Muwatta Imam Malik #976
[976] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أبِی مُحَمَّدٍ مَوْلَی أبِی قَتَادَۃَ، عَنْ أبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ، أَ نَّہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ عَامَ حُنَیْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَیْنَا کَانَتْ لِلْمُسْلِمِینَ جَوْلَۃٌ، قَالَ : فَرَأَیْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِکِینَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ : فَاسْتَدَرْتُ لَہُ حَتَّی أَتَیْتُہُ مِنْ وَرَائِہِ، فَضَرَبْتُہُ بِالسَّیْفِ عَلَی حَبْلِ عَاتِقِہِ، فَأَقْبَلَ عَلَیَّ فَضَمَّنِی ضَمَّۃً وَجَدْتُ مِنْہَا رِیحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَکَہُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِی، قَالَ : فَلَقِیتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : أَمْرُ اللّٰہِ۔، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً، لَہُ عَلَیْہِ بَیِّنَۃٌ، فَلَہُ سَلَبُہُ قَالَ : فَقُمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ : مَنْ یَشْہَدُ لِی، ثُمَّ جَلَسْتُ۔ ثُمَّ قَالَ : مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً، لَہُ عَلَیْہِ بَیِّنَۃٌ، فَلَہُ سَلَبُہُ قَالَ : فَقُمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ مَنْ یَشْہَدُ لِی، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِکَ الثَّالِثَۃَ فَقُمْتُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَا لَکَ یَا أَبَا قَتَادَۃَ قَالَ : فَاقْتَصَصْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَسَلَبُ ذَلِکَ الْقَتِیلِ عِنْدِی، فَأَرْضِہِ مِنْہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : لاَ ہَائَ اللّٰہِ، إِذنْ لاَ یَعْمِدُ إِلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللّٰہِ، یُقَاتِلُ عَنِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ، فَیُعْطِیکَ سَلَبَہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : صَدَقَ فَأَعْطِہِ إِیَّاہُ فَأَعْطَانِیہِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ، فَاشْتَرَیْتُ بِہِ مَخْرَفاً فِی بَنِی سَلِمَۃَ، فَإِنَّہُ لِأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُہُ فِی الإِسْلاَمِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگ حنین والے سال ( آٹھ ہجری ) میں نکلے ، چنانچہ جب ہماری ان ( کافروں ) سے مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں کچھ افراتفری مچ گئی ، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا جو مسلمانوں میں سے ایک شخص پر غالب آ چکا تھا ، وہ کہتے ہیں کہ میں اس کی طرف گھوم گیا ، یہاں تک کہ میں اس کے پیچھے سے آیا اور ( اس کی گردن اور کندھے کے درمیان میں ) اس کے کندھے کی رگ پر میں نے تلوار ماری تو وہ ( دشمن ) میری طرف متوجہ ہو گیا اور اس نے مجھے اس زور سے دبایا کہ اس ( دبانے ) سے میں موت کی خوشبو پانے لگا ( مجھے موت نظر آنے لگی لیکن اتنی دیر میں میری تلوار کے لگے ہوئے کاری وار سے نکلنے والا خون اپنا کام کر گیا اور ) پھر موت نے اسے آ لیا ، سو اُس نے مجھے چھوڑ دیا ، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ ( ان میں افراتفری اور بھگڈر کیوں مچی ہوئی ہے ؟ ) انھوں نے فرمایا کہ یہ اللہ کا امر ہے ، ( تقدیر کا لکھا ہو کر رہتا ہے ، خواہ اس کا سبب ہمارے گناہ ہی ہوں ) پھر بے شک ( جلد ہی ) لوگ واپس لوٹ آئے ۔ ( اور اللہ نے فتح بھی عطا فرما دی اور مال غنیمت بھی اکٹھا ہو گیا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی مقتول ( کافر ) کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس اس کے متعلق کوئی دلیل ہو تو اس سے چھینا ہوا مال اُسی کا ہے ۔‘‘ وہ ( حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ کون میرے حق میں گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، پھر آپ ﷺ نے ( دوبارہ ) فرمایا :’’ جس شخص نے کسی مقتول کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس اس کے متعلق کوئی دلیل ہو تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کا ہے ۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ کون ہے جو میرے حق میں گواہی دے ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، پھر آپ ﷺ نے تیسری بار بھی وہی فرمایا تو میں کھڑا ہو گیا ، رسول اللہ ﷺ ( مجھ سے ) فرمانے لگے کہ ’’ ابوقتادہ ! تمھیں کیا ہو گیا ہے ؟‘‘ میں نے آپ ﷺ کو سارا قصہ سنا دیا ، تو لوگوں میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس نے سچ کہا ہے اور اس مقتول سے چھینا ہوا مال میرے پاس ہے ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! ( وہ مال میرے پاس ہی رہنے دیجیے اور ) اسے اپنی طرف سے ( کچھ اور مال دے کر ) راضی فرما دیجیے تو ( یہ سن کر ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ نہیں ، اللہ کی قسم ! ( ایسا نہیں ہو گا ، اگر اس بہادری کے پیکر نے واقعی اُسے مارا ہے ) تب تو آپ ﷺ کبھی یہ قصد نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر جو اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے لڑتا ہو ( اُسے چھوڑ دیں اور ) پھر تجھے وہ چھینا ہوا مال دے دیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر نے سچ کہا ہے ، لہٰذا تم اس ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) کو وہ مال دے دو ۔‘‘ چنانچہ اس نے مجھے وہ مال دے دیا ، پھر میں نے ( اُس سے ایک ) زرہ کو فروخت کیا تو اس کے بدلے بنوسلمہ کے محلے میں ایک باغ خرید لیا ، پس یقیناً یہ وہ سب سے پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا ۔