Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 340

طلاق کے مسائل کی کتاب

خَلِیَّۃ، بَرِیَّۃ اور ان جیسے الفاظ کے ساتھ طلاق دینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1136

Muwatta Imam Malik #1136

Zaeef

[1136] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَ نَّہُ کُتِبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الْعِرَاقَ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ، فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی عَامِلِہِ، أَنْ مُرْہُ یُوَافِینِی بِمَکَّۃَ فِی الْمَوْسِمِ، فَبَیْنَمَا عُمَرُ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ, إِذْ لَقِیَہُ الرَّجُلُ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، فَقَالَ عُمَرُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : أَنَا الَّذِی أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَیْکَ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: أَسْأَلُکَ بِرَبِّ ہَذِہِ الْبَنِیَّۃِ، مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ : حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ ؟ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِی فِی غَیْرِ ہَذَا الْمَکَانِ مَا صَدَقْتُکَ، أَرَدْتُ بِذَلِکَ الْفِرَاقَ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ہُوَ مَا أَرَدْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ عراق سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف یہ لکھا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا ہے کہ ’’ تیری رسی تیرے کندھے پر ہے ‘‘ ( اس سے کیا مراد لیا جائے ؟ ) تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( عراق میں موجود ) اپنے عامل ( امیر ، گورنر ) کی طرف لکھا کہ اس آدمی کو یہ حکم دو کہ وہ موسم حج میں مکہ کے اندر مجھ سے ملاقات کرے ، چنانچہ اس دوران کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک وہی آدمی آپ سے ملا اور اس نے انھیں سلام کہا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو کون ہے ؟ وہ بولا کہ میں وہی شخص ہوں جس کے متعلق آپ نے حکم دیا تھا کہ آپ کے پاس لایا جاؤں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس گھر ( بیت اللہ ) کے رب کی قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں کہ تم نے اپنے قول حَبْلُکِ عَلٰی غَارِبِکِ ’’ تیری رسی تیرے کندھے پر ہے ‘‘ سے کیا مراد لیا تھا ؟ وہ آدمی کہنے لگا کہ اے امیرالمومنین ! اگر آپ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور مجھ سے قسم بھی لے لیتے تو میں آپ سے سچ نہ بولتا ( لیکن یہاں اس گھر کی ہیبت مجھے سچ کہنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ) میں نے اس کلام سے جدائی ( اور طلاق ) ہی مراد لی تھی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( تو پھر ) اس کا وہی مطلب ہے جو تم نے مراد لیا ہے ۔

1137

Muwatta Imam Malik #1137

Zaeef

[1137] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ کَانَ یَقُولُ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لاِمْرَأَتِہِ : أَنْتِ عَلَیَّ حَرَامٌ : إِنَّہَا ثَلاَثُ تَطْلِیقَاتٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس شخص کے متعلق فرمایا کرتے تھے جو اپنی بیوی سے کہے کہ ’’ أَنْتِ عَلَیَّ حَرَامٌ ‘‘ ’’ تو مجھ پر حرام ہے ‘‘ کہ بلاشبہ یہ تین طلاقیں ہیں ۔

1138

Muwatta Imam Malik #1138

Sahih

[1138] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، کَانَ یَقُولُ فِی الْخَلِیَّۃِ وَالْبَرِیَّۃِ: إِنَّہَا ثَلاَثُ تَطْلِیقَاتٍ، کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ’’ خلیہ اور بریہ ‘‘ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ان دونوں میں سے ہر لفظ سے تین طلاقیں ہی مراد ہیں ۔

1139

Muwatta Imam Malik #1139

Sahih

[1139] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَتْ تَحْتَہُ وَلِیدَۃٌ لِقَوْمٍ، فَقَالَ لأَہْلِہَا : شَأْنَکُمْ بِہَا، فَرَأَی النَّاسُ أَنَّہَا تَطْلِیقَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک آدمی کے نکاح میں کسی قوم ( خاندان ) کی ایک لونڈی تھی ، اس آدمی نے اس کے مالکوں سے یہ کہہ دیا : شَاْنَکُمْ بِہَا ’’ تم اس کے ساتھ اپنا معاملہ لازم پکڑ لو ‘‘ ( اسے لے لو ، جو چاہو سو کرو ) تو لوگوں نے یہی خیال کیا کہ یہ ایک طلاق ہے ۔

1140

Muwatta Imam Malik #1140

Sahih

[1140] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لاِمْرَأَتِہِ : بَرِئْتِ مِنِّی، وَبَرِئْتُ مِنْکِ : إِنَّہَا ثَلاَثُ تَطْلِیقَاتٍ، بِمَنْزِلَۃِ الْبَتَّۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب کو سنا ، وہ اس شخص جو اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ’’ تو مجھ سے بری اور میں تجھ سے بری ہو گیا ‘‘ کے متعلق فرما رہے تھے کہ بلاشبہ یہ بھی بتہ طلاق ہی کی طرح تین طلاقیں ہیں ۔