Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 321

نکاح کے مسائل کی کتاب

حق مہر اور تحفے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1081

Muwatta Imam Malik #1081

Sahih

[1081] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إنِّی قَدْ وَہَبْتُ نَفْسِی لَکَ، فَقَامَتْ قِیَاماً طَوِیلاً، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ زَوِّجْنِیہَا، إِنْ لَمْ تَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَۃٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تُصْدِقُہَا إِیَّاہُ ؟ فَقَالَ : مَا عِنْدِی إِلاَّ إِزَارِی ہَذَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنْ أَعْطَیْتَہَا إِیَّاہُ، جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَکَ، فَالْتَمِسْ شَیْئاً فَقَالَ : مَا أَجِدُ شَیْئاً۔ قَالَ : الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَماً مِنْ حَدِیدٍ فَالْتَمَسَ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئاً، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلْ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْئٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ مَعِی سُورَۃُ کَذَا وَسُورَۃُ کَذَا۔ لِسُوَرٍ سَمَّاہَا، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : قَدْ أَنْکَحْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ میں نے خود کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ، پھر وہ کافی دیر تک کھڑی رہی ۔ ( آپ ﷺ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا پھر سر مبارک جھکا لیا ، جب عورت نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ) تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو اس کی حاجت نہیں ہے تو مجھ سے اس کی شادی کر دیجیے ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے جو تو اسے حق مہر میں دے سکے ؟‘‘ وہ عرض کرنے لگا کہ میرے پاس میرے ازار ( تہبند والی چادر ) کے سوا کچھ نہیں ہے ، تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے :’’ اگر تو نے اسے ازار دے دیا تو توُ اس حال میں بیٹھا رہے گا کہ تیرے پاس کوئی تہبند بھی نہ ہو گا ( اور اگر تو ہی اسے پہنے رکھے گا تو اسے اس میں سے کچھ نہ ملے گا ) لہٰذا ( اپنے گھر جاؤ اور ) کوئی ( اور ) چیز تلاش کرو ۔‘‘ ( وہ گیا ، پھر واپس آ کر ) اس نے کہا کہ میں کچھ بھی نہیں پا رہا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ( ڈھونڈ لو ) ۔‘‘ ( وہ گھر گیا ) پھر اس نے تلاش کیا ( پھر آ کر کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ! ) اسے کچھ نہیں ملا ، ( پھر وہ بیٹھ گیا ، جب کافی دیر بیٹھا رہا تو کھڑا ہوا اور منہ پھیر کر جانے لگا ، آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے بلا لیا گیا ، ) پھر رسول اللہ ﷺ نے اُسے فرمایا :’’ کیا تمھارے پاس قرآن مجید میں سے کچھ ہے ؟‘‘ ( تمھیں کوئی سورتیں یاد ہیں ؟ ) اس نے عرض کیا کہ جی ہاں ، فلاں سورت اور فلاں سورت ( یاد ہے ) اس نے کئی سورتوں کا نام لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں نے اس کے ساتھ تمھارا نکاح کر دیا ہے اُس قرآن کے عوض جو تمھارے پاس ہے ۔‘‘

1082

Muwatta Imam Malik #1082

Sahih

[1082] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَیُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً، وَبِہَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ، فَمَسَّہَا، فَلَہَا صَدَاقُہَا کَامِلاً، وَذَلِکَ لِزَوْجِہَا غُرْمٌ عَلَی وَلِیِّہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو کوئی مرد کسی ایسی عورت سے شادی کرے جس کو جنون ( دماغی خلل ) ، کوڑھ یا پھلبہری ( جیسا کوئی مرض لاحق ) ہو ، پھر وہ اس عورت سے مباشرت کر لے تو اس عورت کے لیے اس کا مکمل حق مہر ( واجب الادا ) ہو گا اور ( لیکن ) یہ ( حق مہر ) خاوند کے حق میں عورت کے ولی پر تاوان ہو گا ۔

1083

Muwatta Imam Malik #1083

Sahih

[1083] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَۃَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَأُمُّہَا بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، کَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا، وَلَمْ یُسَمِّ لَہَا صَدَاقاً، فَابْتَغَتْ أُمُّہَا صَدَاقَہَا، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ، وَلَوْ کَانَ لَہَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِکْہُ وَلَمْ نَظْلِمْہَا۔ فَأَبَتْ أُمُّہَا أَنْ تَقْبَلَ ذَلِکَ، فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَضَی أَنْ لاَ صَدَاقَ لَہَا وَلَہَا الْمِیرَاثُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لخت جگر ) عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی - جس کی والدہ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بھائی ) حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں ( عبیداللہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہ دونوں بھائی ہیں اور انھوں نے اپنے بیٹے بیٹی کو رشتہ ازدواج میں جوڑ دیا تھا ) پھر وہ ( خاوند ) اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے نہ تو عورت سے مباشرت کی تھی اور نہ ہی اس کے لیے حق مہر متعین کیا تھا ، اس لڑکی کی ماں نے حق مہر کا مطالبہ کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اس کے لیے کوئی حق مہر نہیں ہے اور اگر ( شریعت میں ) اس کا حق مہر ( لازم ) ہوتا تو ہم اسے نہ روکتے اور نہ اس پر ظلم کرتے ، اس لڑکی کی ماں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، تو ( خاندان والے ) لوگوں نے ان کے درمیان حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ( حَکَم اور فیصل ) مقرر کیا ، سو انھوں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ اس لڑکی کے لیے کوئی حق مہر نہیں ہے ( کیونکہ اس کی شرم گاہ حلال نہیں ہوئی تھی ) اور اس کے لیے وراثت ( میں سے حصہ ) ہے ( کیونکہ وہ لڑکے کی موت کے وقت اس کی بیوی تھی ) ۔

1084

Muwatta Imam Malik #1084

Zaeef

[1084] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ فِی خِلَافَتِہِ إِلَی بَعْضِ عُمَّالِہِ : أَنَّ کُلَّ مَا اشْتَرَطَ الْمُنْکِحُ، مَنْ کَانَ أَباً أَوْ غَیْرَہُ، مِنْ حِبَائٍ أَوْ کَرَامَۃٍ فَہُوَ لِلْمَرْأَۃِ إِنِ ابْتَغَتْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے دوران اپنے عُمّال ( حکومتی عہدیداروں ) میں سے کسی کی طرف لکھا کہ یقیناً ہر وہ تحفہ ( ہدیہ ، عطیہ ) یا تکریم ( پر دلالت کرنے والا کوئی گفٹ ) جس کی شرط نکاح کرنے والے نے لگائی ہو ( اور خاوند سے اس نکاح کے انعقاد میں اس کا مطالبہ کر رکھا ہو ) خواہ وہ ( نکاح کرنے والا ولی ) باپ ہو یا کوئی اور تو وہ ( تحفہ و تکریم میں ملنے والا مال ) عورت کو ملے گا اگر وہ اس کا مطالبہ کر دے ۔