہُ، فَلَیْسَ ذَلِکَ بِطَلاَقٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا : جب آدمی اپنی بیوی کو اس کے معاملے کا مالک بنا دے ، پھر وہ اس سے جدا نہ ہو اور اس کے پاس ٹھہری رہے تو یہ طلاق ہرگز نہیں ہے ۔