Muwatta Imam Malik #1143
[1143] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ, عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ، أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً عِنْدَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَتَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أبِی عَتِیقٍ، وَعَیْنَاہُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ: مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : مَلَّکْتُ امْرَأَتِی أَمْرَہَا َفَارَقَتْنِی۔ فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ ؟ قَالَ : الْقَدَرُ۔ فَقَالَ زَیْدٌ : ارْتَجِعْہَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّمَا ہِیَ وَاحِدَۃٌ، وَأَنْتَ أَمْلَکُ بِہَا۔
اردو ترجمہ · Urdu
خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ان کے پاس محمد بن ابی عتیق اس حال میں آئے کہ ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے معاملے کا مالک بنا دیا تھا تو وہ مجھ سے جدا ہو گئی ہے ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون سی چیز نے تمھیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا ؟ وہ بولے کہ تقدیر نے ۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کر سکتے ہو کیونکہ یہ صرف اور صرف ایک طلاق ہے اور ( اب بھی ) تو ہی اس کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔