Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 22 · Chapter 295

نذروں ( قسموں ) کے مسائل کی کتاب

اس شخص کا بیان جو بیت اللہ کی طرف پیدل چلنے کی نذر مان لے پھر یہ کام نہ کر سکے

3 hadiths in this chapter

1012

Muwatta Imam Malik #1012

Sahih

[1012] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أُذَیْنَۃَ اللَّیْثِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَدَّۃٍ لِی عَلَیْہَا مَشْیٌ إِلَی بَیْتِ اللّٰہِ، حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ عَجَزَتْ, فَأَرْسَلَتْ مَوْلًی لَہَا یَسْأَلُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، فَخَرَجْتُ مَعَہُ، فَسَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : مُرْہَا فَلْتَرْکَبْ، ثُمَّ لْتَمْشِ مِنْ حَیْثُ عَجَزَتْ۔ قَالَ یَحْیَی : وَسَمِعْتُ مَالِکاً یَقُولُ : وَنَرَی عَلَیْہَا مَعَ ذَلِکَ الْہَدْیَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن اُذَیْنہ لَیثی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں اپنی دادی کے ساتھ نکلا ، ان پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنے کی نذر تھی ، یہاں تک کہ جب ہم راستے کے کسی مقام پر تھے کہ وہ چلنے سے عاجز آ گئیں ، تو انھوں نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو بھیجا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ( اس کے متعلق ) پوچھے ، چنانچہ میں بھی اس کے ساتھ ہی ( مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ) نکلا ، اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اسے حکم دو ، وہ سوار ہو جائے ، پھر ( آئندہ کبھی موقع ملنے پر ) وہاں سے پیدل چلے جہاں سے عاجز آئی تھی ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : اور ہم اس کے ساتھ ساتھ اس پر ہدی کا جانور بھی ( لازم ) خیال کرتے ہیں ۔

1013

Muwatta Imam Malik #1013

Zaeef

[1013] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَأَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَا یَقُولاَنِ : مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے قول ہی کی طرح فرمایا کرتے تھے ۔

1014

Muwatta Imam Malik #1014

Sahih

[1014] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کَانَ عَلَیَّ مَشْیٌ، فَأَصَابَتْنِی خَاصِرَۃٌ، فَرَکِبْتُ حَتَّی أَتَیْتُ مَکَّۃَ، فَسَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ أبِی رَبَاحٍ وَغَیْرَہُ، فَقَالُوا : عَلَیْکَ ہَدْیٌ۔ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ سَأَلْتُ عُلَمَائَہَا، فَأَمَرُونِی أَنْ أَمْشِیَ مَرَّۃً أُخْرَی مِنْ حَیْثُ عَجَزْتُ، فَمَشَیْتُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ مجھ پر ( ایک نذر کے سلسلے میں ) پیدل چلنا لازم تھا ، پس مجھے پہلو کا درد شروع ہو گیا تو میں سوار ہو گیا ، یہاں تک کہ مکہ آ گیا ، پھر میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ علماء سے ( اس بارے میں ) پوچھا تو انھوں نے فرمایا : کہ تم پر ہدی کا جانور لازم ہے ( مزید کچھ نہیں ) ، پھر جب میں مدینہ آیا تو میں نے علمائے مدینہ سے بھی یہ مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں جس جگہ سے عاجز آیا تھا وہاں سے ایک بار پھر پیدل چل کر جاؤں ( اور انھوں نے ہدی کا حکم نہ دیا ) ، چنانچہ میں پھر پیدل چلا ۔