Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 21 · Chapter 279

جہاد کی کتاب

جنگ میں ( کفار کی ) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے ممانعت کا بیان

4 hadiths in this chapter

966

Muwatta Imam Malik #966

Sahih

[966] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنِ ابْنٍ لِکَعْبِ بْنِ مَالِکٍ - قَالَ : حَسِبْتُ أَ نَّہُ قَالَ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّہُ – قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الَّذِینَ قَتَلُوا ابْنَ أبِی الْحُقَیْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ، قَالَ : فَکَانَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یَقُولُ : بَرَّحَتْ بِنَا امْرَأَۃُ ابْنِ أبِی الْحُقَیْقِ بِالصِّیَاحِ، فَأَرْفَعُ السَّیْفَ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَذْکُرُ نَہْیَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَأَکُفُّ، وَلَوْلاَ ذَلِکَ اسْتَرَحْنَا مِنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جنھوں نے ابن ابی الحقیق کو قتل کیا تھا ، ( آپ ﷺ نے انھیں ) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا ، عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ( مہم پر جانے والے ) ان ( صحابہ رضی اللہ عنہم ) میں سے ایک شخص کہا کرتے تھے کہ ابن ابی الحقیق کی ایک بیوی نے چیخ مار کر ہمارا معاملہ ظاہر کر دیا تھا ، سو میں ( اُسے مارنے کے لیے ) اس پر تلوار اٹھاتا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی ممانعت یاد آ جاتی ، چنانچہ میں رُک جاتا اور اگر یہ ( ممانعت ) نہ ہوتی تو ہم اس ( کو مار کر اس ) سے راحت حاصل کر لیتے ۔

967

Muwatta Imam Malik #967

Sahih

[967] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ [عَنِ ابْنِ عُمَرَ] أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ رَأَی فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ امْرَأَۃً مَقْتُولَۃً، فَأَنْکَرَ ذَلِکَ وَنَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے اپنے غزوات میں سے کسی ( غزوۂ فتح مکہ ) میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو اس کا انکار فرمایا اور عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا ۔

968

Muwatta Imam Malik #968

Zaeef

[968] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ بَعَثَ جُیُوشاً إِلَی الشَّامِ، فَخَرَجَ یَمْشِی مَعَ یَزِیدَ بْنِ أبِی سُفْیَانَ - وَکَانَ أَمِیرَ رَبْعٍ مِنْ تِلْکَ الأَرْبَاعِ فَزَعَمُوا أَنَّ یَزِیدَ قَالَ لأبِی بَکْرٍ : إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ، وَمَا أَنَا بِرَاکِبٍ، إنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : إِنَّکَ سَتَجِدُ قَوْماً زَعَمُوا أَ نَّہُمْ حَبَّسُوا أَ نْفُسَہُمْ لِلَّہِ، فَذَرْہُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ، وَسَتَجِدُ قَوْماً فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُؤُوسِہِمْ مِنَ الشَّعَرِ, فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْہُ بِالسَّیْفِ، وَإِنِّی مُوصِیکَ بِعَشْرٍ: لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَۃً، وَلاَ صَبِیًّا، وَلاَ کَبِیراً ہَرِماً وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَراً مُثْمِراً، وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِراً، وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاۃً وَلاَ بَعِیراً، إِلاَّ لِمَأْکُلَۃٍ، وَلاَ تَحْرِقَنَّ نَحْلاً، وَلاَ تُفَرِّقَنَّہُ، وَلاَ تَغْلُلْ، وَلاَ تَجْبُنْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی طرف لشکر روانہ فرمائے ، پھر خود پیدل چلتے ہوئے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے اور وہ ( حضرت یزید رضی اللہ عنہ ) ان علاقوں سے ایک علاقے کے امیر تھے ، لوگ کہتے ہیں کہ حضرت یزید رضی اللہ عنہ ( جو سواری پر تھے ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگے کہ یا تو آپ بھی سوار ہو جایئے یا پھر میں نیچے اترتا ہوں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہ تم اترو اور نہ میں سوار ہوں گا ، بے شک میں اللہ کی راہ میں اٹھنے والے اپنے ان قدموں سے ثواب کی امید رکھتا ہوں ، پھر انھوں نے ان سے فرمایا : یقیناً تم کچھ ایسے لوگوں ( راہبوں اور درویشوں وغیرہ ) کو پاؤ گے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے روک ( کر خود کو وقف ) کر رکھا ہے ، لہٰذا تم ان کو اور ان کے اس کام ( عبادت و رسوم وغیرہ ) کو چھوڑ دینا جس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے انھوں نے خود کو روک رکھا ہے ( ان سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ لشکر اسلام کے مدمقابل نہیں آتے ) اور یقیناً تم کچھ ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنھوں نے اپنے سروں کے درمیان سے کچھ بال منڈا رکھے ہوں گے ( جو مجوسیوں کی یا عیسائی سرداروں کی علامت تھی ) تو جو انھوں نے منڈا رکھا ہے تم وہاں تلوار مارنا ( اور ان کو قتل کر ڈالنا ) اور بلاشبہ میں تمھیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں : نہ کسی عورت کو قتل کرنا ، نہ کسی بچے کو ، اور نہ کسی بہت زیادہ عمر رسیدہ بوڑھے کو مارنا ، کسی پھلدار درخت کو ہرگز نہ کاٹنا ، کسی بستی کو ہرگز نہ اجاڑنا ، نہ کسی بکری کی اور نہ کسی اونٹ کی پچھلی ٹانگیں کاٹنا ( یعنی جانور بھی قتل نہ کرنا ) سوائے ( اس کے کہ تم ) کھانے کے لیے ( انھیں ذبح کر سکتے ہو ) اور شہد کی مکھیوں کو ہرگز نہ جلانا ، نہ انھیں اڑا کر متفرق کرنا ، نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا ۔

969

Muwatta Imam Malik #969

Zaeef

[969] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إِلَی عَامِلٍ مِنْ عُمَّالِہِ : أَ نَّہُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً یَقُولُ لَہُمُ: اغْزُوا بِاسْمِ اللّٰہِ، فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، تُقَاتِلُونَ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، لاَ تَغُلُّوا، وَلاَ تَغْدِرُوا، وَلاَ تُمَثِّلُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیداً وَقُلْ ذَلِکَ لِجُیُوشِکَ وَسَرَایَاکَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عاملوں ( گورنروں ، سرکاری عہدیداروں ) میں سے ایک عامل کی طرف لکھا کہ بلاشبہ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ جب کسی دستے کو روانہ کرنے لگتے تو ان سے فرماتے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑائی کے لیے نکلو ، تم ہر اس شخص سے لڑو جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ، نہ مال غنیمت میں خیانت کرو ، نہ عہد شکنی کرو ، نہ مُثلہ کرو ( لاشوں کے ناک کان وغیرہ نہ کاٹو ) اور نہ کسی بچے کو قتل کرو اور نہ کسی عورت کو ۔‘‘ اور تم اپنے تمام لشکروں اور دستوں سے یہ باتیں کہہ دینا ، ان شاء اللہ ۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ ۔