Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 328

نکاح کے مسائل کی کتاب

متفرق قسم کے ناجائز نکاحوں کا بیان

4 hadiths in this chapter

1097

Muwatta Imam Malik #1097

Sahih

[1097] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ : أَنْ یُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَہُ، عَلَی أَنْ یُزَوِّجَہُ الآخَرُ ابْنَتَہُ، لَیْسَ بَیْنَہُمَا صَدَاقٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ’’ شغار ‘‘ ( وٹہ سٹہ ) کے نکاح سے منع فرمایا ہے اور ’’ شغار ‘‘ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی ( دوسرے شخص سے ) اس شرط پر کرے کہ وہ دوسرا شخص اس کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کرے گا ، اور ان دونوں کے درمیان ( اس کے سوا کچھ اور ) حق مہر بھی نہ ہو ۔

1098

Muwatta Imam Malik #1098

Sahih

[1098] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَیْ یَزِیدَ بْنِ جَارِیَۃَ الْأَنْصَاری، عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِدَامٍ الْأَنْصَارِیَّۃِ: أَنَّ أَبَاہَا زَوَّجَہَا وَہِیَ ثَیِّبٌ، فَکَرِہَتْ ذَلِکَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ، فَرَدَّ نِکَاحَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت خنساء بنت خذام ( یا خدام ) انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ، اس حال میں کہ وہ بیوہ تھیں اور انھیں یہ شادی پسند نہ تھی ، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ نے اس ( والد ) کے ( کیے ہوئے ) نکاح کو مسترد کر دیا ۔

1099

Muwatta Imam Malik #1099

Zaeef

[1099] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِیَ بِنِکَاحٍ، لَمْ یَشْہَدْ عَلَیْہِ إِلاَّ رَجُلٌ وَامْرَأَۃٌ، فَقَالَ : ہَذَا نِکَاحُ السِّرِّ وَلاَ أُجِیزُہُ، وَلَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِیہِ لَرَجَمْتُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوزبیر مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا نکاح ( کا معاملہ ) لایا گیا جس پر ایک مرد اور ایک عورت کے سوا کوئی بھی گواہ نہ تھا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ چوری چھپے کا نکاح ہے اور میں اسے جائز نہیں قرار دیتا اور اگر میں اس کے متعلق کوئی حکم صادر کر چکا ہوتا تو ( ایسا نکاح کرنے والوں کو ) رجم کر دیتا ۔

1100

Muwatta Imam Malik #1100

Sahih

[1100] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَعَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ طُلَیْحَۃَ الأَسَدِیَّۃَ، کَانَتْ تَحْتَ رُشَیْدٍ الثَّقَفِی فَطَلَّقَہَا، فَنَکَحَتْ فِی عِدَّتِہَا، فَضَرَبَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَضَرَبَ زَوْجَہَا بِالْمِخْفَقَۃِ ضَرَبَاتٍ, وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَکَحَتْ فِی عِدَّتِہَا، فَإِنْ کَانَ زَوْجُہَا الَّذِی تَزَوَّجَہَا لَمْ یَدْخُلْ بِہَا، فُرِّقَ بَیْنَہُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنْ زَوْجِہَا الأَوَّلِ، ثُمَّ کَانَ الآخَرُ خَاطِباً مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا، فُرِّقَ بَیْنَہُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِیَّۃَ عِدَّتِہَا مِنَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الآخَرِ، ثُمَّ لاَ یَجْتَمِعَانِ أَبَداً۔ قَالَ مَالِکٌ : وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : وَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( عشرہ مبشرہ میں سے ایک حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ) طلیحہ اسدیہ رضی اللہ عنہا رُشید ثقفی رحمہ اللہ کے نکاح میں تھیں ، اس نے انھیں طلاق دے دی تو انھوں نے اپنی عدت کے دوران ہی شادی کر لی ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو ( طلیحہ رضی اللہ عنہا کو ) اور ان کے ( نئے ) خاوند کو بھی چند دُرّے ( کوڑے ) لگا کر مارا اور دونوں کو الگ الگ کر دیا ، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے جو کوئی عورت اپنی عدت میں نکاح کر لے تو جس خاوند سے اس نے شادی کی ہے اگر اس نے اس سے مباشرت نہ کی ہو تو دونوں کو الگ الگ کر دیا جائے گا ، پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی باقی ماندہ عدت گزارے ، پھر دوسرا خاوند ( اُسے ) نکاح کا پیغام بھیجنے والوں میں سے ایک پیغام نکاح بھیجنے والا شمار ہو گا ، اور اگر وہ دوسرا خاوند اس سے مباشرت کر چکا ہو تو بھی دونوں کو جدا جدا کر دیا جائے گا ، پھر وہ پہلے خاوند کی عدت گزارے گی اس کے بعد اس دوسرے خاوند کی عدت گزارے گی ، پھر وہ کبھی بھی اکٹھے نہ ہو سکیں گے ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ( یہ بھی ) فرمایا تھا : اس عورت کو ( دوسرے خاوند کی جانب سے ) حق مہر ملے گا اس وجہ سے کہ اس دوسرے خاوند نے اس کی شرم گاہ کو حلال کر لیا تھا ۔