Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 22 · Chapter 294

نذروں ( قسموں ) کے مسائل کی کتاب

پیدل چلنے کی ان نذروں کا بیان جنھیں پورا کرنا واجب ہے

3 hadiths in this chapter

1009

Muwatta Imam Malik #1009

Sahih

[1009] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ اسْتَفْتَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اقْضِہِ عَنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتوی طلب کیا اور عرض کیا کہ بے شک میری والدہ فوت ہو چکی ہیں اور ان پر ایک نذر ( واجب ) تھی جسے انھوں نے پورا نہیں کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے اس کی طرف سے پورا کرو ۔‘‘

1010

Muwatta Imam Malik #1010

Zaeef

[1010] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ عَمَّتِہِ، أَ نَّہَا حَدَّثَتْہُ عَنْ جَدَّتِہِ : أَ نَّہَا کَانَتْ جَعَلَتْ عَلَی نَفْسِہَا مَشْیاً إِلَی مَسْجِدِ قُبَائٍ، فَمَاتَتْ وَلَمْ تَقْضِہِ، فَأَفْتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ ابْنَتَہَا أَنْ تَمْشِیَ عَنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ ( بن محمد بن عمرو بن حزم ) اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے عبداللہ کی دادی جان کے متعلق انھیں بتایا کہ بے شک انھوں نے مسجد قبا کی طرف سے پیدل چل کر جانا اپنے اوپر لازم کر لیا ، پھر وہ فوت ہو گئیں اور اس نذر کو پورا نہ کر سکیں تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس ( دادی ) کی بیٹی ( عبداللہ رحمہ اللہ کی پھوپھی ) کو حکم دیا کہ اس کی طرف سے پیدل چلے ( اور نذر پوری کرے ) ۔

1011

Muwatta Imam Malik #1011

Zaeef

[1011] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی حَبِیبَۃَ قَالَ : قُلْتُ لِرَجُلٍ وَأَنَا حَدِیثُ السِّنِّ مَا عَلَی الرَّجُلِ أَنْ یَقُولَ : عَلَیَّ مَشْیٌ إِلَی بَیْتِ اللّٰہِ، وَلَمْ یَقُلْ عَلَیَّ نَذْرُ مَشْیٍ۔ فَقَالَ لِی رَجُلٌ : ہَلْ لَکَ أَنْ أُعْطِیَکَ ہَذَا الْجِرْوَ - لِجِرْوِ قِثَّائٍ فِی یَدِہِ – وَتَقُولُ : عَلَیَّ مَشْیٌ إِلَی بَیْتِ اللّٰہِ، قَالَ : فَقُلْتُ نَعَمْ، فَقُلْتُہُ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ حَدِیثُ السِّنِّ، ثُمَّ مَکَثْتُ حَتَّی عَقَلْتُ، فَقِیلَ لِی : إِنَّ عَلَیْکَ مَشْیاً، فَجِئْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَ لِی : عَلَیْکَ مَشْیٌ۔ فَمَشَیْتُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی حبیبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے کہا ، اس حال میں کہ میں اس وقت کم عمر تھا ، ( میں نے پوچھا کہ ) آدمی پر اس وقت کیا لازم آتا ہے جب وہ یہ الفاظ بولے : ( عَلَیَّ مَشْیٌ الیٰ بَیْتِ اللّٰہِ ) ( مجھ پر بیت اللہ کی طرف سے پیدل چل کر جانا لازم ہے ) اور وہ یہ الفاظ نہ بولے : ( عَلَیَّ نَذْرُ مَشْیٍ ) ( مجھ پر پیدل چلنے کی نذر ہے ) تو وہ آدمی ( میری کم عمری اور بچگانہ حرص سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ) اپنے ہاتھ میں موجود ایک چھوٹی سی ککڑی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ کیا تم اس بات میں رغبت رکھتے ہو کہ میں تجھے یہ ککڑی دے دوں اور تم یہ الفاظ کہہ دو کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا لازم ہے ؟ عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : ہاں ، چنانچہ میں نے یہ الفاظ کہہ دیے اس حال میں کہ میں اس وقت کم عمر تھا ، پھر میں کچھ عرصہ ٹھہرا رہا یہاں تک کہ صاحب عقل و شعور بن گیا تو مجھ سے کہا گیا کہ یقیناً تم پر پیدل چل کر جانا لازم ہے ، سو میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ( واقعی ) مجھ پر ( بیت اللہ کی طرف ) پیدل چلنا لازم ہے ، چنانچہ میں پیدل چل کر ( وہاں ) گیا ۔