Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 24 · Chapter 308

شکار کے مسائل کی کتاب

سمندر کے شکار کا بیان

4 hadiths in this chapter

1044

Muwatta Imam Malik #1044

Sahih

[1044] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أبِی ہُرَیْرَۃَ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ، فَنَہَاہُ عَنْ أَکْلِہِ۔ قَالَ نَافِعٌ : ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللّٰہِ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ : {أُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ} [المائدۃ : 96] قَالَ نَافِعٌ : فَأَرْسَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی ہُرَیْرَۃَ : إِنَّہُ لاَ بَأْسَ بِأَکْلِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً عبدالرحمن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس جانور کے بارے میں پوچھا جسے سمندر باہر پھینک دے تو انھوں نے اُسے اس کے کھانے سے روک دیا ، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس ( گھر ) پلٹے اور قرآن مجید منگوایا ، پھر اس میں یہ پڑھا : { أُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ } ( المائدۃ : 96 ) ’’ تمھارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے ‘‘ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ( یہ پیغام اور فتوی دے کر ) بھیجا کہ بلاشبہ اس ( سمندر کے باہر پھینکے ہوئے جانور ) کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ( کیونکہ وہی تو سمندر کا طعام ہے ) ۔

1045

Muwatta Imam Malik #1045

Sahih

[1045] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِیِّ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَ نَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْحِیتَانِ یَقْتُلُ بَعْضُہَا بَعْضاً، أَوْ تَمُوتُ صَرَداً ؟ فَقَالَ : لَیْسَ بِہَا بَأْسٌ۔ قَالَ سَعْدٌ : ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعد جاری رحمہ اللہ جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ، سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ان مچھلیوں کے متعلق سوال کیا جو ایک دوسری کو مار ڈالتی ہیں یا سخت سردی سے مر جاتی ہیں تو انھوں نے فرمایاکہ ان ( کے کھانے ) میں کوئی حرج نہیں ہے ، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی ( یہ مسئلہ ) پوچھا تو انھوں نے بھی اسی جیسا جواب دیا ۔

1046

Muwatta Imam Malik #1046

Sahih

[1046] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ وَزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَ نَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بِمَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْساً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں ( سمندر کے ) اس ( جانور کے کھانے ) میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے جسے سمندر نے ( باہر ) پھینک دیا ہو ۔

1047

Muwatta Imam Malik #1047

Sahih

[1047] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ نَاساً مِنْ أَہْلِ الْجَارِ قَدِمُوا، فَسَأَلُوا مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ، فَقَالَ : لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ، وَقَالَ : اذْہَبُوا إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأبِی ہُرَیْرَۃَ فَاسْأَلُوہُمَا عَنْ ذَلِکَ، ثُمَّ ائْتُونِی فَأَخْبِرُونِی مَاذَا یَقُولاَنِ، فَأَتَوْہُمَا فَسَأَلُوہُمَا، فَقَالاَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔ فَأَتَوْا مَرْوَانَ فَأَخْبَرُوہُ۔ فَقَالَ مَرْوَانُ : قَدْ قُلْتُ لَکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ( مدینہ منورہ کے قریب سمندر کی جانب آباد ) ’’ جار ‘‘ علاقے والوں میں سے کچھ لوگ مروان بن حکم کے پاس آئے ( جو اس وقت حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے مدینہ منورہ کے گورنر تھے ) اُن لوگوں نے اُن سے اس ( مردہ ) جانور کے بارے میں پوچھا جسے سمندر باہر پھینک دے تو مروان رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور کہا کہ تم حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے ( یہی مسئلہ ) پوچھو ، پھر میرے پاس آ کر مجھے بھی بتانا کہ وہ دونوں کیا کہتے ہیں ، چنانچہ وہ لوگ ان دونوں کے پاس گئے اور ان سے سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، پھر وہ مروان رحمہ اللہ کے پاس آئے اور انھیں ( اس کی ) خبر دی تو مروان رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے ( بھی تو ) تم سے ( یہی کچھ ) کہہ دیا تھا ۔