Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 341

طلاق کے مسائل کی کتاب

اس تملیک ( مالک بنا دینے ) کا بیان جو بائن جدا کر دیتی ہے

2 hadiths in this chapter

1141

Muwatta Imam Malik #1141

Zaeef

[1141] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إنِّی جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِی فِی یَدِہَا، فَطَلَّقَتْ نَفْسَہَا، فَمَاذَا تَرَی ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : أُرَاہُ کَمَا قَالَتْ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : لاَ تَفْعَلْ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَنَا أَفْعَلُ، أَنْتَ فَعَلْتَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ( ان کو کنیت سے مخاطب کرتے ہوئے ) کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمن ! بے شک میں نے اپنی عورت کے معاملے کو اس کے ہاتھ میں کر دیا ( طلاق لینے یا نہ لینے کا معاملہ اسے سونپ دیا ) تو اس نے خود کو طلاق دے دی ، اب آپ اس بارے میں کیا خیال کرتے ہیں ؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تو اسے اس طرح سمجھتا ہوں جیسے اس نے کہہ دیا ۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمن ! ( ایسا ) نہ کیجیے ، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے : ( کیا ) میں کر رہا ہوں ( نہیں بلکہ ) تم نے خود ( ایسا ) کیا ہے ۔

1142

Muwatta Imam Malik #1142

Sahih

[1142] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ أَمْرَہَا، فَالْقَضَائُ مَا قَضَتْ بِہِ، إِلاَّ أَنْ یُنْکِرَ عَلَیْہَا وَیَقُولَ : لَمْ أُرِدْ إِلاَّ وَاحِدَۃً، فَیَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ، وَیَکُونُ أَمْلَکَ بِہَا مَا کَانَتْ فِی عِدَّتِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : جب آدمی اپنی بیوی کو اس کے ( طلاق والے ) معاملے کا مالک بنا دے تو پھر وہی فیصلہ معتبر ہو گا جو وہ کرے گی ، الا یہ کہ خاوند اس پر انکار کر دے اور کہے کہ میں نے تو ایک طلاق کے سوا کچھ مراد نہیں لیا تھا تو پھر اس سے اس بات پر قسم لی جائے گی اور ( رجعی طلاق واقع ہو گی اس لیے ) وہ عورت جب تک اپنی عدت میں رہے گی خاوند اس کے ساتھ ( رجوع کرنے کا ) زیادہ مستحق ہو گا ۔