Muwatta Imam Malik #1106
[1106] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ وَابْنَتِہَا مِنْ مِلْکِ الْیَمِینِ، تُوطَأُ إِحْدَاہُمَا بَعْدَ الأُخْرَی ؟ فَقَالَ عُمَرُ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَخْبُرَہُمَا جَمِیعاً۔ وَنَہَی عَنْ ذَلِکَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عورت اور اس کی بیٹی کے متعلق سوال کیا گیا جو کسی کی ملکیت میں ہوں ، ان سے یکے بعد دیگرے مباشرت کی جاتی ہو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ان دونوں کو ( ایک ہی شخص کے لیے ) اکٹھے جائز قرار دوں اور انھوں نے اس سے منع کر دیا ۔