Muwatta Imam Malik #970
[970] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی عَامِلِ جَیْشٍ، کَانَ بَعَثَہُ : إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالاً مِنْکُمْ یَطْلُبُونَ الْعِلْجَ، حَتَّی إِذَا أَسْنَدَ فِی الْجَبَلِ وَامْتَنَعَ، قَالَ رَجُلٌ : مَطْرَسْ - یَقُولُ لاَ تَخَفْ -، فَإِذَا أَدْرَکَہُ قَتَلَہُ، وَإِنِّی وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَ أَعْلَمُ مَکَانَ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِکَ، إِلاَّ ضَرَبْتُ عُنُقَہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
اہل کوفہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کے عامل ( امیر ) جسے انھوں نے روانہ فرمایا تھا ، کو لکھا کہ یقیناً مجھے خبر پہنچی ہے کہ بلاشبہ تم میں سے کچھ لوگ کسی عجمی کافر کا تعاقب کرتے ہیں ، ( وہ ہاتھ نہیں آتا ) پھر جب وہ پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اور محفوظ ہو جاتا ہے تو کوئی ( مسلمان ) شخص ( اس سے فارسی زبان میں ) کہتا ہے : مَطْرَس ( مَتْرَس ) یعنی مت ڈر ۔ ( مجھ سے نہ ڈر ، میں تمھیں امان دیتا ہوں ) پھر جب وہ اسے پا لیتا ہے تو ( پناہ دینے کا اقرار توڑ کر اسے ) قتل کر دیتا ہے اور بلاشبہ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں جس کسی کو بھی ایسا کرتے ہوئے جان لوں گا میں ضرور ضرور اس کی گردن مار ڈالوں گا ۔