Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 22 · Chapter 300

نذروں ( قسموں ) کے مسائل کی کتاب

قسموں کے کفارے ( کی ادائیگی ) کے طریقے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1021

Muwatta Imam Malik #1021

Sahih

[1021] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَوَکَّدَہَا، ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃٍ، أَوْ کِسْوَۃُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ، وَمَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَلَمْ یُؤَکِّدْہَا، ثُمَّ حَنِثَ، فَعَلَیْہِ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ، لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے کوئی قسم کھائی اور اس میں تاکید پیدا کی ( یعنی اُسے دو تین بار کہا ) پھر اُسے توڑ دیا تو اس پر ایک گردن آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا لازم ہے اور جس کسی نے قسم کھائی لیکن اس میں تاکید پیدا نہ کی پھر اسے توڑ ڈالا تو اس پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا لازم ہے ، ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک ایک مُدّ ( 525 گرام لازم ) ہے پھر جو شخص ( ان مذکورہ کفاروں میں سے کسی کی طاقت ) نہ پائے تو ( اس پر ) تین دن کے روزے ( لازم ) ہیں ۔

1022

Muwatta Imam Malik #1022

Sahih

[1022] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَدْرَکْتُ النَّاسَ وَہُمْ إِذَا أَعْطَوْا فِی کَفَّارَۃِ الْیَمِینِ أَعْطَوْا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ، بِالْمُدِّ الأَصْغَرِ، وَرَأَوْا ذَلِکَ مُجْزِئاً عَنْہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو اس حال میں پایا کہ جب وہ قسم کا کفارہ دیتے تو چھوٹے مُدّ کے حساب سے گندم کا ایک مُدّ دیتے تھے ، اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ اُن سے کفایت کر جائے گا ۔

1023

Muwatta Imam Malik #1023

Sahih

[1023] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یُکَفِّرُ عَنْ یَمِینِہِ بِإِطْعَامِ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ، لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ، وَکَانَ یَعْتِقُ الْمِرَارَ إِذَا وَکَّدَ الْیَمِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک وہ اپنی قسم ( کو پختہ اور مؤکد نہ کرتے تو اس ) کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا کر دیتے تھے ، ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مُدّ ہوتا تھا ، وہ بہت دفعہ ( کفارے میں غلام ) آزاد بھی کرتے تھے جس وقت کہ انھوں نے قسم میں تاکید کی ہوتی تھی ۔