Muwatta Imam Malik #1021
[1021] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَوَکَّدَہَا، ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَیْہِ عِتْقُ رَقَبَۃٍ، أَوْ کِسْوَۃُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ، وَمَنْ حَلَفَ بِیَمِینٍ فَلَمْ یُؤَکِّدْہَا، ثُمَّ حَنِثَ، فَعَلَیْہِ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِینَ، لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے کوئی قسم کھائی اور اس میں تاکید پیدا کی ( یعنی اُسے دو تین بار کہا ) پھر اُسے توڑ دیا تو اس پر ایک گردن آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا لازم ہے اور جس کسی نے قسم کھائی لیکن اس میں تاکید پیدا نہ کی پھر اسے توڑ ڈالا تو اس پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا لازم ہے ، ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک ایک مُدّ ( 525 گرام لازم ) ہے پھر جو شخص ( ان مذکورہ کفاروں میں سے کسی کی طاقت ) نہ پائے تو ( اس پر ) تین دن کے روزے ( لازم ) ہیں ۔