Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 338

نکاح کے مسائل کی کتاب

نکاح کے بارے میں متفرق احادیث کا بیان

6 hadiths in this chapter

1126

Muwatta Imam Malik #1126

Sahih

[1126] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُکُمُ الْمَرْأَۃَ، أَوِ اشْتَرَی الْجَارِیَۃَ، فَلْیَأْخُذْ بِنَاصِیَتِہَا، وَلْیَدْعُ بِالْبَرَکَۃِ، وَإِذَا اشْتَرَی الْبَعِیرَ، فَلْیَأْخُذْ بِذِرْوَۃِ سَنَامِہِ، وَلْیَسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے یا لونڈی خریدے تو اسے چاہیے کہ اس کی پیشانی کے بال پکڑے اور برکت کی دعا کرے ، اور جب وہ اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی چوٹی کو پکڑے اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔‘‘

1127

Muwatta Imam Malik #1127

Sahih

[1127] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ : أَنَّ رَجُلاً خَطَبَ إِلَی رَجُلٍ أُخْتَہُ، فَذَکَرَ أَ نَّہَا قَدْ کَانَتْ أَحْدَثَتْ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَضَرَبَہُ، أَوْ کَادَ یَضْرِبُہُ، ثُمَّ قَالَ : مَا لَکَ وَلِلْخَبَرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوزبیر مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے اس کی بہن کا رشتہ مانگا تو اس نے کہا کہ بے شک اس ( میری بہن ) نے تو زنا کا ارتکاب کیا ہے ، چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی تو انھوں نے اس شخص کو مارا یا ( راوی کہتے ہیں کہ ) وہ قریب تھے کہ اسے مارتے ، پھر فرمایا کہ تجھے یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی ؟

1128

Muwatta Imam Malik #1128

Sahih

[1128] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ کَانَا یَقُولاَنِ فِی الرَّجُلِ یَکُونُ عِنْدَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ، فَیُطَلِّقُ إِحْدَاہُنَّ الْبَتَّۃَ : إنَّہُ یَتَزَوَّجُ إِنْ شَائَ، وَلاَ یَنْتَظِرُ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ بے شک قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر اس شخص کے متعلق فرمایا کرتے تھے جس کے پاس چار بیویاں ہوں ، پھر وہ ان میں سے ایک کو بتہ طلاق ( یعنی تیسری طلاق ) دے دے تو بلاشبہ وہ اگر چاہے تو ( فوراً کسی اور چوتھی بیوی سے ) شادی کر سکتا ہے اور وہ یہ انتظار نہیں کرے گا کہ اس ( طلاق شدہ بیوی ) کی عدت پوری ہو ۔

1129

Muwatta Imam Malik #1129

Sahih

[1129] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَفْتَیَا الْوَلِیدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ، عَامَ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ بِذَلِکَ، غَیْرَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ : طَلَّقَہَا فِی مَجَالِسَ شَتَّی۔

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر نے ( خلیفہ وقت ) ولید بن عبدالملک کو اس سال ہمیں ( پچھلی روایت والا ) فتویٰ دیا جب وہ مدینہ آئے تھے ، البتہ قاسم بن محمد نے ان سے یہ کہا تھا کہ ( یہ اس وقت ہے جب ) وہ اسے مختلف مجلسوں میں ( تین ) طلاقیں دے ۔

1130

Muwatta Imam Malik #1130

Sahih

[1130] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ قَالَ : ثَلاَثٌ لَیْسَ فِیہِنَّ لَعِبٌ : النِّکَاحُ، وَالطَّلاَقُ، َالْعِتْقُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا کہ تین کام ایسے ہیں جن میں کھیل نہیں ہوتا ، نکاح ، طلاق اور آزادی ۔

1131

Muwatta Imam Malik #1131

Zaeef

[1131] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ : أَ نَّہُ تَزَوَّجَ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْأَنْصَاری، فَکَانَتْ عِنْدَہُ حَتَّی کَبِرَتْ، فَتَزَوَّجَ عَلَیْہَا فَتَاۃً شَابَّۃً، فَآثَرَ الشَّابَّۃَ عَلَیْہَا، فَنَاشَدَتْہُ الطَّلاَقَ، فَطَلَّقَہَا وَاحِدَۃً، ثُمَّ أَمْہَلَہَا حَتَّی إِذَا کَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَہَا، ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّۃَ، فَنَاشَدَتْہُ الطَّلاَقَ، فَطَلَّقَہَا وَاحِدَۃً، ثُمَّ رَاجَعَہَا، ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّۃَ، فَنَاشَدَتْہُ الطَّلاَقَ، فَقَالَ : مَا شِئْتِ، إِنَّمَا بَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَی مَا تَرَیْنَ مِنَ الْأُثْرَۃِ، وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُکِ۔ قَالَتْ : بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَی الْأُثْرَۃِ۔ فَأَمْسَکَہَا عَلَی ذَلِکَ، وَلَمْ یَرَ رَافِعٌ عَلَیْہِ إِثْماً، حِینَ قَرَّتْ عِنْدَہُ عَلَی الْأُثْرَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ( خولہ ) سے شادی کی ، وہ ان کے پاس رہی یہاں تک کہ بوڑھی ہو گئی تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے اس کی موجودگی میں ایک نوجوان لڑکی سے شادی کر لی ، پھر ( ازدواجی تعلقات میں ) اس نوجوان لڑکی کو ( بڑھیا ) پر ترجیح دی تو اس نے قسم دے کر ان سے طلاق مانگ لی ، چنانچہ انھوں نے اسے ایک طلاق دے دی ، پھر اسے مہلت دی یہاں تک کہ جب وہ قریب تھی کہ وہ ( عدت پوری ہونے کے بعد اوروں کے لیے ) حلال ہو تو انھوں نے اس سے رجوع کر لیا ، پھر انھوں نے دوبارہ وہی کیا اور نوجوان لڑکی کو اس پر ترجیح دی تو اس نے پھر قسم دے کر ان سے طلاق کا مطالبہ کر لیا ، چنانچہ انھوں نے اسے ایک اور طلاق دے دی ، پھر اس سے رجوع کر لیا ، پھر دوبارہ وہی کچھ کیا اور جوان لڑکی کو اس پر ترجیح دی تو اس نے پھر قسم دے کر ان سے طلاق مانگ لی ۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : جیسے تو چاہے ( میں ویسے ہی کر دوں گا لیکن یاد رکھو کہ ) بلاشبہ اب صرف ایک طلاق ہی باقی بچی ہے ، لہٰذا اگر تو چاہے تو ( میرے پاس میرے نکاح میں ) برقرار رہ لے ، باوجود اس ترجیح کے جو تو دیکھ رہی ہے ، اور اگر تو چاہتی ہے تو میں تجھے چھوڑ دیتا ہوں ، ( پھر یہ نہ کہنا کہ ایک بڑھیا کو بے سہارا کر دیا ) وہ کہنے لگی کہ ( ٹھیک ہے ، طلاق نہ دو ) بلکہ میں اس ترجیح کے باوجود ( تمھارے پاس ) برقرار رہتی ہوں ، چنانچہ انھوں نے اسے اس ( شرط اور ترجیح ) پر اپنے پاس روک لیا اور حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر کوئی گناہ بھی نہ سمجھا جس وقت کہ وہ خود ہی ترجیح برداشت کر کے ان کے پاس ٹھہر گئی ۔