Muwatta Imam Malik #1012
[1012] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أُذَیْنَۃَ اللَّیْثِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَدَّۃٍ لِی عَلَیْہَا مَشْیٌ إِلَی بَیْتِ اللّٰہِ، حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ عَجَزَتْ, فَأَرْسَلَتْ مَوْلًی لَہَا یَسْأَلُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، فَخَرَجْتُ مَعَہُ، فَسَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : مُرْہَا فَلْتَرْکَبْ، ثُمَّ لْتَمْشِ مِنْ حَیْثُ عَجَزَتْ۔ قَالَ یَحْیَی : وَسَمِعْتُ مَالِکاً یَقُولُ : وَنَرَی عَلَیْہَا مَعَ ذَلِکَ الْہَدْیَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عروہ بن اُذَیْنہ لَیثی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں اپنی دادی کے ساتھ نکلا ، ان پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنے کی نذر تھی ، یہاں تک کہ جب ہم راستے کے کسی مقام پر تھے کہ وہ چلنے سے عاجز آ گئیں ، تو انھوں نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بھیجا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ( اس کے متعلق ) پوچھے ، چنانچہ میں بھی اس کے ساتھ ہی ( مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ) نکلا ، اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اسے حکم دو ، وہ سوار ہو جائے ، پھر ( آئندہ کبھی موقع ملنے پر ) وہاں سے پیدل چلے جہاں سے عاجز آئی تھی ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : اور ہم اس کے ساتھ ساتھ اس پر ہدی کا جانور بھی ( لازم ) خیال کرتے ہیں ۔