Muwatta Imam Malik #1015
[1015] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ وَثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ، أَ نَّہُمَا أَخْبَرَاہُ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَأَحَدُہُمَا یَزِیدُ فِی الْحَدِیثِ عَلَی صَاحِبِہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ رَأَی رَجُلاً قَائِماً فِی الشَّمْسِ فَقَالَ : مَا بَالُ ہَذَا ؟ فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ لاَ یَتَکَلَّمَ، وَلاَ یَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَلاَ یَجْلِسَ وَیَصُومَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مُرُوہُ فَلْیَتَکَلَّمْ، وَلْیَسْتَظِلَّ، وَلْیَجْلِسْ، وَلْیُتِمَّ صِیَامَہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حمید بن قیس رحمہ اللہ اور ثور بن زید دیلی رحمہ اللہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک ، اس حدیث میں دوسرے سے زیادہ الفاظ بیان کرتا ہے ، یقیناً رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑے ہوئے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ ’’ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘ تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مان رکھی ہے کہ نہ تو ( کسی سے ) کلام کرے گا ، نہ ہی سایہ حاصل کرے گا ، نہ بیٹھے گا اور روزہ رکھے گا ۔ تو رسول اللہ نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ گفتگو بھی کرے ، سایہ بھی حاصل کرے اور بیٹھ بھی جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔‘‘