Muwatta Imam Malik #1044
[1044] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أبِی ہُرَیْرَۃَ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ، فَنَہَاہُ عَنْ أَکْلِہِ۔ قَالَ نَافِعٌ : ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللّٰہِ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ : {أُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ} [المائدۃ : 96] قَالَ نَافِعٌ : فَأَرْسَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی ہُرَیْرَۃَ : إِنَّہُ لاَ بَأْسَ بِأَکْلِہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً عبدالرحمن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس جانور کے بارے میں پوچھا جسے سمندر باہر پھینک دے تو انھوں نے اُسے اس کے کھانے سے روک دیا ، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس ( گھر ) پلٹے اور قرآن مجید منگوایا ، پھر اس میں یہ پڑھا : { أُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ } ( المائدۃ : 96 ) ’’ تمھارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے ‘‘ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عبدالرحمن بن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ( یہ پیغام اور فتوی دے کر ) بھیجا کہ بلاشبہ اس ( سمندر کے باہر پھینکے ہوئے جانور ) کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ( کیونکہ وہی تو سمندر کا طعام ہے ) ۔