Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 327

نکاح کے مسائل کی کتاب

آدمی کے اپنی ساس کے ساتھ نکاح کے ناجائز ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1095

Muwatta Imam Malik #1095

Zaeef

[1095] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سُئِلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً، ثُمَّ فَارَقَہَا قَبْلَ أَنْ یُصِیبَہَا، ہَلْ تَحِلُّ لَہُ أُمُّہَا ؟ فَقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : لاَ، الأُمُّ مُبْہَمَۃٌ، لَیْسَ فِیہَا شَرْطٌ، وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِی الرَّبَائِبِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے ہی اُسے چھوڑ دیا تو کیا اس آدمی کے لیے اس عورت کی ماں ( اپنی ساس ) حلال ہے ؟ تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں ( کیونکہ قرآن مجید کی آیت میں بیوی کی ) ماں مبہم ( رکھی گئی ) ہے ( یعنی ) اس ( کے حرام ہونے ) میں کوئی ( قید اور ) شرط نہیں لگائی گئی ( لہٰذا کسی عورت کے ساتھ نکاح ہوتے ہی اس کی ماں یعنی خاوند کی ساس اس پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے خواہ دخول ہوا ہو یا نہ ) اور بلاشبہ ( دخول اور مباشرت کی ) شرط تو ربائب یعنی سوتیلی بیٹیوں میں ہے ۔

1096

Muwatta Imam Malik #1096

Zaeef

[1096] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ اسْتُفْتِیَ وَہُوَ بِالْکُوفَۃِ، عَنْ نِکَاحِ الأُمِّ بَعْدَ الاِبْنَۃِ، إِذَا لَمْ تَکُنْ الاِبْنَۃُ مُسَّتْ، فَأَرْخَصَ فِی ذَلِکَ، ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ، فَأُخْبِرَ أَ نَّہُ لَیْسَ کَمَا قَالَ، وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِی الرَّبَائِبِ، فَرَجَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَی الْکُوفَۃِ، فَلَمْ یَصِلْ إِلَی مَنْزِلِہِ، حَتَّی أَتَی الرَّجُلَ الَّذِی أَفْتَاہُ بِذَلِکَ، فَأَمَرَہُ أَنْ یُفَارِقَ امْرَأَتَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کے کئی ایک شیوخ سے روایت ہے کہ بیشک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس وقت کہ جب وہ کوفہ میں تھے ، بیٹی ( کو طلاق دینے ) کے بعد ( اس کی ) ماں کے ساتھ نکاح کرنے کے متعلق فتویٰ پوچھا گیا ، جبکہ ( اس کی ) بیٹی کے ساتھ جماع نہ کیا گیا ہو تو انھوں نے اس میں رخصت دے دی ، پھر یقیناً حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے اور انھوں نے اس مسئلے کے بارے میں ( دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ) پوچھا تو انھیں یہ خبر دی گئی کہ بلاشبہ یہ معاملہ اس طرح نہیں ہے کہ جس طرح انھوں نے ( اپنے کوفے والے فتوی میں ) کہا ہے ۔ یقیناً ( جماع والی ) شرط تو صرف اور صرف ربائب ( سوتیلی بیٹیوں ) کے بارے میں ہے ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف واپس پلٹے تو اپنے گھر نہ گئے یہاں تک کہ ( سیدھے ) اس شخص کے پاس آئے جسے انھوں نے فتوی دیا تھا ، پھر انھوں نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے ( کیونکہ یہ اس کی پہلی بیوی کی ماں ہے جو اس پر اسی وقت حرام ہو گئی تھی جب وہ اس کی ساس بنی تھی ) ۔