Muwatta Imam Malik #1145
[1145] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ, عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَ نَّہَا خَطَبَتْ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی بَکْرٍ قُرَیْبَۃَ بِنْتَ أبِی أُمَیَّۃَ فَزَوَّجُوہُ، ثُمَّ إِنَّہُمْ عَتَبُوا عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالُوا : مَا زَوَّجْنَا إِلاَّ عَائِشَۃَ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَۃُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ، فَجَعَلَ أَمْرَ قُرَیْبَۃَ بِیَدِہَا، فَاخْتَارَتْ زَوْجَہَا، فَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ طَلاَقاً۔
اردو ترجمہ · Urdu
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے ( اپنے بھائی ) سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لیے ( ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن ) سیدہ قریبہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا ( کے گھر والوں ) کی طرف پیغام نکاح بھیجا ، تو انھوں نے ( اپنی لڑکی سیدہ قریبہ رضی اللہ عنہا کی ) ان سے شادی کر دی ، پھر وہ ( کسی معاملے میں ) سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے تو صرف اور صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( کی وجہ ) سے یہ شادی کی تھی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبدالرحمن کی طرف پیغام بھیجا اور ان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے ( اپنی بیوی ) سیدہ قریبہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ان کے ہاتھ میں دے دیا ، چنانچہ انھوں نے اپنے خاوند ہی کو اختیار کیا اور یہ ( سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا اختیار دینا ) طلاق شمار نہ ہوا ۔