Muwatta Imam Malik #1095
[1095] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : سُئِلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً، ثُمَّ فَارَقَہَا قَبْلَ أَنْ یُصِیبَہَا، ہَلْ تَحِلُّ لَہُ أُمُّہَا ؟ فَقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : لاَ، الأُمُّ مُبْہَمَۃٌ، لَیْسَ فِیہَا شَرْطٌ، وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِی الرَّبَائِبِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے ہی اُسے چھوڑ دیا تو کیا اس آدمی کے لیے اس عورت کی ماں ( اپنی ساس ) حلال ہے ؟ تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں ( کیونکہ قرآن مجید کی آیت میں بیوی کی ) ماں مبہم ( رکھی گئی ) ہے ( یعنی ) اس ( کے حرام ہونے ) میں کوئی ( قید اور ) شرط نہیں لگائی گئی ( لہٰذا کسی عورت کے ساتھ نکاح ہوتے ہی اس کی ماں یعنی خاوند کی ساس اس پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے خواہ دخول ہوا ہو یا نہ ) اور بلاشبہ ( دخول اور مباشرت کی ) شرط تو ربائب یعنی سوتیلی بیٹیوں میں ہے ۔