Muwatta Imam Malik #980
[980] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ صَدَرَ مِنْ حُنَیْنٍ وَہُوَ یُرِیدُ الْجِعِرَّانَۃَ سَأَلَہُ النَّاسُ حَتَّی دَنَتْ بِہِ نَاقَتُہُ مِنْ شَجَرَۃٍ، فَتَشَبَّکَتْ بِرِدَائِہِ حَتَّی نَزَعَتْہُ عَنْ ظَہْرِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : رُدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی، أَتَخَافُونَ أَنْ لاَ أَقْسِمَ بَیْنَکُمْ مَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ, وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوْ أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِثْلَ سَمُرِ تِہَامَۃَ نَعَماً، لَقَسَمْتُہُ بَیْنَکُمْ، ثُمَّ لاَ تَجِدُونِی بَخِیلاً وَلاَ جَبَاناً وَلاَ کَذَّاباً فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَامَ فِی النَّاسِ فَقَالَ : أَدُّوا الْخِیَاطَ وَالْمِخْیَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ، وَنَارٌ، وَشَنَارٌ عَلَی أَہْلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ : ثُمَّ تَنَاوَلَ مِنَ الأَرْضِ وَبَرَۃً مِنْ بَعِیرٍ أَوْ شَیْئاً، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ, مَا لِی مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ وَلاَ مِثْلَ ہَذِہِ، إِلاَّ الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ جب حنین سے واپس ہوئے اور آپ ﷺ جعرانہ مقام کا قصد فرما رہے تھے تو ( اعرابی ، بدوی ) لوگ آپ ﷺ سے ( مال وغیرہ ) مانگنے لگے ، یہاں تک کہ ( ان کے ہجوم اور رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے ) آپ ﷺ کی اونٹنی آپ ﷺ کو ( ببول یعنی کیکر کے ) ایک درخت کے قریب لے گئی تو وہ ( درخت اپنے کانٹوں کی وجہ سے ) آپ ﷺ کی چادر مبارک سے الجھ گیا ( اور چادر اس کے کانٹوں میں اٹک گئی ) یہاں تک کہ اس ( درخت ) نے آپ ﷺ کی چادر آپ ﷺ کی کمر مبارک سے اتار دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری چادر مجھے لوٹا دو ، کیا تمھیں یہ خطرہ ہے کہ میں اس ( غنیمت کے ) مال کو تم میں تقسیم نہ کروں گا جو اللہ نے تم پر لوٹایا ( اور تمھیں عطا فرمایا ) ہے ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر اللہ تعالیٰ تمھیں تہامہ کے کانٹے دار درختوں کے برابر اونٹ عطا فرما دے تو میں انھیں تم میں تقسیم کر دوں گا ، پھر تم مجھے ( اس کے بعد بھی ) نہ بخیل پاؤ گے ، نہ بزدل اور نہ کذّاب ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ سواری سے نیچے اترے تو لوگوں میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا :’’ ( مال غنیمت کا ) دھاگہ اور سوئی بھی ادا کرو ۔‘‘ کیونکہ بلاشبہ مال غنیمت کی خیانت قیامت کے دن خیانت کرنے والوں پر عار بھی ہو گی ، آگ بھی اور عیب بھی ۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے زمین سے اونٹ یا بکری کا ایک بال پکڑا ، پھر فرمایا :’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اللہ نے تمھیں جو کچھ ( مال غنیمت ) عطا فرمایا ہے ، میرے لیے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور ( حتی کہ ) اس بال کے برابر بھی نہیں ہے ، سوائے خمس ( پانچویں حصے ) کے اور وہ خمس بھی تم ہی میں لوٹا دیا جانے والا ہے ۔‘‘