Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 27 · Chapter 319

نکاح کے مسائل کی کتاب

پیغامِ نکاح کا بیان

3 hadiths in this chapter

1074

Muwatta Imam Malik #1074

Sahih

[1074] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ،عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لاَ یَخْطُبُ أَحَدُکُمْ عَلَی خِطْبَۃِ أَخِیہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر ( اپنے لیے ) نکاح کا پیغام نہ بھیجے ۔

1075

Muwatta Imam Malik #1075

Sahih

[1075] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لاَ یَخْطُبُ أَحَدُکُمْ عَلَی خِطْبَۃِ أَخِیہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر ( اپنے لیے منگنی اور ) نکاح کا پیغام نہ بھیجے ۔‘‘

1076

Muwatta Imam Malik #1076

Sahih

[1076] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی قَوْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ أَوْ أَکْنَنْتُمْ فِی أَنْفُسِکُمْ عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ سَتَذْکُرُونَہُنَّ وَلَکِنْ لاَ تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا إِلاَّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفاً} [البقرۃ : 235] أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَۃِ وَہِیَ فِی عِدَّتِہَا مِنْ وَفَاۃِ زَوْجِہَا : إِنَّکِ عَلَیَّ لَکَرِیمَۃٌ، وَإِنِّی فِیکِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللّٰہَ لَسَائِقٌ إِلَیْکِ خَیْراً وَرِزْقاً، وَنَحْوَ ہَذَا مِنَ الْقَوْلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان : { وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَائِ أَوْ أَکْنَنْتُمْ فِی أَنْفُسِکُمْ …} ’’ اور اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ( عورتوں کی عدت کے دوران میں ) انھیں اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو یا تم اپنا ارادہ اپنے دلوں میں چھپائے رکھو ۔‘‘ ( قاسم بن محمد رحمہ اللہ اس کی تفسیر ) میں کہا کرتے تھے کہ آدمی اس عورت سے جو اپنے خاوند کی وفات کی عدت میں ہو ، یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’ بے شک تم مجھ پر ( یعنی میرے نزدیک ) یقیناً بہت عزت والی ہو ۔‘‘ یا ’’ یقیناً میں تم میں رغبت رکھتا ہوں ۔‘‘ یا ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمھاری طرف خیر اور رزق پہنچانے والا ہے ۔‘‘ اور اسی طرح کے دوسرے اقوال ( کہہ سکتا ہے ) ۔