Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 342

طلاق کے مسائل کی کتاب

اس تملیک کا بیان جس میں ایک طلاق واجب ہوتی ہے

2 hadiths in this chapter

1143

Muwatta Imam Malik #1143

Sahih

[1143] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ, عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً عِنْدَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَتَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أبِی عَتِیقٍ، وَعَیْنَاہُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ: مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : مَلَّکْتُ امْرَأَتِی أَمْرَہَا َفَارَقَتْنِی۔ فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ ؟ قَالَ : الْقَدَرُ۔ فَقَالَ زَیْدٌ : ارْتَجِعْہَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّمَا ہِیَ وَاحِدَۃٌ، وَأَنْتَ أَمْلَکُ بِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ان کے پاس محمد بن ابی عتیق اس حال میں آئے کہ ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے معاملے کا مالک بنا دیا تھا تو وہ مجھ سے جدا ہو گئی ہے ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون سی چیز نے تمھیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا ؟ وہ بولے کہ تقدیر نے ۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کر سکتے ہو کیونکہ یہ صرف اور صرف ایک طلاق ہے اور ( اب بھی ) تو ہی اس کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔

1144

Muwatta Imam Malik #1144

Sahih

[1144] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ ثَقِیفٍ مَلَّکَ امْرَأَتَہُ أَمْرَہَا، فَقَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَسَکَتَ، ثُمَّ قَالَتْ : أَنْتَ الطَّلاَقُ، فَقَالَ : بِفِیکِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَتْ : أَنْتَ الطَّلاَقُ، فَقَالَ : بِفِیکِ الْحَجَرُ۔ فَاخْتَصَمَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، فَاسْتَحْلَفَہُ مَا مَلَّکَہَا إِلاَّ وَاحِدَۃً وَرَدَّہَا إِلَیْہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثقیف قبیلے کے ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اس کے معاملے کا مالک بنا دیا تو اس نے خاوند سے کہہ دیا : اَنْتَ الطَّلَاقُ ، ’’ تم طلاق والے ہو ‘‘ وہ خاموش رہا ، وہ پھر بولی کہ تم طلاق والے ہو ، تو وہ کہنے لگا کہ تیرے منہ میں پتھر ( پڑیں ) ۔ وہ پھر بولی کہ تم طلاق والے ہو تو اس نے بھی کہا کہ تیرے منہ میں پتھر ، پھر وہ دونوں مروان بن حکم ( جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کے امیر تھے ) کے پاس جھگڑا لے کر آئے ( خاوند کہتا تھا کہ میں نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی اور عورت تین طلاقوں کا دعویٰ کر رہی تھی ، تو انھوں نے اس آدمی سے اس بات پر حلف لیا کہ اس نے عورت کو ایک کے سوا کسی طلاق کا مالک نہ بنایا تھا اور پھر ( جب اس نے قسم کھا لی تو ) انھوں نے عورت کو اسی کی طرف لوٹا دیا ( اور رجعی طلاق شمار کیا ) ۔