Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 320

نکاح کے مسائل کی کتاب

کنواری اور بیوہ عورتوں سے اجازت لینے کا بیان

4 hadiths in this chapter

1077

Muwatta Imam Malik #1077

Sahih

[1077] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:الْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِی نَفْسِہَا، وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شوہر دیدہ عورت اپنے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری عورت سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہی ہے ۔

1078

Muwatta Imam Malik #1078

Sahih

[1078] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ إِلاِّ بِإِذْنِ وَلِیِّہَا، أَوْ ذِی الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا، أَوِ السُّلْطَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عورت کا نکاح نہ کیا جائے مگر اس کے ولی کی اجازت کے ساتھ یا اس کے گھر والوں ( خاندان ) میں سے کسی صاحبِ رائے ( ذی شعور اور عقلمند شخص ) یا حاکم ( کی اجازت کے ساتھ ) ۔

1079

Muwatta Imam Malik #1079

Zaeef

[1079] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، کَانَا یُنْکِحَانِ بَنَاتِہِمَا الْأَبْکَارَ وَلاَ یَسْتَأْمِرَانِہِنَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر دیتے تھے اور ان سے مشورہ نہیں لیتے تھے ۔

1080

Muwatta Imam Malik #1080

Zaeef

[1080] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ، کَانُوا یَقُولُونَ فِی الْبِکْرِ یُزَوِّجُہَا أَبُوہَا بِغَیْرِ إِذْنِہَا : إِنَّ ذَلِکَ لاَزِمٌ لَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ قاسم بن محمد رحمہ اللہ ، سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ ( جیسے فقہائے مدینہ ) اس کنواری لڑکی جس کا باپ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کر دے ، کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ بے شک وہ نکاح اس لڑکی پر لازم ہے ۔