Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 330

نکاح کے مسائل کی کتاب

اس شخص کا بیان جو کسی ایسی لونڈی کا مالک بن جائے جو پہلے اس کے نکاح میں تھی اور وہ اسے چھوڑ چکا تھا

3 hadiths in this chapter

1103

Muwatta Imam Malik #1103

Sahih

[1103] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ, عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ الأَمَۃَ ثَلاَثاً، ثُمَّ یَشْتَرِیہَا : إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک وہ اس شخص کے متعلق فرمایا کرتے تھے جو لونڈی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے ، پھر اسے خرید لیتا ہے ، ( وہ فرماتے ہیں کہ ) بلاشبہ وہ لونڈی اس ( مالک ) کے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے شادی کر لے ۔

1104

Muwatta Imam Malik #1104

Zaeef

[1104] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ، سُئِلاَ عَنْ رَجُلٍ زَوَّجَ عَبْداً لَہُ جَارِیَۃً لَہُ، فَطَلَّقَہَا الْعَبْدُ الْبَتَّۃَ، ثُمَّ وَہَبَہَا سَیِّدُہَا لَہُ، ہَلْ تَحِلُّ لَہُ بِمِلْکِ الْیَمِینِ ؟ فَقَالاَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے غلام کی شادی اپنی لونڈی سے کر دے ، پھر وہ غلام اسے تین طلاقیں دے دے ، پھر مالک اس غلام کو وہ لونڈی ہبہ کر دے تو کیا وہ لونڈی اس غلام کی ملکیت میں آ جانے کی بنا پر اس کے لیے جائز ہو گی ؟ تو دونوں نے فرمایا کہ نہیں ( وہ جائز نہیں ہو گی ) یہاں تک کہ وہ اس ( تین طلاقیں دینے والے خاوند ) کے علاوہ کسی اور خاوند کے ساتھ شادی کر لے ۔

1105

Muwatta Imam Malik #1105

Sahih

[1105] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : أَ نَّہُ سَأَلَ ابْنَ شِہَابٍ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَہُ أَمَۃٌ مَمْلُوکَۃٌ، فَاشْتَرَاہَا وَقَدْ کَانَ طَلَّقَہَا وَاحِدَۃً، فَقَالَ : تَحِلُّ لَہُ بِمِلْکِ یَمِینِہِ، مَا لَمْ یَبُتَّ طَلَاقَہَا، فَإِنْ بَتَّ طَلَاقَہَا، فَلاَ تَحِلُّ لَہُ بِمِلْکِ یَمِینِہِ، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق سوال کیا جس کے نکاح میں لونڈی تھی جو کسی اور شخص کی ملکیت میں تھی ، پھر اس ( خاوند ) نے اُسے خرید لیا اور وہ اسے ایک طلاق دے چکا تھا ، تو ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ لونڈی اس کی ملکیت میں آ جانے کی وجہ سے اس کے لیے حلال ہو گی جب تک کہ وہ اسے تین طلاقیں نہ دے چکا ہو ، چنانچہ اگر وہ اسے تین طلاقیں دے دے تو پھر وہ اس کی ملکیت کے باوجود اس کے لیے حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے شادی کر لے ۔