Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 22 · Chapter 296

نذروں ( قسموں ) کے مسائل کی کتاب

اللہ کی نافرمانی والی نذروں کے ناجائز ہونے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1015

Muwatta Imam Malik #1015

Sahih

[1015] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ وَثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ، أَ نَّہُمَا أَخْبَرَاہُ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَأَحَدُہُمَا یَزِیدُ فِی الْحَدِیثِ عَلَی صَاحِبِہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ رَأَی رَجُلاً قَائِماً فِی الشَّمْسِ فَقَالَ : مَا بَالُ ہَذَا ؟ فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ لاَ یَتَکَلَّمَ، وَلاَ یَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَلاَ یَجْلِسَ وَیَصُومَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مُرُوہُ فَلْیَتَکَلَّمْ، وَلْیَسْتَظِلَّ، وَلْیَجْلِسْ، وَلْیُتِمَّ صِیَامَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن قیس رحمہ اللہ اور ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک ، اس حدیث میں دوسرے سے زیادہ الفاظ بیان کرتا ہے ، یقیناً رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑے ہوئے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ ’’ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘ تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مان رکھی ہے کہ نہ تو ( کسی سے ) کلام کرے گا ، نہ ہی سایہ حاصل کرے گا ، نہ بیٹھے گا اور روزہ رکھے گا ۔ تو رسول اللہ نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ گفتگو بھی کرے ، سایہ بھی حاصل کرے اور بیٹھ بھی جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔‘‘

1016

Muwatta Imam Malik #1016

Sahih

[1016] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : أَتَتِ امْرَأَ ۃٌ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ : إنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِی۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لاَ تَنْحَرِی ابْنَکِ، وَکَفِّرِی عَنْ یَمِینِکِ۔ فَقَالَ شَیْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَکَیْفَ یَکُونُ فِی ہَذَا کَفَّارَۃٌ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ اللّٰہَ تَعَالَی قَالَ : {الَّذِینَ یُظَاہِرُونَ مِنْکُمْ مِنْ نِسَائِہِمْ} [المجادلۃ : 2]، ثُمَّ جَعَلَ فِیہِ مِنَ الْکَفَّارَۃِ مَا قَدْ رَأَیْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگی کہ بے شک میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اپنے بیٹے کو قربان کروں گی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو اپنے بیٹے کو نحر ( ذبح ) نہ کر اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود ایک بزرگ کہنے لگے کہ بھلا اس صورت میں کفارہ کیسے پڑے گا ( یہ تو معصیت کی نذر ہے اور وہ تو لغو شمار ہوتی ہے ) تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { الَّذِینَ یُظَاہِرُونَ مِنْکُمْ مِنْ نِسَائِہِمْ } ( المجادلۃ 58 : 2 ) ’’ وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ۔‘‘ ( ظہار کرنا بھی ایک معصیت ہے ) پھر اللہ نے اس میں بھی وہ کفارہ مقرر کیا ہے جو تمھیں معلوم ہی ہے ۔

1017

Muwatta Imam Malik #1017

Sahih

[1017] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأَیْلِیِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصِّدِّیقِ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیعَ اللّٰہَ فَلْیُطِعْہُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَ اللّٰہَ فَلاَ یَعْصِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔‘‘