Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 21 · Chapter 287

جہاد کی کتاب

مال غنیمت میں خیانت کا بیان

5 hadiths in this chapter

980

Muwatta Imam Malik #980

Sahih

[980] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ صَدَرَ مِنْ حُنَیْنٍ وَہُوَ یُرِیدُ الْجِعِرَّانَۃَ سَأَلَہُ النَّاسُ حَتَّی دَنَتْ بِہِ نَاقَتُہُ مِنْ شَجَرَۃٍ، فَتَشَبَّکَتْ بِرِدَائِہِ حَتَّی نَزَعَتْہُ عَنْ ظَہْرِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : رُدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی، أَتَخَافُونَ أَنْ لاَ أَقْسِمَ بَیْنَکُمْ مَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ, وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوْ أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِثْلَ سَمُرِ تِہَامَۃَ نَعَماً، لَقَسَمْتُہُ بَیْنَکُمْ، ثُمَّ لاَ تَجِدُونِی بَخِیلاً وَلاَ جَبَاناً وَلاَ کَذَّاباً فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَامَ فِی النَّاسِ فَقَالَ : أَدُّوا الْخِیَاطَ وَالْمِخْیَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ، وَنَارٌ، وَشَنَارٌ عَلَی أَہْلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ : ثُمَّ تَنَاوَلَ مِنَ الأَرْضِ وَبَرَۃً مِنْ بَعِیرٍ أَوْ شَیْئاً، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ, مَا لِی مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ وَلاَ مِثْلَ ہَذِہِ، إِلاَّ الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ جب حنین سے واپس ہوئے اور آپ ﷺ جعرانہ مقام کا قصد فرما رہے تھے تو ( اعرابی ، بدوی ) لوگ آپ ﷺ سے ( مال وغیرہ ) مانگنے لگے ، یہاں تک کہ ( ان کے ہجوم اور رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے ) آپ ﷺ کی اونٹنی آپ ﷺ کو ( ببول یعنی کیکر کے ) ایک درخت کے قریب لے گئی تو وہ ( درخت اپنے کانٹوں کی وجہ سے ) آپ ﷺ کی چادر مبارک سے الجھ گیا ( اور چادر اس کے کانٹوں میں اٹک گئی ) یہاں تک کہ اس ( درخت ) نے آپ ﷺ کی چادر آپ ﷺ کی کمر مبارک سے اتار دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری چادر مجھے لوٹا دو ، کیا تمھیں یہ خطرہ ہے کہ میں اس ( غنیمت کے ) مال کو تم میں تقسیم نہ کروں گا جو اللہ نے تم پر لوٹایا ( اور تمھیں عطا فرمایا ) ہے ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر اللہ تعالیٰ تمھیں تہامہ کے کانٹے دار درختوں کے برابر اونٹ عطا فرما دے تو میں انھیں تم میں تقسیم کر دوں گا ، پھر تم مجھے ( اس کے بعد بھی ) نہ بخیل پاؤ گے ، نہ بزدل اور نہ کذّاب ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ سواری سے نیچے اترے تو لوگوں میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا :’’ ( مال غنیمت کا ) دھاگہ اور سوئی بھی ادا کرو ۔‘‘ کیونکہ بلاشبہ مال غنیمت کی خیانت قیامت کے دن خیانت کرنے والوں پر عار بھی ہو گی ، آگ بھی اور عیب بھی ۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے زمین سے اونٹ یا بکری کا ایک بال پکڑا ، پھر فرمایا :’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اللہ نے تمھیں جو کچھ ( مال غنیمت ) عطا فرمایا ہے ، میرے لیے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور ( حتی کہ ) اس بال کے برابر بھی نہیں ہے ، سوائے خمس ( پانچویں حصے ) کے اور وہ خمس بھی تم ہی میں لوٹا دیا جانے والا ہے ۔‘‘

981

Muwatta Imam Malik #981

Zaeef

[981] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ قَالَ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ یَوْمَ حُنَیْنٍ، وَإِنَّہُمْ ذَکَرُوہُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَزَعَمَ زَیْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ فَتَغَیَّرَتْ وُجُوہُ النَّاسِ لِذَلِکَ، فَزَعَمَ زَیْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِنَّ صَاحِبَکُمْ قَدْ غَلَّ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ قَالَ : فَفَتَحْنَا مَتَاعَہُ، فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ یَہُودَ مَا تُسَاوِینَ دِرْہَمَیْن۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ حنین ( درست ’’ جنگ خیبر ‘‘ ہے ) والے دن ایک آدمی فوت ہو گیا اور لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا ، حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم خود اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھوں گا ) ۔‘‘ یہ سن کر لوگوں کے چہرے ( حیرت و استعجاب اور غم کے مارے ) متغیر ہو گئے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( پھر ) بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً تمھارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ ( جہاد ) میں مال غنیمت میں خیانت کا ارتکاب کیا ہے ۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اس کا سامان کھولا تو اس میں یہودیوں ( سے حاصل شدہ ان ) کے موتیوں میں سے چند موتی تھے جو دود رہموں کے برابر ( قیمت کے ) بھی نہ تھے ۔

982

Muwatta Imam Malik #982

Zaeef

[982] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ أبِی بُرْدَۃَ الْکِنَانِیِّ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَتَی النَّاسَ فِی قَبَائِلِہِمْ یَدْعُو لَہُم, وَأَ نَّہُ تَرَکَ قَبِیلَۃً مِنَ الْقَبَائِلِ، قَالَ : وَإِنَّ الْقَبِیلَۃَ وَجَدُوا فِی بَرْدَعَۃِ رَجُلٍ مِنْہُمْ عِقْدَ جَزْعٍ غُلُولاً، فَأَتَاہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَکَبَّرَ عَلَیْہِمْ، کَمَا یُکَبِّرُ عَلَی الْمَیِّتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مغیرہ بن ابی بُردہ کنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے پاس ان کی جماعتوں میں تشریف لائے ، آپ ﷺ ان کے لیے دعا فرما رہے تھے ، آپ ﷺ نے ان قبائل میں سے ایک قبیلہ چھوڑ دیا ( اور اس کا نام نہ لیا ) راوی کہتے ہیں کہ بے شک اس قبیلے نے ( آپ ﷺ کی ناراضی محسوس کر کے اپنا محاسبہ کیا تو انھوں نے ) اپنے ایک ( آدمی کے ) پالان کے ( نیچے بچھائے جانے والے ) ٹاٹ میں مال غنیمت میں سے چرایا ہوا ( یمنی سیاہ و سفید ) موتیوں کا ایک ہار پایا ، پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ان پریوں تکبیر کہی جیسے میت پر تکبیر کہا کرتے تھے ۔

983

Muwatta Imam Malik #983

Sahih

[983] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ، عَنْ أبِی الْغَیْثِ سَالِمٍ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ أَ نَّہُ قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ عَامَ خَیْبَرَ، فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَباً وَلاَ وَرِقاً، إِلاَّ الأَمْوَالَ الثِّیَابَ وَالْمَتَاعَ، قَالَ:فَأَہْدَی رِفَاعَۃُ بْنُ زَیْدٍ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ غُلاَماً أَسْوَدَ، یُقَالُ لَہُ مِدْعَمٌ، فَوَجَّہَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِلَی وَادِی الْقُرَی, حَتَّی إِذَا کُنَّا بِوَادِی الْقُرَی، بَیْنَمَا مِدْعَمٌ یَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، إِذْ جَائَ ہُ سَہْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَہُ فَقَتَلَہُ، فَقَالَ النَّاسُ : ہَنِیئاً لَہُ الْجَنَّۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : کَلاَّ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، إِنَّ الشَّمْلَۃَ الَّتِی أَخَذَ یَوْمَ خَیْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ، لَتَشْتَعِلُ عَلَیْہِ نَاراً قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ ذَلِکَ، جَائَ رَجُلٌ بِشِرَاکٍ أَوْ شِرَاکَیْنِ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : شِرَاکٌ، أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خیبر والے سال ( جنگ کے لیے ) نکلے تو ہم نے ( وہاں ) نہ سونا غنیمت میں پایا نہ چاندی ، مگر سامان اور کپڑوں کی صورت میں مال اسباب ( اور جانوروں وغیرہ کو غنیمت میں پایا ) ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( بنو جُذام قبیلہ کی شاخ بنو ضبیب سے تعلق رکھنے والے ) حضرت رفاعہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک سیاہ فام غلام ہدیے میں پیش کیا جسے ’’ مدعم ‘‘ کہا جاتا تھا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے وادی القریٰ کا رخ فرمایا ، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں تھے تو اسی دوران میں کہ مدعم رسول اللہ ﷺ کا پالان ( اونٹ کا کچاوہ ) اتار رہا تھا کہ اچانک ایک نامعلوم تیر آ کر اُسے لگا اور اُس نے اسے مار ڈالا ، لوگ کہنے لگے کہ اسے جنت کی مبارک ہو ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن مال غنیمت سے چوری کر لی تھی ، جسے ابھی تقسیم نہ کیا گیا تھا ، وہ یقیناً اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے ، چنانچہ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یا دو تسمے لے کر آیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( یہ ) ایک یا دو تسمے آگ کے ( تھے ) ۔‘‘

984

Muwatta Imam Malik #984

Sahih

[984] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّہُ قَالَ : مَا ظَہَرَ الْغُلُولُ فِی قَوْمٍ قَطُّ، إِلاَّ أُلْقِیَ فِی قُلُوبِہِمُ الرُّعْبُ، وَلاَ فَشَا الزِّنَا فِی قَوْمٍ قَطُّ، إِلاَّ کَثُرَ فِیہِمُ الْمَوْتُ، وَلاَ نَقَصَ قَوْمٌ الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ، إِلاَّ قُطِعَ عَنْہُمُ الرِّزْقُ، وَلاَ حَکَمَ قَوْمٌ بِغَیْرِ الْحَقِّ، إِلاَّ فَشَا فِیہِمُ الدَّمُ، وَلاَ خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَہْدِ، إِلاَّ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْہِمُ الْعَدُوَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا :’’ جس قوم میں بھی کسی بھی وقت مال غنیمت کی چوری ظاہر ہو جائے تو ضرور ان کے دلوں میں ( دشمن کا ) رعب ڈال دیا جاتا ہے اور جس کسی قوم میں کبھی زنا پھیل جائے تو ضرور ان میں موتوں کی کثرت ہو جاتی ہے ، اور جس کسی قوم نے ماپ اور تول میں کمی کی تو ضرور ان سے رزق منقطع کر دیا جاتا ہے اور جو کوئی قوم ناحق فیصلے کرتی ہے تو ضرور ان میں خون ( اور قتل و غارت کا سلسلہ ) پھیل جاتا ہے ، اور جو کوئی قوم عہد کو توڑ دیتی ہے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان پر دشمن مسلط کر دیتے ہیں ۔