Muwatta Imam Malik #1081
[1081] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إنِّی قَدْ وَہَبْتُ نَفْسِی لَکَ، فَقَامَتْ قِیَاماً طَوِیلاً، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ زَوِّجْنِیہَا، إِنْ لَمْ تَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَۃٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تُصْدِقُہَا إِیَّاہُ ؟ فَقَالَ : مَا عِنْدِی إِلاَّ إِزَارِی ہَذَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنْ أَعْطَیْتَہَا إِیَّاہُ، جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَکَ، فَالْتَمِسْ شَیْئاً فَقَالَ : مَا أَجِدُ شَیْئاً۔ قَالَ : الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَماً مِنْ حَدِیدٍ فَالْتَمَسَ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئاً، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلْ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْئٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ مَعِی سُورَۃُ کَذَا وَسُورَۃُ کَذَا۔ لِسُوَرٍ سَمَّاہَا، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : قَدْ أَنْکَحْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ میں نے خود کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ، پھر وہ کافی دیر تک کھڑی رہی ۔ ( آپ ﷺ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا پھر سر مبارک جھکا لیا ، جب عورت نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ) تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو اس کی حاجت نہیں ہے تو مجھ سے اس کی شادی کر دیجیے ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے جو تو اسے حق مہر میں دے سکے ؟‘‘ وہ عرض کرنے لگا کہ میرے پاس میرے ازار ( تہبند والی چادر ) کے سوا کچھ نہیں ہے ، تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے :’’ اگر تو نے اسے ازار دے دیا تو توُ اس حال میں بیٹھا رہے گا کہ تیرے پاس کوئی تہبند بھی نہ ہو گا ( اور اگر تو ہی اسے پہنے رکھے گا تو اسے اس میں سے کچھ نہ ملے گا ) لہٰذا ( اپنے گھر جاؤ اور ) کوئی ( اور ) چیز تلاش کرو ۔‘‘ ( وہ گیا ، پھر واپس آ کر ) اس نے کہا کہ میں کچھ بھی نہیں پا رہا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ( ڈھونڈ لو ) ۔‘‘ ( وہ گھر گیا ) پھر اس نے تلاش کیا ( پھر آ کر کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! ) اسے کچھ نہیں ملا ، ( پھر وہ بیٹھ گیا ، جب کافی دیر بیٹھا رہا تو کھڑا ہوا اور منہ پھیر کر جانے لگا ، آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے بلا لیا گیا ، ) پھر رسول اللہ ﷺ نے اُسے فرمایا :’’ کیا تمھارے پاس قرآن مجید میں سے کچھ ہے ؟‘‘ ( تمھیں کوئی سورتیں یاد ہیں ؟ ) اس نے عرض کیا کہ جی ہاں ، فلاں سورت اور فلاں سورت ( یاد ہے ) اس نے کئی سورتوں کا نام لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں نے اس کے ساتھ تمھارا نکاح کر دیا ہے اُس قرآن کے عوض جو تمھارے پاس ہے ۔‘‘