Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 21 · Chapter 288

جہاد کی کتاب

اللہ کی راہ میں شہادت پانے والوں کا بیان

7 hadiths in this chapter

985

Muwatta Imam Malik #985

Sahih

[985] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوَدِدْتُ إنِّی أُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْیَا فَأُقْتَلُ فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ ثَلاَثاً : أَشْہَدُ بِاللّٰہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول ﷺ نے فرمایا :’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں لڑوں پھر قتل کر دیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل ( شہید ) کر دیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کر دیا جاؤں ۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( یہ حدیث بیان کر کے ) تین بار فرماتے ہیں : میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فرمایا تھا ۔

986

Muwatta Imam Malik #986

Sahih

[986] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : یَضْحَکُ اللہُ إِلَی رَجُلَیْنِ، یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ، کِلاَہُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ، یُقَاتِلُ ہَذَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللہُ عَلَی الْقَاتِلِ، فَیُقَاتِلُ فَیُسْتَشْہَدُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دو شخصوں پر مسکرائیں گے جن میں سے ایک شخص دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے ( لیکن ) پھر ( بھی ) دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، ( اسی طرح کہ ) یہ ( دوسرا شخص ) اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو ( پہلے شخص کے ہاتھوں ) قتل کر دیا جاتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اس قاتل پر شفقت فرماتے ہیں ( اور اسے توبہ کی توفیق دے کر اسلام کی نعمت عطا کرتے ہیں ) پھر وہ بھی ( راہ الٰہی میں ) لڑتا ہے تو شہید کر دیا جاتا ہے ۔

987

Muwatta Imam Malik #987

Sahih

[987] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لاَ یُکْلَمُ أَحَدٌ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَنْ یُکْلَمُ فِی سَبِیلِہِ، إِلاَّ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجُرْحُہُ یَثْعَبُ دَماً، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّیحُ رِیحُ الْمِسْکِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو کوئی بھی اللہ کی راہ میں زخمی کر دیا جائے - اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے تو ضرور وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم ( تازہ ) خون بہہ رہا ہو گا ، ( اس کا ) رنگ تو خون ہی کا ہو گا لیکن اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی ۔

988

Muwatta Imam Malik #988

Sahih

[988] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَقُولُ : اللّٰہُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَتْلِی بِیَدِ رَجُلٍ صَلَّی لَکَ سَجْدَۃً وَاحِدَۃً، یُحَاجُّنِی بِہَا عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ ( دعائیہ کلمات ) کہا کرتے تھے : اے اللہ ! میرا قتل ایسے آدمی کے ہاتھ سے نہ کرانا جس نے تیرے لیے ایک بھی سجدہ کیا ہو کہ ( پھر ) وہ اس سجدے کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے پاس مجھ سے جھگڑا کرنے لگے ۔

989

Muwatta Imam Malik #989

Sahih

[989] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنْ قُتِلْتُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، صَابِراً مُحْتَسِباً، مُقْبِلاً غَیْرَ مُدْبِرٍ، أَیُکَفِّرُ اللّٰہُ عَنِّی خَطَایَایَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ نَادَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، أَوْ أَمَرَ بِہِ فَنُودِیَ، لَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : کَیْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَ عَلَیْہِ قَوْلَہُ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ : نَعَمْ إِلاَّ الدَّیْنَ، کَذَلِکَ قَالَ لِی جِبْرِیلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد ( حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں اس حال میں کہ ( صبر اور ) ثابت قدمی دکھانے والا ہوں ، ثواب کی امید رکھنے والا ہوں آگے بڑھنے والا ہوں ، پیٹھ پھیرنے والا نہ ہوں تو کیا اللہ تعالیٰ مجھ سے میرے گناہوں کو مٹا دیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘ پھر جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو اسے ( آپ ﷺ نے خود ) آواز دی یا اس کے متعلق ( کسی کو ) حکم فرمایا تو اسے آپ ﷺ کی طرف ( آنے کی ) آواز دی گئی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ( ابھی ابھی سوال کرتے ہوئے ) کیسے کہا تھا ؟‘‘ اُس نے آپ ﷺ کے سامنے اپنی بات دہرا دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘ ، اللہ ـ ( سب گناہ ختم کر دے گا ) سوائے قرض کے ، جبریل علیہ السلام نے ( ابھی ابھی ) مجھ سے ایسے ہی کہا ہے ۔‘‘

990

Muwatta Imam Malik #990

Zaeef

[990] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لِشُہَدَائِ أُحُدٍ : ہَؤُلاَئِ أَشْہَدُ عَلَیْہِمْ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ : أَلَسْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ بِإِخْوَانِہِمْ، أَسْلَمْنَا کَمَا أَسْلَمُوا، وَجَاہَدْنَا کَمَا جَاہَدُوا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَلَی، وَلَکِنْ لاَ أَدْرِی مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِی فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ، ثُمَّ بَکَی، ثُمَّ قَالَ : أَئِنَّا لَکَائِنُونَ بَعْدَکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابونضر رحمہ اللہ ( سالم بن ابی اُمیہ ) جو کہ عمر بن عبیداللہ رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے ، انھیں یہ خبر پہنچی کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا :’’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق میں ( خود ) گواہی دوں گا ۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ہم بھی ان کے بھائی نہیں ہیں ، ہم بھی اسی طرح اسلام لائے جس طرح وہ اسلام لائے اور ہم نے بھی اسی طرح جہاد کیا جس طرح انھوں نے جہاد کیا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ( تم بھی ان کے بھائی ہی ہو ) اور ( لیکن ) میں نہیں جانتا کہ تم میرے بعد کیا کرو گے ؟‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر ( یہ سن کر ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر ( اور ) روئے ، پھر کہنے لگے کہ کیا ہم آپ کے بعد ( زندہ ) رہنے والے ہیں ؟

991

Muwatta Imam Malik #991

Zaeef

[991] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ جَالِساً وَقَبْرٌ یُحْفَرُ بِالْمَدِینَۃِ، فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِی الْقَبْرِ، فَقَالَ : بِئْسَ مَضْجَعُ الْمُؤْمِنِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بِئْسَ مَا قُلْتَ فَقَالَ الرَّجُلُ : إنِّی لَمْ أُرِدْ ہَذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لاَ مِثْلَ لِلْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَا عَلَی الأَرْضِ بُقْعَۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ یَکُونَ قَبْرِی بِہَا مِنْہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور مدینہ منورہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی کہ ( اتنے میں ) ایک شخص نے قبر میں جھانکا ، پھر کہنے لگا کہ مومن کی یہ آرام گاہ بری ہے ، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو نے جو کہا وہ برا ہے ۔ ‘‘ وہ آدمی کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں یہ مراد نہیں لے رہا تھا ، یقیناً میں نے تو صرف اور صرف اللہ کی راہ میں قتل ( کے ساتھ موازنہ ) مراد لیا ہے ( کہ اس کے مقابلے میں عام موت کا درجہ بہت کم ہے ) ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( واقعی ) اللہ کی راہ میں قتل ہونے جیسی چیز کوئی اور نہیں ہے ( لیکن اس کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ میں موت آنے کے حوالے سے یہ بات بھی برحق ہے کہ پوری ) زمین پر کوئی ایسا مقام نہیں ہے کہ جو میرے نزدیک مدینہ سے بڑھ کر زیادہ محبوب ہو ( اس معاملے میں ) کہ میری قبر وہاں ہو ۔‘‘ ( آپ ﷺ نے ) تین بار ( یہی فرمایا کہ مدینہ میں قبر کا ملنا مجھے پوری روئے زمین سے زیادہ محبوب ہے ۔ )